قلات : بلوچستان کے ضلع قلات سے ایئرپورٹ سکیورٹی فورس کے ایک سینیئر افسر سمیت دو اہلکاروں کو مبینہ طور پر اغوا کر لیا گیا ہے۔
قلات میں ایک سینیئر سرکاری اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ژوب میں تعینات ایئرپورٹ سکیورٹی فورس کے ڈپٹی ڈائریکٹر محمد وسیم اپنے باورچی کے ہمراہ 20 مئی کو ژوب سے کوئٹہ پہنچے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ کوئٹہ سے وہ ایک کرائے کی گاڑی میں کراچی کے لیے روانہ ہوئے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ جب وہ قلات پہنچے تو ’نامعلوم مسلح افراد نے ایئرپورٹ سکیورٹی فورس کے ڈپٹی ڈائریکٹر اور ان کے باورچی کو اغوا کر کے نامعلوم مقام کی جانب لے گئے‘ جبکہ گاڑی میں سوار ایک مسافر اور ڈرائیور کو چھوڑ دیا۔
سینیئر سرکاری اہلکار کے مطابق مغوی آفیسر اور اہلکار کی بازیابی کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ تاحال سرکاری سطح پر اس حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔
بلوچستان میں گذشتہ چند دنوں سے قومی شاہراہوں پر معدنیات لے جانے والے گاڑیوں پر حملوں اور اغوا کے واقعات میں اضافہ سامنے آیا ہے۔ گذشتہ شب ضلع زیارت میں مانگی کے علاقے سے پولیس کے ایک ایس ایچ او سمیت تین افراد کو اغوا کرلیا گیا۔
13مئی کو کوئٹہ کراچی شاہراہ پر ضلع مستونگ کے علاقے کھڈ کھوچہ سے گوادر یونیورسٹی کے وائس چانسلر، پرو وائس چانسلر اور پرسنل سٹاف آفیسر اور ڈرائیور کو اغوا کرلیا گیا تھاُ۔ دس روز گزرنے کے باوجود تاحال گوادر یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور دیگر اہلکاروں کی بازیابی ممکن نہیں ہوئی۔
ہفتہ, اکتوبر 24, 2026
تازہ خبریں:
- انجینئر ممتاز احمد خان کا ’’ ممتاز نامہ ‘‘ زندگی کا سفر اور قومی شعور کی دستاویز : صائمہ نورین بخاری کا کتاب کالم
- لہندا زبان ہے یا بولی ؟ زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- فضول خرچ بیٹے کی تمثیل :زبانِ خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- خیبر پختونخوا۔۔ پی ٹی آئی ارکان کو ’’ونڈر بوائے‘‘ کی تلاش : نصرت جاوید کا کالم
- جوتے چومنے کی سزا جوتے چاٹ کر دینے کا حکم: مظفر گڑھ میں پنچایت کا فیصلہ ، چار افراد گرفتار
- مولانا اور خان ۔۔ قربتوں اور دوریوں کی داستان : حامد میر کا کالم
- سعودی عرب کے دمام ایئرپورٹ اور آرامکو آئل فیلڈ پر حملے 3 افراد ہلاک 10 زخمی
- پولیس حراست میں ملزم کی ہلاکت قومی انحطاط کی علامت : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- ملتان : یتیم بچےکو کارسےکچلنے والا ملزم تو قیر مبینہ پولیس مقابلے میں مارا گیا۔
- لنگوئسٹک سروے آف انڈیا کا ایک طائرانہ جائزہ اور لہندا پنجابی تنازعہ : زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم

