انھوں بتایا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں ’اچھی پیش رفت‘ ہو رہی ہے: ’یہ یا تو سب کے لیے ایک عظیم معاہدہ ہوگا یا پھر کوئی معاہدہ ہوگا ہی نہیں اور پھر دوبارہ محاذِ جنگ اور فائرنگ کی طرف واپسی ہو گی، لیکن پہلے سے بھی زیادہ بڑی اور طاقتوراور کوئی بھی ایسا نہیں چاہتا۔‘
Author: ایڈیٹر
تہران میں سخت گیر ملا رجیم بدستور موجود ہے اور شدید مالی مشکلات کے باوجود اس بات کا امکان دکھائی نہیں دیتا کہ جنگ یا اس کے خاتمہ سے یہ حکومت ختم ہوجائے گی اور ایرانی سیاست ایرانی عوام کی خواہشات کے مطابق طے پاسکے گی۔ ایران کے عوام پہلے سے زیادہ غریب اور کرب کا شکار ہوں گے
ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکہ خیز مواد سے بھری ایک گاڑی ٹرین کی ایک بوگی سے ٹکرائی، جس کے نتیجے میں زور دار دھماکہ ہوا۔
محکمہ داخلہ بلوچستان کے معاون برائے میڈیا بابریوسفزئی نے بازیابی کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ چاروں افراد ضلع مستونگ کے علاقے کردگاپ سے بازیاب ہو گئے ہیں تاہم انھوں نے اس حوالے سے زیادہ تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے دھماکے کی ذمے داری قبول کی ہے۔ تنظیم کے ترجمان کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ’کوئٹہ کینٹ سے فوجی اہلکاروں کو لے کر آنے والی ٹرین کو نشانہ بنایا گیا۔‘
مودی سوالوں کا جواب کیوں نہیں دیتے‘ والا سوال ، ایک ایسا ہتھوڑا ثابت ہؤا کہ بھارت میں تمام انتہاپسند عناصر اس کی ضرب سے تلملا رہے ہیں۔ اب ایک غیر متعلقہ مضمون اور اس میں شامل ہونے والے کارٹون کو بنیاد بنا کر بھارتی عوام کو یہ پیغام دینے کی کوشش کی جارہی ہے کہ ناروے میں بھارت میں انسانی حقوق کے بارے میں کیے جانے والے سوال درحقیقت سفید فام اور نوآبادیت کی ذہنیت کا عکاس ہیں۔
سرکاری حکام کے مطابق مارے جانے والے افراد کی شناخت فنانس آفیسر فرید اللہ شاہ اور ان کے بھائی انعام اللہ شاہ کے ناموں سے ہوئی۔ انعام اللہ شاہ وزیر اعلیٰ سیکریٹریٹ کے ملازم تھے۔
اس حملے کے محرکات تاحال معلوم نہیں ہو سکے۔
یاد رہےکہ حکومت نے گزشتہ جمعے بھی پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں 5 روپے فی لیٹر کمی کا اعلان کیا تھا۔اس طرح ایک ہفتے میں مجموعی طور پر گیارہ روپے کی کمی کی گئی ۔
سینیئر سرکاری اہلکار کے مطابق مغوی آفیسر اور اہلکار کی بازیابی کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ تاحال سرکاری سطح پر اس حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔
بلوچستان میں گذشتہ چند دنوں سے قومی شاہراہوں پر معدنیات لے جانے والے گاڑیوں پر حملوں اور اغوا کے واقعات میں اضافہ سامنے آیا ہے۔ گذشتہ شب ضلع زیارت میں مانگی کے علاقے سے پولیس کے ایک ایس ایچ او سمیت تین افراد کو اغوا کرلیا گیا۔
ضلع کرم سے یہ اطلاع بدھ کے روز سامنے آئی تھی کہ وسطی کرم کے علاقے مناتو میں دو شدت پسندوں گروہوں کے درمیان جھڑپ میں 18 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
مقامی پولیس ذرائع نے اس واقعے کی تصدیق کی ہے۔ اس جھڑپ کے بارے میں مزید بتایا گیا کہ یہ شدت پسندوں کے دو مقامی اور ذیلی گروہوں ’کاظم گروپ‘ اور ’امتی گروپ‘ کے درمیان ہوئی جس میں مبینہ طور پر امتی گروپ کے کمانڈر ممتاز سمیت 18 افراد ہلاک اور کچھ زخمی ہوئے ہیں۔
مقامی ذرائع کے مطابق امتی گروپ کا تعلق جماعت الاحرار سے ہے۔ یہ بھی بتایا گیا کہ امتی گروپ کے شدت پسندوں پر گھات لگا کر حملہ کیا گیا جس میں بڑا جانی نقصان ہوا۔
