فرانس کی علامتی شانزے لیزے سڑک پر فرانسیسی ٹیم کی پنالٹی شوٹ آؤٹ میں جیت کے فوراً بعد شائقین کا ہجوم امڈ آیا۔
شہر سے موصول ہونے والی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ شعلہ بردار روشنیاں جلائی جا رہی ہیں، سڑکوں پر برقی موٹر سائیکلیں جل رہی ہیں اور جشن منانے والے کم از کم ایک دکان کے شیشے توڑ رہے ہیں۔
Author: ایڈیٹر
امریکہ ایران کا بلاکیڈ ختم کرنے اور جوہری ہتھیاروں پر حتمی معاہدے کے لیے دوسرے مرحلے میں اتفاق رائے پر بھی راضی ہے۔ اس کے باوجود تہران کی طرف سے مسلسل یہ تاثر دینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ اس کے جوہری ہتھیاروں کا معاملہ موضوع بحث ہی نہیں۔ حالانکہ یہ سارا تنازعہ ایران کے جوہری پروگرام ہی کی وجہ سے شروع ہؤا تھا
خیال رہےکہ پاکستان ٹیم نے آج ون ڈے کرکٹ میں ایک نئی تاریخ رقم کی ہے، پاکستان ایک ہزار ون ڈے میچز کھیلنے والی دنیا کی تیسری ٹیم بن گئی ہے۔ اس سے قبل آسٹریلیا اور بھارت ایک ہزار ون ڈے میچز مکمل کرچکے ہیں۔
70کی دہائی تک شاید کسی کو سہراب گوٹھ کا پتا تک نہ ہو مگر سپر ہائی وے جہاں سے شروع اور جہاں ختم ہوتی ہے کراچی سے جانے اور پہنچنے تک وہ 80کی دہائی میں اسلحہ اور ڈرگ کا سب سے بڑا اڈہ بن گئی جہاں سے کراچی میں اس کی سپلائی شروع ہوئی اور پھر شہر خون آلود ہوگیا۔
پاکستان میں آئندہ کئی نسلوں تک اسی طبقے کی ذریات حکومت کریں گی جس نے ہماری آنکھوں میں دھول جھونک کر ایسے وسائل جمع کر لیے ہیں کہ وہ اپنے بچوں کو بیرون ملک تعلیم دلا سکتے ہیں۔ ان بچوں کی بڑی تعداد پاکستان واپس نہیں آئے گی۔ جو تھوڑے بہت یہاں لوٹیں گے انہیں محمد شعیب، معین قریشی، شوکت عزیز اور باقر رضا جیسے موسمی پرندوں میں شمار کیجیے۔
ڈی پی او کے مطابق چونکہ ملزم مقتولہ کے شوہر تھے، اس لیے ڈی این اے ٹیسٹ کو اس کیس میں ضروری نہیں سمجھا گیا۔
انھوں نے بتایا کہ پولیس نے مقدمہ درج کرنے میں تاخیر پر متعلقہ تھانے کے ایس ایچ اوز کے خلاف مقدمہ درج کر کے انھیں حوالات میں بند کیا گیا جبکہ سب ڈویژنل پولیس افسر کو بھی معطل کر دیا گیا۔
یہ طے نہیں کرپارہا کہ امریکہ اور ایران مک مکا کی جانب بڑھ رہے ہیں یا جنگ کے ایک رائونڈ کا آغاز ہوچکا ہے۔ ذہن میں موجود کنفیوڑن سے شرمندہ ہوں کر ہذیانی کیفیت میں مبتلا ہوا یہ کالم گھسیٹ مارا ہے۔ کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی۔
بہتر ہوگا کہ صدر ٹرمپ اور تہران کے لیڈر اب دھمکیوں کی زبان استعمال کرنا بند کریں اور ہوشمندی سے ایک ایسے تنازعہ کو ختم کرنے پر اتفا ق کریں جس سے دنیا کا ہر ملک اور ہر فرد عاجز ہے۔
جمعرات کی شام نائب امریکی صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ مذاکرات کار معاہدے میں استعمال کی جانے والی ’زبان پر بات کر رہے ہیں‘ جس میں ’افزودگی کا سوال‘ بھی شامل ہے۔
ماہرین کی ’تحقیق‘ یہ بھی تھی کہ اسے بہت زیادہ چمک والے جوتے نہیں پہننے چاہئیں کیونکہ ایسے جوتے مہنگے وکلا اور بینکرز پہنتے ہیں سو جوتوں کی چمک کچھ کم ہونی چاہیے مگر اتنی کم بھی نہ ہو کہ اشرافیہ اسے گھٹیا سمجھے اور اتنی زیادہ بھی نہ ہو کہ عام بندہ اسے اشرافیہ میں سے سمجھے سو اُس کی ٹیم نے ’مناسب چمک‘ کا معیار طے کرنے کے لیے ایک کنسلٹنٹ کو 7300 ڈالر دیے اور یقینی بنایا کہ وہ انتخابی مہم کے دوران اس طرح کے جوتے پہنے۔مکمل کالم پڑھنے کے لیے پہلے کمینٹ میں موجود لنک کھولیں ۔
