اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کو مکمل طور سے نیست و نابود کردینے کی دھمکی دی ہے مگر ساتھ ہی دعویٰ کیا ہے کہ ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے اور امریکہ کے مڈ ٹرم انتخابات کے بعد معاہدہ ہوجائے گا۔ اس تقریر کا جو بھی مقصد ہو لیکن دنیا میں باہمی احترام اور امن کے لیے قائم ایک ادارے کے پلیٹ فارم سے ایک رکن ملک کو آئیندہ نسلوں کے لیے تباہ کرنے کی دھمکی ’زبانی دہشت گردی‘ کا بدترین نمونہ ہے۔
ہونا تو یہ چاہئے کہ اقوام متحدہ کے باقی رکن ممالک کی طرف سے دنیا میں امن کی اس امید یعنی اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم کو ناجائز اور غلط طور سے استعمال کرنے پر مذمتی بیانات جاری ہوں اور جنرل اسمبلی سے خطاب کرنے والے باقی ماندہ لیڈر اس طرز عمل کو امن کے لیے خطرے کے طور پر پیش کریں۔ ٹرمپ کتنے ہی منہ پھٹ اور ناقابل اعتبار شخص ہوں اور وہ کتنے ہی بڑے ملک کے صدر کیوں نہ ہوں، اقوام متحدہ اور اس کے رکن ارکان کو کسی بھی لیڈر کو باہمی تعلقات کے حوالے سے غیر ذمہ دارانہ اور اشتعال انگیز بیانات کا تبادلہ کرنے سے گریز کرنا چاہئے۔ اس وقت ایران کے ساتھ تنازعہ میں امریکہ اور صدر ٹرمپ کو جن مشکلات کا سامنا ہے وہ خود ان کا اپنا کیا دھرا ہے۔
ٹرمپ ہی نے اپنے گزشتہ دور حکومت میں ایران کے ساتھ 2015 میں بہت محنت کے بعد طے پانے والے جوہری معاہدے کو ختم کرنے کا اعلان کرکے درحقیقت ایران کو یورینیم افزودہ کرنے کی آزادی دی۔ اور دنیا کے لیے خطرات میں اضافہ کیا۔ اس کے بعد اس سال کے شروع میں عمان کی معاونت سے امریکہ اور ایران کے درمیان جوہری پروگرام کو کنٹرول کرنے کے معاملہ پر کامیاب بات چیت ہوئی۔ عمان اور ایران نے بیک وقت یہ اشارے دیے کہ بات چیت انتہائی اطمینان بخش طریقے سے کامیابی کی طرف بڑھ رہی ہے اور جلد ہی کوئی معاہدہ ہوجائے گا۔ اب صدر ٹرمپ ایران کی جوہری صلاحیت ختم کرنے کا جو دعویٰ کررہے ہیں، درحقیقت وہ مقصد تو مذاکرات کی میز پر حاصل ہوچکا تھا۔ لیکن فروری میں ایران پر حملہ کرکے نہ صرف ایران کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں بے یقینی میں اضافہ ہؤا بلکہ اب آبنائے ہرمز پر ایرانی کنٹرول کے نتیجے میں دنیا کی معیشت لرزہ براندام ہے۔ ٹرمپ خواہ ایرانی ایٹمی پرگرام تباہ کردینے اور کبھی بھی ایران کو جوہری ہتھیار بنانے کی اجازت نہ دینے کا اعلان کرتے رہیں ، حقیقت مگر یہی ہے کہ اس وقت امریکہ اور دنیا کو مشکل سے نکالنے کے لیے ایران کے ساتھ آبنائے ہرمز کھلا رکھنے کا معاہدہ زیادہ ضروری ہے۔ بصورت دیگر اب ایران میں بھی یہ مباحث شروع ہوچکے ہیں کہ کیا اسے جوہری پروگرام پر پابندی قبو ل کرلینی چاہیے۔ گزشتہ سات ماہ کی جنگ جوئی اور دباؤ و دھمکیوں کے بعد امریکی حکومت کو اندازہ ہوچکا ہے کہ ایران کو تباہ کردینے اور وہاں اپنی مرضی مسلط کرنے کا دعویٰ کرنا آسان ہے لیکن ایران کے ساتھ کوئی قابل عمل سمجھوتہ کرنا نہایت مشکل اور پیچیدہ معاملہ ہے۔ ٹرمپ کے اشتعال انگیز بیانات اس مسئلہ کو حل کرنے کی بجائے مزید الجھانے کا سبب بن رہے ہیں۔
اب تو معاملہ صرف آبنائے ہرمز تک ہی محدود نہیں رہا بلکہ یمن میں ایران کی حمایت کرنے والے حوثی جنگجوؤں نے یمن کی سرکاری افواج کو پسپا کرکے متعدد ساحلی شہروں پر قبضہ کرلیا ہے۔ اب حوثی اس بحری راستے سے سعودی تیل کی فراہمی روکنے کا دعویٰ بھی کررہے ہیں۔ اگرچہ حوثیوں نے فی الوقت باقی دنیا کے بحری جہازوں پر پابندی کا اعلان نہیں کیا لیکن اس کا فیصلہ تہران حکومت کے ہاتھوں میں ہے۔ امریکہ کی دکھتی رگ دبانے کے لیے ایرانی لیڈر آبنائے ہرمز کے ساتھ باب المندب کو بے یقینی کا شکار کرنےکی صلاحیت بھی حاصل کرچکے ہیں۔ حوثیوں کے معاملے میں صدر ٹرمپ کا رویہ درحقیقت کسی شکست خوردہ لیڈر کا طرز عمل تھا۔ دہائیوں سے امریکہ کا صف اوّل کا حلیف رہنے اور کھربوں ڈالر کا امریکی سلحہ خریدنے کے باوجود اپنے اس دوست ملک سعودی عرب کی حمایت میں حوثیوں پر بمباری کرنے اور ان کا راستہ روکنے کی بجائے، ٹرمپ نے اعلان کیاکہ ’حوثی ہم سے رابطے میں ہیں، ہم ان سے بات چیت کررہے ہیں۔ وہ امریکہ سے لڑنا نہیں چاہتے‘۔ یہ کیسی صلح جوئی ہے کہ ایک فریق امریکہ کے قریب ترین حلیف کے گرد حلقہ تنگ کررہا ہے اور اس کی تیل برآمدات کو منجمد کرایا جاچکا ہے لیکن امریکی صدر اس کے لیے خوشگوار الفاظ استعمال کرکے ’خیر سگالی‘ کا مظاہرہ کررہا ہے۔
یہ خیرسگالی درحقیقت ایر ان کو دکھانے کی کوشش کی جارہی تھی کہ اگر وہ آبنائے ہرمز پر امریکہ کو کچھ رعایت دے کر دنیا میں اس کی عزت خاک میں لانے سے گریز کرے تو امریکہ ، یمن کے معاملہ میں براہ راست ملوث نہیں ہوگا۔ صدر ٹرمپ یہ جاننے میں بھی ناکام رہے ہیں کہ ایرانی لیڈر اس قسم کی طفل تسلیوں سے جھانسے میں نہیں آتے۔ بلکہ ایران نے پاکستان اور قطر کے توسط سے امریکہ کو مذاکرات شروع کرنے کی جو نئی شرائط بھیجی ہیں، وہ خود ایرانی ذرائع کے مطابق پہلے سے زیادہ سخت ہیں۔ اس سے پہلے ’اعلان اسلام آباد‘ کے نام سے طے والے معاہدہ میں بھی امریکہ شکست خوردہ ہی دکھائی دیتا تھا ۔ البتہ ایران کے حقیقی حکمرانوں، پاسداران انقلاب نے اس کا احترام کرنا بھی ضروری نہیں سمجھا اور آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کو نشانہ بنا کر ایک بار پھر جنگ کا آغاز کیا۔
امریکہ، ایران کو دنیا بھر میں تنہا کرنا چاہتا ہے تاکہ وہ دباؤ میں آکر امریکہ کے ساتھ کوئی معاہدہ کرلے اور ٹرمپ اپنی فتح کا اعلان کرکے اس ’کمبل‘ سے جان چھڑا سکیں۔ اسی لیے اب دنیا بھر کی فضاؤں کو ایرانی جہازوں کے لئے بند کرنے کا اعلان کیا جارہا ہے ۔ لیکن بظاہر یہ ہتھکنڈے بھی کامیاب نہیں ہوں گے کیوں کہ ایران کو تنہا کرکے وہاں فیصلہ کرنے والے عناصر کو زیادہ قوت فراہم کی جارہی ہے۔ اس طرح پاسداران کی سخت گیری میں اضافہ ہوتا ہے، سیاسی لیڈر مزید غیر مؤثر ہورہے ہیں اور ایرانی عوام کے لیے زندگی اجیرن بنتی جارہی ہے۔ ایران کے لوگوں کو یقیناً پاسداران کے ذریعے ہی مہنگائی، احتیاج اور تباہی کا سامنا ہے لیکن اس کا سبب امریکہ بنا ہے جس نے مذاکرات کا راستہ ترک کرکے جنگ کا آپشن استعمال کیا اور اب مذاکرات کے لیے دباؤ ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ صدر ٹرمپ یہ سمجھنے سے قاصر دکھائی دیتے ہیں کہ اپنے بیانات اور اقدامات کے سبب وہ خود کو ناقابل اعتبار لیڈر کے طور پرپیش کررہے ہیں۔ یہی وجہ ہےکہ ایران کے بحران میں امریکہ کے قریب ترین حلیفوں نے بھی ان کا ساتھ نہیں دیا۔ اور ایران بھی امریکی صدر کی کسی بات پر اعتبار کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔
صدر ٹرمپ کے غلط فیصلوں کی وجہ سے ایران تباہ ہونے کے باوجود مشرق وسطیٰ میں ایک ناگزیر مگر ناقابل اعتبار قوت کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔ اس نے واضح کیا ہے کہ وہ ہر طرح کی تباہی اور معاشی دباؤ کے باوجود چند میزائیلوں سے عرب ممالک میں اہداف کو نشانہ بنا کر دنیا بھر کی معیشت کو متاثر کر سکتا ہے۔ امریکہ پورے مشرق وسطیٰ میں اپنی عسکری موجودگی اور دنیا کی سپر پاور ہونے کے باوجود میزائل اور ڈرون چلانے کی ایرانی صلاحیت ختم نہیں کرسکا۔ اب یہ واضح ہوچکا ہے کہ ایران جب تک چند میزائیلوں کے بل بوتے پر آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمد و رفت اور عرب ممالک میں تنصیبات کو نشانہ بنا سکتا ہے ، اس وقت تک ایران کو جنگ کی دھمکیاں دے کر آگے بڑھنا ممکن نہیں ہے۔
مذاکرات ہی اس مشکل سے نکلنے کا واحد راستہ ہیں۔ پاکستان ، قطر اور دیگر ممالک نے اب بھی تہران کے ساتھ ایسا سفارتی تعلق قائم رکھا ہؤا ہے کہ اسے استعمال کرتے ہوئے امریکہ ایران کے ساتھ کسی فیصلہ کن معاہدے تک پہنچ سکتا ہے۔ تاہم اس کے لیے امریکہ کو جنگ کے آپشن سے دست بردار ہونا پڑے گا اور صدق دل سے امن کے لیے بات چیت کو آگے بڑھانا ہوگا۔
( بشکریہ :کاروان ۔۔ ناروے )
امن کے پلیٹ فارم سے ایران کو نیست و نابود کرنے کی دھمکی : سید مجاہد علی کا تجزیہ
ایڈیٹر5 Views

