ٹانک : پاکستان میں صوبہ خیبرپختونخوا کے ضلع ٹانک میں پولیس اور فوج کی ایک مشترکہ چیک پوسٹ ’مانچھی خیل‘ پر شدت پسندوں کی جانب سے کیے گئے حملے کے نتیجے میں 12 فوجی اہلکاروں سمیت 15 افراد جاں بحق ہو گئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں دو پولیس اہلکار اور محکمہ جنگلات کا ایک اہلکار بھی شامل ہے۔
پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق شدت پسندوں کی جانب سے یہ حملہ جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب کیا گیا جس کے دوران حملہ آوروں نے بارودی مواد سے بھری ایک گاڑی کو چیک پوسٹ کی حفاظتی دیوار سے ٹکرا دیا اور دھماکے کی شدت سے ’چیک پوسٹ کا بنیادی ڈھانچہ بُری طرح متاثر ہوا۔‘
آئی ایس پی آر کا دعویٰ ہے کہ جمعرات کی شب حملہ آوروں نے ابتدائی طور پر چیک پوسٹ کی سکیورٹی بریچ کرنے کی کوشش کی تاہم سکیورٹی فورسز کی جانب سے اس حملے کو ناکام بنایا گیا اور اس دوران فرار ہونے والے شدت پسندوں کا تعاقب کر کے انھیں نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں 12 شدت پسند ہلاک ہوئے۔
پاکستانی فوج کے مطابق ’حملہ آوروں نے اپنی ناکامی اور بوکھلاہٹ میں بارودی مواد سے بھری ایک گاڑی کو چیک پوسٹ کے حفاظتی احاطے کی دیوار سے ٹکرا دیا‘ جس کے نتیجے میں 12 فوجی اہلکاروں سمیت چیک پوسٹ پر موجود 15 افراد کی ہلاکت ہوئی۔
نمائندہ بی بی سی عزیز اللہ خان کے مطابق چیک پوسٹ پر ہوئے اس حملے کے نتیجے میں مانجھی خیل چیک پوسٹ مکمل طور پر منہدم ہو گئی ہے جبکہ حملے کے فوراً بعد زخمی اہلکاروں کو قریبی ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔
دوسری جانب سکیورٹی خدشات کے پیش نظر ضلعی انتظامیہ نے ضلع بھر میں سیکش 144 نافذ کر دیا ہے، جبکہ شہریوں سے گھروں میں رہنے اور غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق علاقے میں کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔ اس موقع پر اس عزم کا اظہار بھی کیا گیا کہ شدت سپندوں کے خلاف انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیاں جاری رہیں گی۔
یاد رہے کہ جمعہ کی دوپہر پولیس لائن ٹانک میں ہلاک ہونے والے دو پولیس اہلکاروں، کانسٹیبل بلال خان اور کانسٹیبل طلا محمد، اور محکمہ جنگلات کے فارسٹ گارڈ نور اعظم کی نمازِ جنازہ سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا کی گئی۔
نمازِ جنازہ میں انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبر پختونخوا ذوالفقار حمید سمیت سرکاری و سیاسی شخصیات نے شرکت کی۔
آئی جی خیبر پختونخوا نے اس سے قبل شدت پسندوں کے اس حملے میں زخمی ہونے والے پولیس اہلکاروں کانسٹیبل عصمت اللہ، کانسٹیبل جسیم خان، کانسٹیبل داؤد خان اور کانسٹیبل پیر غلام کی عیادت کی۔
مانجھی خیل چیک پوسٹ کہاں واقع ہے؟
مانجھی خیل چیک پوسٹ ٹانک شہر سے لگ بھگ 15 کلومیٹر دور ٹانک، ڈیرہ اسماعیل خان روڈ پر واقع ہے۔
خیبر پختونخوا کا جنوبی ضلع ٹانک حالیہ عرصے میں شدت پسند حملوں سے متاثرہ علاقوں میں شامل رہا ہے۔
رواں برس کے اوائل میں، 12 جنوری 2026 کو، ٹانک کے علاقے گومل میں شدت پسندوں نے پولیس کی ایک بکتر بند گاڑی کو بارودی مواد سے نشانہ بنایا تھا جس کے نتیجے میں چھ پولیس اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔ اسی طرح رواں ماہ 13 جولائی کو ٹانک، جنڈولہ روڈ پر گڑہ حیات، ماشا جان بنگلہ کے قریب پولیس کی ایک اور بکتر بند گاڑی کو مبینہ ریموٹ کنٹرول آئی ای ڈی سے نشانہ بنایا گیا، جس میں دو پولیس اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہوئے تھے۔
جغرافیائی اعتبار سے ٹانک خیبر پختونخوا کے جنوبی حصے میں ڈیرہ اسماعیل خان ڈویژن کا ضلع ہے۔ ٹانک شہر ڈیرہ اسماعیل خان کے شمال مغرب اور جنڈولہ کے جنوب مشرق میں واقع ہے، جبکہ ضلع کے مغرب میں جنوبی وزیرستان اور شمال مشرق کی جانب لکی مروت کا علاقہ واقع ہے۔
جنوبی وزیرستان کے ساتھ اس کی قربت کے باعث ٹانک قبائلی علاقوں اور خیبر پختونخوا کے بندوبستی اضلاع کے درمیان ایک اہم جغرافیائی گزرگاہ بھی سمجھا جاتا ہے۔
( بشکریہ : بی بی سی )
فیس بک کمینٹ

