ہر نئی صبح کے ساتھ طب کی دنیا ایک نیا راز کھولتی ہے۔ کبھی کسی جڑی بوٹی سے دوا بنتی ہے، کبھی کسی جرثومے سے ویکسین، اور کبھی انسانی جسم کا وہ حصہ، جسے کل تک محض طبی فضلہ سمجھ کر تلف کر دیا جاتا تھا، آج جدید لیبارٹریوں میں قیمتی حیاتیاتی مادہ قرار پاتا ہے۔ انہی میں سے ایک انسانی پلیسینٹا (Human Placenta) ہے، جو حالیہ دنوں پاکستان میں اس وقت قومی توجہ کا مرکز بنا جب اسلام آباد میں ایک مبینہ نیٹ ورک کے خلاف کارروائی میں انسانی پلیسینٹا کی غیر قانونی پروسیسنگ اور اسمگلنگ کے الزامات سامنے آئے۔ اس واقعے نے نہ صرف طبی حلقوں بلکہ مذہبی، قانونی اور سماجی طبقات میں بھی کئی بنیادی سوالات کو جنم دیا ہے۔ آخر انسانی پلیسینٹا ہے کیا؟ کیا اس سے واقعی دوائیں بنتی ہیں؟ کیا پاکستان میں اس کا استعمال ہو رہا ہے؟ اور اگر ایسا ہے تو اس کی اخلاقی اور شرعی حیثیت کیا ہے؟
پلیسینٹا ایک عارضی عضو ہے جو حمل کے دوران ماں کے رحم میں بنتا ہے۔ یہی عضو ماں اور بچے کے درمیان زندگی کا پل بنتا ہے۔ آکسیجن، غذائیت، مدافعتی اجزا اور ہارمونز اسی کے ذریعے بچے تک پہنچتے ہیں۔ پیدائش کے بعد اس کی حیاتیاتی ذمہ داری ختم ہو جاتی ہے اور عموماً اسے طبی فضلے کے طور پر تلف کر دیا جاتا ہے۔ لیکن گزشتہ چند دہائیوں میں سائنس دانوں نے دریافت کیا کہ پلیسینٹا میں ایسے حیاتیاتی عوامل موجود ہیں جن پر تحقیق کی جا سکتی ہے۔ اسی تحقیق کے نتیجے میں جاپان، جنوبی کوریا اور بھارت سمیت چند ممالک میں محدود طبی استعمال کے لیے پلیسینٹا سے حاصل شدہ اجزا پر مبنی ادویات اور حیاتیاتی مصنوعات تیار کی گئیں۔
عالمی ادارۂ صحت کے مطابق دنیا میں ہر سال تقریباً 14 کروڑ بچے پیدا ہوتے ہیں، یعنی اتنی ہی تعداد میں پلیسینٹا بھی وجود میں آتے ہیں۔ ان میں سے اکثریت طبی فضلے کے طور پر تلف کر دی جاتی ہے جبکہ ایک محدود حصہ تحقیق اور قانونی طبی استعمال کے لیے محفوظ رکھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پلیسینٹا اب عالمی بایومیڈیکل صنعت کا بھی موضوع بن چکا ہے۔
جاپان میں Laennec اور Melsmon جبکہ بھارت میں Placentrex جیسی مصنوعات انسانی پلیسینٹا سے حاصل شدہ اجزا پر مشتمل ہیں۔ ان کا استعمال بعض مخصوص طبی حالات میں کیا جاتا ہے، تاہم اب تک کوئی معتبر عالمی طبی ادارہ انہیں بڑھاپا روکنے، جلد کو مستقل جوان رکھنے یا ہر قسم کی بیماری کا علاج قرار نہیں دیتا۔ متعدد تحقیقی جائزوں کے مطابق زخم بھرنے اور بعض محدود طبی استعمالات میں امید افزا نتائج ضرور ملے ہیں، لیکن ان کے وسیع طبی فوائد پر مزید تحقیق درکار ہے۔
خوبصورتی کی عالمی صنعت آج 650 ارب امریکی ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے اور اینٹی ایجنگ مصنوعات اس کا تیزی سے بڑھنے والا شعبہ ہیں۔ گزشتہ چند برسوں میں پاکستان کے بڑے شہروں، خصوصاً اسلام آباد، لاہور اور کراچی کے بعض بیوٹی کلینکس اور ایستھیٹک سینٹرز میں بیرونِ ملک سے درآمد شدہ سکن سیرمز، انجیکشنز اور کاسمیٹک مصنوعات کی مانگ میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ان میں بعض مصنوعات کے اجزا میں Human Placental Extract یا Placental Extract درج ہوتا ہے، جبکہ بعض کمپنیوں کا دعویٰ ہوتا ہے کہ ان کی مصنوعات جاپان یا جنوبی کوریا میں تیار کی گئی ہیں۔ تاہم یہ بات ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ ہر ایسی پروڈکٹ میں انسانی پلیسینٹا شامل نہیں ہوتا۔ کئی مصنوعات جانوروں کے پلیسینٹا یا مصنوعی حیاتیاتی اجزا سے تیار کی جاتی ہیں۔ اس لیے صرف "Placenta” کا لفظ دیکھ کر کسی بھی پروڈکٹ کو انسانی پلیسینٹا پر مشتمل قرار دینا درست نہیں ہوگا۔
ماہرینِ امراضِ جلد کے مطابق جلد کو گورا کرنے، جھریاں ختم کرنے، بالوں کی نشوونما بڑھانے یا عمر کے اثرات کم کرنے کے حوالے سے پلیسینٹا پر مبنی انجیکشنز اور سیرمز کے تمام دعوے مضبوط سائنسی شواہد سے ثابت نہیں ہوئے۔ اسی لیے دنیا بھر کے ماہرین یہ مشورہ دیتے ہیں کہ ایسی مصنوعات صرف مستند معالج کے مشورے اور متعلقہ ریگولیٹری اداروں سے منظور شدہ صورت میں ہی استعمال کی جائیں، کیونکہ غیر رجسٹرڈ یا غیر معیاری انجیکشنز انفیکشن، الرجی اور دیگر پیچیدگیوں کا سبب بن سکتے ہیں۔
پاکستان میں حالیہ بحث کی اصل وجہ اسلام آباد میں سامنے آنے والا وہ مقدمہ ہے جس میں وفاقی تحقیقاتی ادارے (FIA) اور ہیومن آرگن ٹرانسپلانٹ اتھارٹی (HOTA) نے ایک مبینہ نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے تقریباً 550 کلوگرام انسانی حیاتیاتی مواد برآمد کرنے کا دعویٰ کیا۔ کارروائی کے دوران متعدد مشینیں قبضے میں لی گئیں اور پانچ افراد گرفتار کیے گئے، جن میں غیر ملکی شہری بھی شامل تھے۔ تفتیشی اداروں کے مطابق شبہ ہے کہ یہ مواد بیرونِ ملک بھیجا جانا تھا، تاہم یہ مقدمہ ابھی زیرِ تفتیش ہے اور اس کے حتمی قانونی نتائج آنا باقی ہیں۔
اسلام آباد میں سامنے آنے والے اس مقدمے نے اس خدشے کو بھی تقویت دی کہ اگر انسانی حیاتیاتی مواد غیر قانونی طور پر کاسمیٹک یا طبی مصنوعات کی تیاری میں استعمال ہونے لگے تو یہ نہ صرف قانون بلکہ انسانی وقار کے بھی منافی ہوگا۔ اگر تحقیقات میں یہ الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو پاکستان میں طبی فضلے کی نگرانی، حیاتیاتی مواد کی نقل و حمل اور درآمد شدہ سکن سیرمز، انجیکشنز اور کاسمیٹک مصنوعات کی جانچ کے نظام پر سنجیدہ نظرثانی کی ضرورت ہوگی۔
پاکستان میں ادویات کی رجسٹریشن کا اختیار ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) کے پاس ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ درآمد شدہ حیاتیاتی مصنوعات، خصوصاً بیوٹی کلینکس میں استعمال ہونے والے انجیکشنز اور سیرمز کی باقاعدہ جانچ اور نگرانی کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت ہے تاکہ عوام غیر معیاری یا غیر قانونی مصنوعات سے محفوظ رہ سکیں۔
اسلامی تعلیمات انسانی جسم کو اللہ تعالیٰ کی امانت قرار دیتی ہیں۔ فقہی اصول کے مطابق انسانی اعضا اور بافتوں کی خرید و فروخت عام حالات میں جائز نہیں سمجھی جاتی۔ البتہ اگر جان بچانے یا شدید بیماری کے علاج کے لیے کوئی ناگزیر طبی ضرورت ہو اور اس کا متبادل موجود نہ ہو تو بعض فقہا نے ضرورت کے اصول کے تحت محدود گنجائش بیان کی ہے۔ اسی لیے انسانی پلیسینٹا کا معاملہ صرف طب کا نہیں بلکہ اخلاقیات، قانون اور شریعت کا بھی موضوع ہے۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان میں حیاتیاتی مواد کے حصول، ذخیرہ، تحقیق، نقل و حمل اور تلف کرنے کے نظام کو مزید شفاف بنایا جائے، ہسپتالوں میں طبی فضلہ تلف کرنے کے طریقۂ کار کی سخت نگرانی کی جائے، غیر قانونی تجارت میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے اور عوام کو سوشل میڈیا کے غیر سائنسی دعووں کے بجائے مستند طبی معلومات فراہم کی جائیں۔ جدید سائنس یقیناً انسانیت کے لیے نعمت ہے، مگر اس کی حقیقی کامیابی اسی وقت ممکن ہے جب تحقیق، قانون، اخلاقیات اور انسانی وقار ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ رہیں۔ انسانی پلیسینٹا کا معاملہ بھی دراصل اسی توازن کا امتحان ہے۔
فیس بک کمینٹ

