انسان ایک سماجی جانور ہے۔ یعنی اس کی زندگی ایک سماج سے وابستہ ہے۔ سماج یعنی اپنے ہی جیسے یا خود سے مختلف جیتے جاگتے جانداروں سے تعلق۔ ضروری نہیں کہ وہ جیتے جاگتے جاندار انسان ہی ہوں۔
میرا تعلق اپنی کتیا ہنی سے قائم ہے اور میں اس تعلق کے سہارے زندہ ہوں۔ کیا ہنی نہ رہے تو میں زندہ رہوں گا؟ شاید نہیں، اور شاید ہاں۔ شاید میں اس کے بعد کسی اور تعلق میں بندھ جاؤں گا۔
کیا یہ اصول دوسرے جانداروں پر بھی صادق آتا ہے؟ شاید ہاں اور شاید نہیں۔ کیا دوسرے جاندار انسانوں جتنا شعور رکھتے ہیں؟ یقیناً نہیں۔ لیکن تنہائی کا احساس تو انہیں بھی ہوتا ہے۔
میں روزانہ آٹھ نو گھنٹے ہنی سے دور رہتا ہوں۔ ہنی اس کی عادی ہو چکی ہے، لیکن وہ میری غیر موجودگی میں مجھے یاد کرتی ہے۔ میں شام کو کام سے لوٹتا ہوں تو اسے اپنا منتظر پاتا ہوں۔ اس کا بے پناہ انتظار میری آمد پر اس کے طبعی اور جذباتی، والہانہ اظہارِ محبت سے ظاہر ہوتا ہے۔ وہ مجھ سے لپٹ جاتی ہے۔
زندگی کھانے پینے اور جسمانی ضروریات پوری کرنے کا نام نہیں ہے۔ زندگی محبت کرنے کا نام ہے۔ دنیا کے سفاک ترین جاندار بھی کسی نہ کسی سے محبت کرتے ہیں۔ وہ اپنے ان اعمال کی وجہ سے بے حس قرار دے دیے جاتے ہیں جو ہم پر ظاہر ہو جاتے ہیں، لیکن ہم ان کی زندگی کے ان بے شمار لمحات سے ناواقف ہوتے ہیں جو وہ صرف اور صرف محبت میں گزارتے ہیں۔
زندگی کی طرح موت بھی ایک حقیقت ہے۔ لیکن کیا موت وہی ہے جو ہمیں دکھائی دیتی ہے؟ یعنی سانس اور دل کا مستقل طور پر رک جانا، اور کسی بھی طبی اور طبعی کوشش کے باوجود ان کا دوبارہ بحال نہ ہونا؟
شاید ہاں، اور شاید نہیں۔
شاید نہیں، کیونکہ ہم میں سے بہت سے لوگ سانس لیتے ہیں اور ان کے دل بھی دھڑکتے ہیں، لیکن وہ زندہ نہیں ہوتے۔ وہ زندہ نہیں ہوتے کیونکہ وہ تنہا ہوتے ہیں۔ وہ زندہ نہیں ہوتے کیونکہ وہ محبت نہیں کرتے، یا کوئی ان سے محبت نہیں کرتا۔ وہ کسی تعلق میں نہیں ہوتے۔
پھر وہ ذہین انسانوں کے بنائے ہوئے نشوں کا سہارا لیتے ہیں۔ وہ ایسے مادّوں کا سہارا لیتے ہیں جو زندگی کی تعریف پر پورا نہیں اترتے۔ اگرچہ وہ سہارے زندگی کی تعریف پر پورے نہیں اترتے، لیکن وہ بھی انسان کی طرح ایٹموں سے بنے ہوئے مادی وجود ہی ہوتے ہیں۔ یعنی تعلق تو بن ہی جاتا ہے۔
اور اگر تعلق بن جاتا ہے تو شاید نشے کے عادی انسان بھی زندہ ہی رہتے ہیں۔ بس ان کے سہارے طبعی طور پر زندہ انسانوں سے مختلف ہوتے ہیں۔ ان کے سہارے سانس نہیں لیتے، لیکن انہیں تسکین پہنچاتے ہیں، ان کے دکھ درد کم کرتے ہیں اور ان کے زخموں پر مرہم رکھتے ہیں۔
میری اس تحریر کو کسی اخلاقی پیمانے پر نہ پرکھا جائے۔ یہ اسی سوال پر لکھی جا رہی ہے جو ازل سے پوچھا جا رہا ہے: آخر زندگی کا مقصد کیا ہے؟ ہم کیوں وجود میں آئے؟ ہمیں شعور کیوں حاصل ہوا؟ اور ہم کیوں زندہ ہیں؟
یہ تحریر لکھنے کا محرک ایک ایسی ماورائے فطرت فلم بنی جسے میں نیٹ فلکس پر دیکھنے ہی والا تھا۔ نیٹ فلکس پر موجود مقبول ترین فلموں اور ڈراموں میں انسانی نفسیات اور ماورائے فطرت واقعات جیسے موضوعات بار بار سامنے آتے ہیں۔ اس کی وجہ بہت فطری ہے: انسان انہی موضوعات کے بارے میں سب سے زیادہ متجسس ہے جن کا سراغ وہ ابھی تک نہیں لگا پایا۔
مصنوعی ذہانت جیسی حقیقت سامنے آنے کے بعد اسی موضوع پر گزشتہ کئی دہائیوں سے بننے والی فکشن فلمیں اب ناظرین کے لیے شاید پہلے جتنی پراسرار نہیں رہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بھوتوں، بدروحوں اور جنات جیسی مافوق الفطرت مخلوقات سے انکار کرنے کے باوجود ان موضوعات میں ہماری بے پناہ دلچسپی اسی طرح قائم ہے۔
روح وہ سوال ہے جس کا جواب ابھی تک ہمارے پاس نہیں ہے۔
آج کل سوشل میڈیا پر مشہور ہالی ووڈ اداکار ول اسمتھ کی ایک پرانی فلم کا کلپ وائرل ہے۔ وہ اس میں ایک روبوٹ کو طعنہ دیتے ہیں کہ وہ کبھی انسانی شعور کے قریب نہیں پہنچ سکتا، کیونکہ وہ مصوری نہیں کر سکتا اور کوئی تخلیقی شاہکار، مثلاً گیت یا شاعری، تخلیق نہیں کر سکتا۔
دورِ حاضر میں ول اسمتھ کی روبوٹ کے سامنے پیش کی گئی یہ دلیل مضحکہ خیز معلوم ہوتی ہے، کیونکہ اب کمپیوٹر مصنوعی ذہانت کے ذریعے شاعری بھی کر رہا ہے، تصویریں بھی بنا رہا ہے اور موسیقی بھی تخلیق کر رہا ہے۔
کیا میں موضوع سے ہٹ گیا ہوں؟
ہرگز نہیں۔
ابھی میں جو ماورائے فطرت فلم دیکھنے جا رہا ہوں، وہ ایک ایسی خاتون کی کہانی ہے جو موت کے بعد انسانوں کی ارواح کو دیکھ سکتی ہے۔ اس موضوع پر بے شمار فلمیں آپ کو انٹرنیٹ پر مل جائیں گی۔ ان فلموں میں دکھایا جاتا ہے کہ خصوصی صلاحیتوں کے حامل یہ افراد، جنہیں مختلف زبانوں میں مختلف ناموں سے پکارا جاتا ہے، غیر مادی اچھی اور بری ارواح یا مخلوقات سے ایک تعلق قائم کر لیتے ہیں۔
میں اس تحریر کا اختتام اسی خیال کے ساتھ کرنا چاہتا ہوں کہ اگر زندگی کسی تعلق کے سہارے زندہ رہنے کا نام ہے تو شاید زندگی کا تعلق کسی جیتے جاگتے انسان یا جانور تک محدود نہ ہو۔
عین ممکن ہے کہ یہ تعلق طبعی طور پر زندہ وجود سے ہو، کسی طبعی طور پر غیر زندہ مادی شے سے ہو، مصنوعی ذہانت رکھنے والے کسی روبوٹ سے ہو، یا پھر، اگر ایسا کوئی وجود واقعی ممکن ہے، کسی ایسے مردہ انسان سے ہو جس کی روح اس کے جسم سے الگ ہو چکی ہو۔
شاید زندگی کی اصل ضد موت نہیں بلکہ لا تعلقی ہے۔
ہم کب مرتے ہیں ؟ زندگی ، موت اور لاتعلقی کے درمیان معلق ایک سوال ڈاکٹر علی شاذف کا کالم
ایڈیٹر8 Views

