اس تحریک نے مئی 2026 میں دیکھتے ہی دیکھتے سوشل میڈیا پر تہلکہ مچا دیا اور اس کے فالوورز کی تعداد چند ہی دنوں میں لاکھوں سے بڑھ کر کروڑوں تک پہنچ گئی۔
اس منفرد اور انوکھی تحریک کا پس منظر بھارتی عدلیہ کے ایک ریمارکس سے جڑا ہے۔
Author: ایڈیٹر
ادھر ضلع چاغی میں پولیس حکام کے مطابق نامعلوم مسلح افراد نے چہتر کے مقام پر حملہ کرکے آئل ٹینکروں کو نقصان پہنچایا۔
ادھر ضلع نصیر آباد کے علاقے ڈیرہ مراد جمالی میں بم کے ایک دھماکے میں تین پولیس اہلکاروں سمیت چھ افراد زخمی ہو گئے۔
غیر ابلاغی ہونا کوئی عیب نہیں بلکہ ایسی کیفیت ہے جو کسی پر بھی آ سکتی ہے۔ ایسے بھی مہربان ہیں جو کسی بھی نئی تحریر کے پیج پر نمودار ہونے کے صرف پانچ سیکنڈ کے اندر اندر لائک کا بٹن دبا کے نہ صرف اس تحریر کو پورا اور دھیان سے پڑھنے کے عذاب سے خود کو بچا لیتے ہیں بلکہ صرف ٹائیٹل یا نام دیکھ کے فی سبیل اللہ آگے بڑھا دیتے ہیں:
عبداللہ حسین نے ٹھیک کہا تھا، کہانیوں میں وہ باتیں بھی ہوتی ہیں جو بیان ہو سکتی ہیں اور ایسا بہت کچھ بھی ہوتا ہے، جو کہا نہیں جا سکتا۔
انھوں نے الزام عائد کیا کہ مومنہ اقبال کا رشتہ طے ہونے کے بعد ایم پی اے نے انھیں ہراساں کرنا شروع کیا اور اپنے اثر و رسوخ کا استعمال کرتے ہوئے اداکارہ کے ہونے والے شوہر کے خلاف ایک بے بنیاد مقدمہ بھی درج کروایا۔
اب غیرجانبدار لوگ بھارت کی جمہوریت اور پریس فریڈم کے بارے میں سوال اٹھا رہے ہیں اور مودی سرکار اپنے انتہا پسند سوشل میڈیا ٹرولز کے ذریعے ایک چھوٹے ملک ناروے کی صحافی کو ہراساں کرکے اپنی بے بسی کو چھپانے کوشش کررہی ہے۔
’’ترقی پسندی‘‘ کے سب سے بڑے نمائندے -فیض احمد فیض بھی اپنے قبیلے کے دباؤ میں آکر عدالت میں یہ بیان دینے کو مجبور ہوئے کہ منٹو کے افسانے میں چند سطریں فحش شمار کی جاسکتی ہیں۔
ملزمہ انمول عرف پنکی کو 3 روز کے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا گیا، ملزمہ کو کراچی کی جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں درخشاں تھانےکے پانچ اور گزری تھانےکے تین مقدمات میں پیش کیا گیا تھا، ملزمہ اس سے قبل قتل اور منشیات برآمدگی کیسز میں پہلے ہی 22 مئی تک کے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں ہے۔
پولیس کے مطابق ثنا یوسف کو دو جون سنہ 2025 کو قتل کیا گیا، جس کے دو روز بعد ملزم عمر حیات کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔
پولیس نے اس کیس میں آلہ قتل کے علاوہ ملزم سے ثنا یوسف کا آئی فون برآمد کرنے کا بھی دعویٰ کیا تھا جسے اس کیس میں اہم ثبوت سمجھا گیا، جبکہ پراسیکیوشن نے دو چشم دید گواہان کے بیانات بھی عدالت میں قلمبند کروائے جن میں ثنا یوسف کی والدہ اور پھپھو شامل تھیں۔
Discover the best betting sites UK players trust for easy gameplay, clear navigation, and top reviews on casino games, slots, and crash betting.
