ڈاکٹر صاحبزادہ جواد الفیضی کا شمار مانسہرہ کی صف اول کی علمی، ادبی اور معتبر سماجی شخصیات میں ہوتا ہے۔ وہ ایک معروف فلاحی ادارے "سائبان فاؤنڈیشن” کے ڈائریکٹر ہیں اور اس پلیٹ فارم سے علاقے کی سماجی ترقی، دکھی انسانیت کی خدمت اور فلاحی کاموں میں ہمیشہ بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ سماجی شعبے میں ان کی یہ خدمات ان کی بے لوث شخصیت کا منہ بولتا ثبوت ہیں، درد دل رکھنے والی شخصیت ہیں۔
وہ فکری، سماجی شعور اور جمالیاتی حس کے مالک ہیں جو ان کے لفظوں میں نکھر کر سامنے آتی ہے۔ ان کا تازہ ترین سفرنامہ "جھیل، سمندر اور سبزہ زار” محض ایک مادی سیاحت یا جغرافیائی فاصلوں کی پیمائش کا نام نہیں بلکہ یہ ایک صاحب دل مسافر کے اندر اور باہر کا وہ ہم آہنگ سفر ہے جو اپنے اندر گہرے باطنی اور تہذیبی زاویے سمیٹے ہوئے ہے۔
ڈاکٹر صاحبزادہ جواد الفیضی کا قلم جب متحرک ہوتا ہے تو مناظر صرف آنکھ کی حد تک محدود نہیں رہتے بلکہ وہ احساسات اور فکری بیداری کی نئی دنیائیں پیدا کرتے ہیں۔ ان کی نظر میں وہ بالغ حیرت اور متین جستجو ہے جو قاری کو بھی اپنے ساتھ سوچنے، محسوس کرنے اور کائنات کے سربستہ رازوں سے پردہ اٹھانے کی دعوت دیتی ہے۔ یہ سفرنامہ ایک ایسے ہی پاکیزہ اور مقدس لمحے سے شروع ہوتا ہے جب مانسہرہ کی فضاؤں پر بادل جھکے ہوتے ہیں اور ہوا کی نمی مسافر کے قدموں کو آگے بڑھنے کا غیبی اذن دے رہی ہوتی ہے۔ ان کا پہلا قدم زمین پر پڑتا ہے مگر اس کا باطنی ارتعاش قاری کو اپنے سحر میں جکڑ لیتا ہے۔
فنی اور اسلوبیاتی لحاظ سے یہ سفرنامہ اردو ادب میں ایک منفرد اور وقیع اضافے کی حیثیت رکھتا ہے۔ کتاب کا کینوس بہت وسیع ہے جو برطانیہ کے مختلف حصوں، بالخصوص انگلستان، سکاٹ لینڈ اور ویلز کے دلفریب جغرافیے کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ مصنف نے کتاب کو تین حصوں میں تقسیم کر کے قاری کے لیے فکری ابواب کھولے ہیں۔
پہلے حصے میں عید الاضحیٰ کے دوسرے دن مانسہرہ سے شروع ہونے والے سفر، اسلام آباد ایئرپورٹ کے ہیجان خیز ماحول، اور لندن کی پروقار گلیوں کے ساتھ ساتھ سکاٹ لینڈ کے طلسماتی NC500 روٹ کے مشاہدات کو موضوع بنایا گیا ہے۔
دوسرے حصے میں ویلز کی فطری اور قدیم دیہی ثقافت کا نقشہ کھینچا گیا ہے۔
جب کہ تیسرے حصے میں لندن کی گلیوں، عجائب گھروں، آکسفورڈ اور کیمبرج جیسی قدیم علمی بستیوں اور انگلستان کے صدیوں پرانے دیہات کی فضا کو نثری قالب میں ڈھالا گیا ہے۔ فنی اعتبار سے مصنف کا اسلوب رواں، تخلیقی اور شعری چاشنی سے بھرپور ہے۔ وہ منظر نگاری میں اس قدر مہارت رکھتے ہیں کہ قاری خود کو ونڈر میر جھیل کے پرسکون پانیوں پر تیرتا ہوا محسوس کرتا ہے یا پھر رائڈل غار کی چٹانوں سے ٹپکتے پانی کی آواز اس کے کانوں میں سرگوشی کرنے لگتی ہے۔ وہ محض منظر کی تصویر کشی نہیں کرتے بلکہ اس کے پیچھے پوشیدہ معنی، بے آواز صدائیں اور تاریخی نوادرات کو اس خوبصورتی سے ابھارتے ہیں کہ سفر نامہ ایک گہرا تہذیبی مطالعہ بن جاتا ہے۔
تخلیقی ساخت کے لحاظ سے یہ تحریر موازنے اور فکری جبلت کے بہترین تال میل سے عبارت ہے۔ مصنف جب برطانیہ کی منظم شاہراہوں، پرسکون پارکوں، اور قانون کے احترام میں جینے والے شہریوں کو دیکھتے ہیں تو ان کا حساس دل تڑپ اٹھتا ہے اور وہ اپنے وطن کے منتشر خوابوں کو سمیٹنے کی تڑپ میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ وہ مغرب کی مادی ترقی، تعلیمی نظام اور طرز رہائش کا اپنے مشرقی کلچر، خاندانی جڑت اور دیہی سادگی سے گہرا فکری موازنہ کرتے ہیں۔ وہ جہاں کیمبرج اور گلاسگو یونیورسٹی کے علمی وقار اور آزادانہ تحقیقی ماحول کو سراہتے ہیں وہیں سلیقے سے سجے برطانوی گھروں اور پاکستانی گھروں کے وسیع صحنوں اور مہمان نوازی کے جذبوں کے مابین ایک خوبصورت پل بناتے ہیں۔ سفرنامے کا فنی کمال یہ ہے کہ یہ قاری کو جزئیات نگاری سے بور نہیں ہونے دیتا۔ اس میں شامل کردار جیسے جرمن سیاح جورگ اور لوئس، دیرینہ دوست ڈاکٹر ندیم جدون، یا پالتو بلا مائیلو تحریر کو ایک سچی انسانی حرارت عطا کرتے ہیں۔
مجموعی طور پر، "جھیل، سمندر اور سبزہ زار” اپنے بے ساختہ رچاؤ اور تخلیقی نثر کے امتزاج سے اردو ادب کے سفرناموں کی صف میں ایک بلند اور ممتاز مقام پانے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ کتاب وقت کی گرد میں گم ہو جانے والی نہیں بلکہ اپنے ادبی وقار کی بدولت آنے والے وقتوں میں بھی ایک معتبر حوالے کے طور پر یاد رکھی جائے گی۔
ڈاکٹر صاحبزادہ جواد الفیضی کی یہ کاوش بلاشبہ ایک ایسا ادبی شاہکار ثابت ہو گی جو قارئین کے ذوق مطالعہ کی تسکین کے ساتھ ساتھ مستقبل کے مسافروں اور قلم کاروں کے لیے بھی تخلیقی رہنمائی کا ایک مستقل سرچشمہ بنی رہے گی۔
فیس بک کمینٹ

