سورینج اور اس کے گردونواح کے علاقوں میں ماضی میں بھی کوئلہ کانوں میں حادثات پیش آتے رہے ہیں۔
دیگر جدید صنعتیں نہ ہونے کی وجہ سے کوئلے کی کانکنی بلوچستان کی بڑی صنعت ہے۔ کوئلے کی کانیں زیادہ تر کوئٹہ، کچھی، ہرنائی اور دکی کے اضلاع میں موجود ہیں
Author: ایڈیٹر
خیبر پختونخوا پولیس کی جانب سے جاری بیان مطابق بدھ کے روز ہونے والے حملے اور اس کے جواب میں کیے جانے والے آپریشن میں ڈی ایس پی دیار خان سمیت نو پولیس اہلکار ہلاک جبکہ ڈی ایس پی مجاہد حسین سمیت 28 اہلکار زخمی ہوئے تھے۔
آئی ایم ایف کا چابک جب ہماری پیٹھ پر پڑتا ہے تو منہ سے گالی ہی نکلتی ہے۔ ہم پر حد باہر والے نے باندھی ہے، نگرانی باہر والا کر رہا ہے، اور خوف بھی باہر والے کا ہے۔
1953 میں متحدہ پاکستان کے عظیم سیاسی رہنما حسین شہید سہروردی پر گوجرانوالہ ریلوے سٹیشن پر پتھر برسائے گئے۔ 1965 کے صدارتی انتخاب کے دوران اس شہر میں ایک کتیا کے گلے میں فاطمہ جناح کا انتخابی نشان لالٹین لٹکا کر جلوس نکالا گیا ۔ جلوس کی قیادت امیر کالاباغ کا ایک دست کاشتہ لاڈلا کر رہا تھا ۔
فیڈرل اردو یونیورسٹی کا کیس ہمارے سامنے ہے ۔ ایسے میں طلبہ کیا70 ستر سال کے اُستاد اور ٹیچر بھی کاکروچ تحریک چلاتے ہیں البتہ وہ ہمارے میڈیا کی توجہ کا مرکز نہیں بن پاتے کیونکہ اس میں وہ ’کلر‘ نظر نہیں آتا۔طلبہ غلط ہو سکتے ہیں، جذباتی بھی ہوسکتے ہیں مگر’غدار‘ نہیں ہو سکتے۔ ’کاکروچ‘ تحریک سے سبق سیکھیں بیماری کا علاج دوا سے ہوتا ہے لاٹھی یا آنسو گیس سے نہیں۔
یہ درست ہے کہ پاکستانی حکمرانوں نے کشمیریوں کا معاشی استحصال بھی کیا، مگر پاکستانی عوام نے اسے شاید اسی طرح برداشت کیا جیسے انہوں نے اپنے ساتھ ہونے والا استحصال برداشت کیا۔
فرق صرف اتنا ہے کہ آج سوشل میڈیا کا زمانہ ہے۔
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں موبائل سروس تو تاحال چل رہی لیکن انٹرنیٹ سروس میرپور کے علاوہ تمام جگہوں پر بند ہے۔
میرپور کے رہائشی فیضان کا کہنا ہے کہ ’صرف لینڈ لائن انٹرنیٹ کنیکشن کام کر رہا ہے۔ لیکن وہ بھی مستحکم نہیں جبکہ موبائل فون پر انٹرنیٹ نہیں چل رہا۔‘
یہ بی اے جمال کا ہی ہنر اورکمال تھا کہ اس سے جو ملا وہ ہیرو بن گیا اور اس نے خوب نام ، دولت اور عزت کمائی۔ بی اے جمال نئے شعرا اور لکھاریوں کی بھرپور حوصلہ افزائی کرتے تھے جس اخبار رسالے یا جریدہ میں ممکن ہوتا اس کو ضرور کوریج دلاتے۔ شعبہ صحافت ان کا اوڑھنا بچھونا تھا گوکہ ان کا زیادہ تعلق فن و ثقافت تھا مگر ان کی ساری زندگی اخبارات کے دفاتر میں گزری ۔
احتجاج کے لیے لوگوں کا گھروں سے نکلنا بے چینی، محرومی اور غم و غصہ کا اظہار ضرور ہے۔ کسی حکومت کو اس پہلو کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے۔ دوسرا یہ کہ حکومت عوام کی کثیر تعداد کو طویل عرصہ تک بے یار مددگار کسی علاقے میں محصور رہنے پر مجبور نہیں کرسکتی۔ اختلاف اتفاق سے قطع نظر یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کی حفاظت کرے اور انہیں مناسب دیکھ بھال، خوراک اور سہولتوں تک رسائی دی جائے۔
واضح رہے کہ 28 جولائی کے لیے جاری کیے گئے فیصلے کے تحت پیٹرول کی قیمت میں ایک روپے فی لیٹر کمی کی گئی تھی، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 37 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا تھا۔
