Browsing: لکھاری

فتح اپنے سامنے ہاتھ ہلاتی بے نظیر بھٹو کودیکھ کر حیرت زدہ ہوجاتاہے کہ اسے تومعلوم ہی نہیں تھاکہ وہ جس دشمن کو نشانہ بنانے آیا ہے اور جس کی موت کے عوض اسے جنت میں جانا ہے وہ دشمن تو وہی بے نظیر ہے جس سے اس کی ماں محبت کرتی ہے

اشفاق حسین سونے کا چمچہ لے کرپیدا ہوئے اور اب ایک متمول شخص کے طور پر اپنی شاعری کا شوق پورا کررہے ہیں لیکن جو انہیں جانتے ہیں انہیں علم ہے اشفاق حسین نے زمین سے اٹھ کر آسمان کی طرف سفر کیا ہے۔ ان کی شاعری کے اصل تناظر کو صرف اسی صورت میں سمجھا جا سکتا ہے جب آپ یہ مان جائیں کہ شاعر کی زندگی کے نشیب و فراز کیا رہے۔ اشفاق حسین نے بہت اچھا کیا کہ اس کلیات کے ”گہر ہونے تک“ کے عنوان سے اپنی روداد لکھ دی ہے، وہ چاہتے تو بیان کی گئی ماضی کی حقیقتوں کو چھپا بھی سکتے تھے، مگر شاید ایسا کرنے کی صورت میں یہ کلیات ادھوری رہ جاتیں اور اس میں موجود شاعری کا افق بھی کسی انجان اندھیرے میں ڈوبا رہتا ۔

وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ اور اردن کے شاہ کی ملاقات سے واضح ہوتا ہے کہ امریکی صدر غزہ کو خالی کرانے اور وہاں قابض ہونے کے دعوے پر قائم ہے لیکن عرب ممالک ابھی ملاقاتیں کرنے اور مل جل کر کسی منصوبے پر عمل کرنے ہی پر غور کررہے ہیں۔ اس ملاقات سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کئی ہفتے پہلے درست طور سے دعویٰ کیا تھا کہ’ اردن اور مصر خواہ ان کے منصوبے کی مخالفت کرلیں لیکن وہ مان جائیں گے‘

تبدیلی یا دن بدلنے کی خواہش میں 2025تک پہنچنے والی شاعری انٹرنیٹ پر "دن بدلیں گے خاناں "سے ہوتی ہوئی اس مقام پر آچکی ہے جب ایک دوسرے سے بدلے لینے پر مصر ہوتے ہوئے، ہمیں بالکل یقین نہیں ہے کسی بھی لحاظ سے دن بدلیں گے ۔چلیں کچھ سچی اور سیدھی سادی باتیں کرتے ہیں کیوں کہ بڑے بزرگ کہتے ہیں کہ آج اردو ادب کے طالب علم کو سب کچھ آتا ہے سوائے اردو کے ۔۔۔۔۔رضی الدین رضی صاحب ملتان میں ادب و صحافت کا معتبر حوالہ ہیں۔۔۔

ایک مرتبہ انہوں نے لیہ کے ایک سادہ دل نوجوان کو میرے پیچھے لگا دیا جس کا دعوی تھا کہ اس کے والد ڈاکٹر گوپی نارنگ کے استاد تھے جب وہ لیہ کے سکول میں پڑھتے تھے اس لئے ساہتیہ اکادمی کے صدر نشیں کے طور پر ڈاکٹر نارنگ کا فرض’ہے کہ اس نوجوان کو بھارت کے دورے کی دعوت دیں یا اس’کی مالی مدد کے لئے حکومت پاکستان سے اپیل کریں

اُلّو نے اپنی گردن گھمائی اور عدالت کے بلند و بالا ستونوں کی طرف دیکھا۔ لمحے بھر کو سوچا، پھر بولا، "یہ جو تم کہہ رہے ہو، وہ دو طرفہ ہونا چاہیے!”
گِدھوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا، جیسے کہنے والے ہوں: "یہ کیا نیا معمہ ہے؟ ہم نے تو ہمیشہ سنا تھا کہ جنگل کے کمزور قانون دو طرفہ نہیں ہوتے، ہمیشہ ایک طرفہ ہی ہوتے ہیں!”