پاکستان کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ آبادی دنیا میں پانچویں اور معیشت 40 ویں نمبر پر ہے۔ انسانی ترقی میں پاکستان 193 ملکوں میں 168 ویں نمبر پر ہے۔ 1574 ڈالر فی کس آمدنی کے ساتھ پاکستان 145 ممالک میں 121 ویں نمبر پر ہے۔
Author: ایڈیٹر
گزشتہ کئی سالوں سے ڈیمنشیا کی وجہ سے انہوں نے مشاعروں میں جانا تقریباً بند کر دیا تھا۔ ان سے ملنے آنے والے لوگوں کو وہ پہچان بھی نہیں سکتے تھے۔ بشیر صاحب اپنی یادداشت کھو چکے تھے۔
اس سے قبل پیر کے روز بھی امریکہ نے جنوبی ایران میں حملے کیے تھے اور ایران کے میزائل اڈوں سمیت ان کشتیوں کو نشانہ بنایا تھا جو امریکی فوج کے مطابق سمندر میں بارودی سرنگیں بچھانے کی کوشش کر رہی تھیں۔
اردو اخبارات میں ایسا کیا انوکھا پن ہے کہ کوئی پڑھے۔ خبریں انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا سے مل جاتی ہیں۔ اشتہارات سے عام قاری کو کیا غرض۔ میگزین صفحات کم یا ختم ہوچکے ہیں۔ خیر، ان میں بھی کیا ہوتا ہے۔ پٹے ہوئے موضوعات پر پھسپھسے مضامین۔ آپ لکھنے والے کو پیسے نہیں دیں گے تو وہ شوقیہ چاند ماری کرے گا۔ اس پر تو ایسا ہی مال ملے گا۔ ان سے بہتر مواد بی بی سی اور دوسری نیوز ویب سائٹس پر مل جاتا ہے۔
صدر ٹرمپ اور سینیٹر لنزے گراہم نے تاثر دیا ہے پاکستان، سعودی عرب اور قطر وغیرہ نے ایران امن معاہدہ کے بعد اگر ابراہم معاہدہ کے…
سعودی محکمہ موسمیات کے مطابق منیٰ اور عرفات میں موسم شدید گرم ہے،یومِ عرفہ پر بھی درجہ حرارت تقریباً 45 ڈگری تھا ۔
سعودی حکام نے ججاج کرام کی سہولت کے لیے مقدس مقامات پر سایہ دار جگہوں، مسٹ فین اور طبی سہولیات میں اضافہ کردیا ہے، اور عازمین کو زیادہ مقدار میں پانی کا استعمال کرنے اور ہدایات پر عمل کرنے کی اپیل کی ہے۔
معاہدہ ابراہیمی کی بات کرنا ایک سیاسی مؤقف ضرور ہے لیکن صدر ٹرمپ اس مؤقف کو معروضی و زمینی حقائق کے ساتھ مربوط کرنے کے لیے، اسرائیل کو اپنی عالمی ذمہ داریاں قبول کرنے پر مجبور کریں۔ اگر ٹرمپ یا امریکہ یہ کام کرنے سے قاصر ہے تو وہ علاقے کے ممالک سے مطالبہ نہیں کرسکتا کہ اسرائیل کو تسلیم کیا جائے۔بنیادی مسائل حل کیے بغیر اسرائیل کے لیے مشرق وسطیٰ میں کوئی احترام پیدا نہیں ہوسکتا۔
مارچ 2026ء سے قبل دنیا کی واحد سپرطاقت ہونے کا دعوے دار امریکہ خلیجی ممالک سے بھیجے تیل کی ترسیل کے نظام کا یک وتنہا ضامن تھا۔ اسی باعث بحرین وقطر میں امریکہ کو فوجی اڈے فراہم ہوئے تھے۔ خلیجی ممالک کے دفاع کو یقینی بنانے کے لئے امریکہ اور اس کے اتحادیوں سے گزشتہ کئی دہائیوں سے اربوں ڈالر کا جدید ترین اسلحہ بھی خریدا جارہا ہے جو اب کام آتا نظر نہیں آرہا۔
پھر تھوڑی دور جا کر رکے ۔ تھرمس کا ڈھکن کھولا اس میں سے قلفی باہر نکالی اور اپنا مشہور زمانہ ‘سٹیپ’ دہرانے سے پہلے قلفی پر ایک بڑا سا چک مارا۔ ۔پھر مولانا کی طرف دیکھتے ہوئے اونچی آواز میں بولے۔ بجلی بھری ہے میرے انگ انگ میں !
مکمل کالم پڑھنے کے لیے پہلے کمینٹ میں دیا گیا لنک کھولیں
پیر سپاہی بلاشبہ ملتان کا دلچسپ کردار تھا جس کے پاس میری نانی اماں بھی اپنے ہاتھ کے شوگر زدہ زخم پر دم کرانے کوٹ ادو سے ملتان آئی تھیں۔ ٹھیک تو خیر کیا ہونا تھا ان کی تشخیص بھی بعد میں ہوئی تھی۔ یہ تو بعد میں پتہ چلا کہ پیر سپاہی بھی ضیائی کرشمہ تھا۔رضی کا پیر سپاہی کی کہانی کو ‘توڑ’ (آخر) تک پہنچانا ، ان کا صحافیانہ انداز ہے۔
