Author: ایڈیٹر

ڈاکٹر صاحبزادہ جواد الفیضی کی یہ کاوش بلاشبہ ایک ایسا ادبی شاہکار ثابت ہو گی جو قارئین کے ذوق مطالعہ کی تسکین کے ساتھ ساتھ مستقبل کے مسافروں اور قلم کاروں کے لیے بھی تخلیقی رہنمائی کا ایک مستقل سرچشمہ بنی رہے گی۔

فقہی اصول کے مطابق انسانی اعضا اور بافتوں کی خرید و فروخت عام حالات میں جائز نہیں سمجھی جاتی۔ البتہ اگر جان بچانے یا شدید بیماری کے علاج کے لیے کوئی ناگزیر طبی ضرورت ہو اور اس کا متبادل موجود نہ ہو تو بعض فقہا نے ضرورت کے اصول کے تحت محدود گنجائش بیان کی ہے۔ اسی لیے انسانی پلیسینٹا کا معاملہ صرف طب کا نہیں بلکہ اخلاقیات، قانون اور شریعت کا بھی موضوع ہے۔

کاکروچ جنتا پارٹی کی جانب سے ترجمان نے اعلان کیا ہے کہ ’حکومت کی جانب سے تنظیم کے دیگر مطالبات بھی تسلیم کیے جانے کے بعد احتجاج ختم کیا جا رہا ہے۔‘
ترجمان کے مطابق حکومت کی جانب سے مطالبات منظور کیے جانے کے بعد تنظیم نے اپنا احتجاج باضابطہ طور پر واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔
دوسری جانب پارلیمنٹ میں قائدِ حزبِ اختلاف راہول گاندھی نے انڈیا کے وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کو ’تعلیمی نظام کی اصلاح کی جانب ایک بڑا قدم‘ قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ انگریزی لفظ cot کا ماخذ سرائیکی لفظ” کھٹ“ ہے اور دونوں کا مطلب چار پائی ہے۔ اس طرح سرائیکی میں ایک لفظ ” ونج“ استعمال کیا جا تا ہے جو انگریزی میں went بن جا تا ہے ۔ معنی ان دونوں کے بھی ایک ہی ہیں۔

لاہو ر اور ملک بھر میں متعدد شاہرائیں عابد مجید کے نام سے منسوب ہیں لیکن عابد مجید کے کارنامے کسی نصاب کا حصہ نہیں۔ اعزازی تلوار پانے والے عابد مجید کا المیہ یہ تھا کہ وہ جنگ کی افراتفری میں زندہ رہ کر اس منصب تک نہیں پہنچ سکا جہاں کمانڈر کے سینوں پر تمغوں کے لیے جگہ باقی نہیں بچتی اور اسے میدان جنگ سے دور کسی روشن کمرے میں ریا کار صحافیوں کے سامنے کم عمر سپاہیوں کی موت کے اعداد و شمار بیان کرنا ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میں یاد دہانی کرانا چاہتی ہوں کہ جس سڑک سے چل کر وہ آزاد کشمیر آتے ہیں وہ سڑک بھی نواز شریف نے بنائی ہے، آزاد کشمیر کے لیے مسلم لیگ(ن) کا یہی وعدہ ہے جو سہولیات ہم پنجاب کو دے رہے ہیں وہ الیکشن جیت کر ایک دن ضائع کیے بغیر وہ سہولیات ہم آزاد کشمیر کو دیں گے۔

پاکستان اسی وقت سعودی عرب کی امداد کے لیے جاسکتا ہے اگر کوئی ملک یا گروہ براہ راست اس پر حملہ کرے۔ اگر حوثی سعودی عرب پر حملہ آور نہیں ہوتے اور محض دھمکیاں دیتے ہیں تو کیا پھر بھی پاکستان اس معاہدے کے تحت حوثیوں کی طاقت کچلنے میں آگے بڑھے گا؟

پاکستانی فوج کے مطابق ’حملہ آوروں نے اپنی ناکامی اور بوکھلاہٹ میں بارودی مواد سے بھری ایک گاڑی کو چیک پوسٹ کے حفاظتی احاطے کی دیوار سے ٹکرا دیا‘ جس کے نتیجے میں 12 فوجی اہلکاروں سمیت چیک پوسٹ پر موجود 15 افراد کی ہلاکت ہوئی۔
نمائندہ بی بی سی عزیز اللہ خان کے مطابق چیک پوسٹ پر ہوئے اس حملے کے نتیجے میں مانجھی خیل چیک پوسٹ مکمل طور پر منہدم ہو گئی ہے جبکہ حملے کے فوراً بعد زخمی اہلکاروں کو قریبی ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔