بشیر احمد المعروف( بی اے جمال) اب ہم میں نہیں رہے۔ وہ ملتان میں میرا پہلا باقاعدہ دوست اور بھائی تھا۔ غالباً 1990-91میں جب وہاڑی سے ملتان آکر میں نے اپنے صحافتی کیریئر کا باقاعدہ آغاز کیا تو استاد محترم رضی الدین رضی نے میرے ذمے فن و ثقافت ایڈیشن تیا کرنے کی اضافی ذمہ داری لگادی ویسے تو میں نے اپنے صحافتی کیریئر کا آغاز بطور سب ایڈیٹر کیا تھا اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ پرنٹ میڈیا کے عروج کا دور تھا اور سب ایڈیٹر ہی وہ عہدہ تھا جس کی قدرومنزلت و اہمیت اخباری دنیا میں سب پر مسلمہ تھی کیونکہ کسی بھی خبر کے نمایاں کرنے یا کم اہم کرنے کا ہنر صرف سب ایڈیٹر کے پاس ہی ہوتا تھا اور اسے اخبار کا ایڈیٹر بھی بمشکل ہی چیلنج کرتا تھا ۔ دوسرے الفاظ میں کسی بھی خبر کو سرخی پاؤڈر لگانا سب ایڈیٹر کا کام تھا اس دور میں تقریباً ہر اخبار روزانہ ایک ایڈیشن شائع کرتے تھے تاکہ ہر مکتبہ فکر کو مکمل کوریج ملے ۔ رؤف مان سپورٹس، احسان الٰہی بچوں کا گلشن اور میری ذمہ داری فن و ثقافت کا ایڈیشن نکالنے کی تھی ۔
میرے جیسے دیہاتی ماحول سے آنیوالے صحافت کے ایک طالب علم کیلئے یہ بہت مشکل کام تھا یہ فلم انڈسٹری کا عروج کا بھی دور تھا اور ملتان شہر میں درجن بھر سے زائد سینما ہاؤس فل لے رہے تھے مگر ملتان میں صرف ایک سرکاری آرٹس کونسل تھی جو گلڈ ہوٹل کے سامنے تھی۔ ان حالات میں شوبز ایڈیشن کے دو صفحات کیلئے مواد جمع کرکے شائع کرنا بہت مشکل کام تھا اور جو ملتان کے ثقافتی حلقے تھے ان میں میرا تعارف بھی بالکل نہ تھا میری پریشانی دیکھ کر میرے محسن ملک امیر حمزہ جو اس اخبار میں آرٹ ایڈیٹر بھی تھے اور اسٹیج ڈراموں کے پروڈیوسر بھی تھے نے انہوں نے میری رہنمائی کی کہ اس سلسلے میں آپ کی معاونت صرف بی اے جمال ہی کر سکتا ہے۔
نام بی اے جمال مجھے بہت بھاری لگا۔ دل و دماغ میں کئی اندیشے اور وسوسے آئے کہ نجانے کتنا بڑا آدمی ہوگا جو ڈرامے لکھتا ہے سٹیج پر ہدایت کاری دیتا ہے ۔کئی دن ایسے سوچتا رہا کہ شاید میں بی اے جمال سے بات بھی کر پاؤں گا کہ نہیں میرا اردو کا تلفظ بھی ان کے سامنے صحیح ہو گا یا نہیں؟چنانچہ ہر روز ملنے کی سوچتا مگر ملنے کی ہمت نہ کر پاتا ایک دن دوپہر کو اکیلا آفس بیٹھا ہوا تھا کہ اچانک ایک شخص کمرے میں داخل ہوا سر پر ٹوپی کلین شیو سامنے والی جیب میں6-7بال پوائنٹ ہاتھ میں بھرا ہوا وزنی پلاسٹک بیگ تھا سلام دعا کے بعد ایڈیٹر اور اخبار بارے معلومات لیں پھر میرے بارے پوچھا اور جانے سے پہلے پلاسٹک بیگ سے دو تصاویر نکالیں اور تحکمانہ لہجے میں کہا کہ اس ہفتے ایڈیشن میں یہ تصاویر ضرور شائع ہو جانی چاہئیں۔ یہ میرا بی اے جمال سے پہلا تعارف تھا اس وقت سے لے کر اب تک کئی بار سوچتا ہوں اور بیان بھی کرتا ہوں کہ ہمیشہ پیاسا کنوئیں کے پاس چل کر جاتا ہے مگر میں خوش قسمت تھا کہ کنواں چل کر خود پیاسے کے پاس آگیا جس سے ملنے کیلئے میرے اندر کئی طرح کے خوف وسوسے اور اندیشے تھے اس نے دو تصاویر دے کر ہمیشہ کیلئے اپنا کر لیا ۔۔
ایڈیشن شائع ہوا تو بی اے جمال نے بہت پسند کیا اگلے ایڈیشن کیلئے مزید ہدایات دیں اور بتایا کہ اس میں مقامی فنکاروں کو کوریج دو ادھر ادھر سے مواد لے کر کم شائع کرو اور فوری طور پر اس دور کی معروف ڈرامہ آرٹسٹ بینا شمیم اور ان کے گلوکار شوہر عرفان خان کا انٹرویو کرادیا جو ملتان آرٹس کونسل میں زیر نمائش ڈرامہ ”ڈم ڈم ڈیگا” میں پرفارم کررہے تھے ان کا انٹرویو شائع ہونا تھا کہ ملتان کے ثقافتی حلقوں میں اخبار ایڈیشن ہماری اور بی اے جمال کی دھوم مچ گئی اور پھر ملتان اور دوسرے شہروں سے آنیوالے کوئی ہی ایسا فنکار ہوگا جس کا انٹرویو بی اے جمال کے توسط سے ہم نے نہ کیا ہو یا ڈائری نہ لکھی ہو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بی اے جمال سے قائم ہونے والا یہ صحافتی رشتہ دوستی اور ذاتی نہ ختم ہونے والے تعلق میں تبدیل ہوگیا جو9جولائی2026 کو ان کے سفر آخرت سے روانگی تک بغیر کسی گلے شکوے لالچ بہت زیادہ عزت و احترام سے قائم رہا ۔۔
ان کی یادیں ہمیشہ میرے دل میں تروتازہ رہیں گی۔۔
بی اے جمال صرف ایک نام نہیں بلکہ فنون لطیفہ کے ہر صنف کا ایک مکمل ادارہ اور اکیڈمی تھے بہت کم لوگ ان کو اصل نام بشیر احمد کے نام سے جانتے تھے وہ ہر جگہ بی اے جمال کے نام سے جانے او رپہچانے جاتے تھے ان کے آبائو اجداد بھارت سے ہجرت کرکے ملتان آئے اور ان کا خاندان جلال پور پیر والا میں آباد ہوا۔مگر بی اے جمال زندگی بھر ملتان میں بوہڑ گیٹ کے علاقے میں مقیم رہے میٹرک تک مسلم ہائی سکول سے تعلیم حاصل کی لکھنے پڑھنے کا شروع سے ہی جنون تھا ۔اپنے اس ذوق کی تسکین کیلئے بوہڑ گیٹ النگ پر تاج ہوٹل کے سامنے پبلک لائبریری بنائی جہاں سے بچے، نوجوان، بزرگ اور خواتین کتابیں، کہانیاں، افسانے اور ناول کرائے پر لے کر پڑھتے تھے اس لائبریری کی وجہ سے ان کا ملک کے بڑے بڑے پبلشرز سے تعلق قائم ہوا اور پھر انہوں نے اپنا ادارہ ”جمال پبلشرز ”کے نام سے قائم کیا جس نے سینکڑوں نادر اور نایاب کتب شائع کیں ماضی اور حال کے کئی نامور شعراء اور ادیبوں کو متعارف کرایا جمال پبلشرز کی شائع کردہ کتابوں کی نہ صرف مغربی بلکہ مشرقی پاکستان میں بھی بہت ڈیمانڈ تھی اور اس ادارے کی کتابیں ڈھاکہ، بنگال اور چٹاکانگ تک ہوتی اورمشرقی پاکستان میں خیبر تا کراچی پڑھی جاتی تھیں۔معروف عمران سیریز کے خالق مظہر کلیم ایم اے کو بھی بی اے جمال نے متعارف کرایا اور ”ایم اے ”بی اے جمال کے مرحوم بیٹے کا نام تھا ۔ مظہر کلیم ایم اے بعد ازاں یوسف برادرز سے منسلک ہوگئے اور اس ادارے نے کئی شہرہ آفاق کتب اور ناول شائع کئے ۔
جمال پبلشرز سے اپنی ادبی زندگی کا آغاز کرنیوالے کئی نئے لکھاریوں نے بعد میں بہت نام اور شہرت کمائی بی اے جمال ادب کی طرح ثقافتی دنیا کے بھی بے تاج بادشاہ تھے فلمی دنیا کے دور عروج میں لاہور کے فلمی سٹوڈیو میں ان کا طوطی بولتا تھا اور پاکستان کا کوئی بھی فلمساز، پروڈیوسر اور ہدایت کار ایسا نہ ہوگا جس کا بی اے جمال سے ذاتی تعلق اور دوستی نہ ہو ہدایت کار الطاف حسین، جمشید نقوی، فلمساز سرور بھٹی، عبدالسلام ، ایم اے زاہد، وجاہت عطرے، خواجہ پرویز کا شمار بی اے جمال مرحوم کے ذاتی دوستوں میں ہوتا تھا بی اے جمال ملتان کے ثقافتی حلقوں کی جان تھے۔ خداداد صلاحیتوں کے حامل بی اے جمال کو ثقافتی پروگرام آرگنائز کرنے میں بغیر کسی وسائل کے ملکہ حاصل تھا وہ ویران ثقافتی شو میں اپنی عمدہ اور گرجدار کمپیئرنگ سے جان ڈال دیتے تھے۔
مائیک ان کی کمزوری تھی جب بولتے تو سننے والے سنتے رہ جاتے لفظ صف باندھ کر ان کی شیرینی زبان سے ادا ہوتے۔ ہر مہمان اور فنکار کی خواہش ہوتی کہ بی اے جمال ہی ان کو سٹیج پر بلائے فنکار اور مہمان کو عزت دینا بی اے جمال پر ختم تھا کمپیئرنگ میں بی اے جمال نے بے شمار لڑکیوں اور لڑکوں کو متعارف کرایا جنہوں نے آگے جا کر بے پناہ شہرت و مقبولیت حاصل کی ۔فلمسٹار نین شہزادی، رمشا خان، طارق سندھو، عارف بھٹی، شاہد خان، معروف سرائیکی گلوکار ملک ارشد عرف شبو خان شہباز خان( مرحوم) اور کئی دوسرے ایسے نام ہیں جو بی اے جمال کے توسط سے سٹیج پر آئے ۔ بی اے جمال عزت کرنا اور کروانا جانتا تھا جنوبی پنجاب کا شاید ہی کوئی ایسا گلوکار، اداکار ، کامیڈین، ہدایت کار پروڈیوسر کمپیئر اور فنکار ہو جسے بی اے جمال نے ایوارڈز، میڈلز، تعریفی اسناد سے نواز کر اس کی حوصلہ افزائی نہ کی ہو بی اے جمال مرحوم کئی ایوارڈ شو کے بانی تھے وہ جب تک زندہ رہے بھرپور شوز کراکر فن ثقافت سے وابستہ افراد کی حوصلہ افزائی کرتے رہے بی اے جمال خود دنیا کے سب سے بڑے نگار ایوارڈ سمیت سینکڑوں ایوارڈز میڈلز اور اسناد یافتہ تھے۔بی اے جمال ایک خود دار انسان تھا ملک بھر کے بڑے بڑے سیاستدان،صنعت کار، افسران اور شخصیات اس کی مہمان بنتیں مگر اس نے آج تک کسی سے کوئی ذاتی مفاد نہ لیا وہ صرف اس بات پر خوش ہو جاتے تھے کہ اس شخصیت نے آکر ان کے پروگرام کو چار چاند لگا دیے ہیں۔ بی اے جمال کو شعر و شاعری سے بھی گہرا لگاؤ تھا اور وہ کسی بھی شاعر کا ہر اچھا شعر اپنی ڈائری پر محفوظ کر لیتے تھے اور ان اشعار کا دوران کمپیئرنگ بہترین اور خوبصورت انداز میں استعمال کرکے تقریب کو چار چاند لگا دیتے۔
مرحوم نے ایسے ایسے لوگوں کی حوصلہ افزائی کی جن کے بارے میں عام آدمی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ وہ بھی شوبز میں کام کر سکے گا مگر یہ بی اے جمال کا ہی ہنر اورکمال تھا کہ اس سے جو ملا وہ ہیرو بن گیا اور اس نے خوب نام ، دولت اور عزت کمائی۔ بی اے جمال نئے شعرا اور لکھاریوں کی بھرپور حوصلہ افزائی کرتے تھے جس اخبار رسالے یا جریدہ میں ممکن ہوتا اس کو ضرور کوریج دلاتے۔ شعبہ صحافت ان کا اوڑھنا بچھونا تھا گوکہ ان کا زیادہ تعلق فن و ثقافت تھا مگر ان کی ساری زندگی اخبارات کے دفاتر میں گزری ۔ بی اے جمال ایک وضع دار اور خود دار انسان تھے کبھی کسی پر بوجھ نہیں بنے کروڑ پتی لوگوں سے تعلق اور واسطہ رہا انہیں نمایاں کرتے رہے مگر زندگی بھر کسی سے کوئی امید وابستہ نہ رکھی اور نہ ان کے سامنے دست دراز کیا اور آخری وقت تک ان کا سرمایہ وہی ایک سائیکل، رسالوں اور اخباروں سے بھرا بستہ ،ٹیلی فون نمبروں کی پاکٹ ڈائری اور چند بال پوائنٹ تھے کئی سال قبل ان کے دو جواں سال بیٹے ایک ہی روز ٹریفک حادثے میں اللہ کو پیارے ہوگئے تھے جو بقول ان کے بہت بڑا سانحہ تھا اور وہ اکثر ان کا ذکر کرکے آبدیدہ ہو جاتے ایک ٹانگ سے معمولی معذوری کے باوجود زندگی بھر سائیکل پر سوار ہو کر رزق حلال کما کر خود کھایا اور اپنے بچوں کو بھی کھلایا چند سال قبل ان کا ایک اور چہیتا بیٹا عدنان جمال معمولی بیماری کے بعد خالق حقیقی سے جا ملا جس نے بی اے جمال کو توڑ کر رکھ دیا ۔عدنان جمال کی وفات کے بعد بی اے جمال اکثر رنجیدہ رہتے مگر وہ اپنے دل کا غم کسی پر ظاہر نہ کرتے بلکہ ہمیشہ عوام میں خوشیاں بانٹنے میں مگن رہتے دو سال قبل بوہڑ گیٹ بازار میں رش کے باعث وہ سائیکل سے گر گئے اور ان کا کولہا ٹوٹ گیا آپریشن کے بعد ڈاکٹرز نے انہیں مکمل آرام کا مشورہ دیا مگر آزاد منش اور زندہ دل بی اے جمال گھر نہ بیٹھ سکے بیماری کے باوجود وہ ہر دوست کو ملتے رہے پھروگراموں میں جا کر ان کی رونقیں بڑھاتے رہے مگر چوٹ اور زخم گہرے تھے اور وہ اس قابل نہ رہے کہ محفلوں اور پروگراموں میں آکر اپنی گرجدار آواز سے فنکاروں کو گرماسکیں اور کچھ دن علیل رہنے کے بعد9جولائی 2026کی صبح اللہ کے حضور پیش ہوگئے۔
بی اے جمال ایک زندہ دن انسان تھے ۔کبھی کسی پر بوجھ نہیں بنے کسمپرسی کی زندگی گزارنے کے باوجود ہمیشہ چہرے پر مسکراہٹ رکھی غموں کو سمیٹا خوشیاں بانٹیں دوسروں کی ترقی کیلئے سیڑھی بنے کبھی کسی کی دل آزاری نہ کی سب کی حوصلہ افزائی کرتے اور جس فنکار ، گلوکار یا لکھاری کو سب مسترد کر دیتے بی اے جمال اسے قبول کر کے اپنا بنا لیتے اور پھر ایک دن اسے تراش خراش کر اسے ہیرا بنا کر اسی کے سامنے لا کھڑا کرتے جو اسے کبھی قبول کرنے کو تیار نہ ہوتا تھا ۔ بی اے جمال مرحوم کی وفات کی خبر مجھ پر پہاڑ بن کر گری اور سالوں پر مبنی تعلق اور پر خلوص رشتہ لمحہ بھر میں غمگین اور آنسو زدہ آنکھوں اور دماغ میں گھوم گیا بی اے جمال صرف ایک انسان کا نام نہیں بلکہ کئی اداروں، اکیڈمیوں کا نام ہے جن کے وہ بلا معاوضہ فری لانسر پروفیسر تھے کسی ایک مضمون یا چند صفحات پر بی اے جمال کی زندگی کا مکمل احاطہ کرنا شاید میرے لیے کیا کسی کے بھی بس کی بات نہ ہو ان کی زندگی کے ہر پہلو پر مکمل ایک کتاب لکھی جاسکتی ہے۔
دریں اثنا سینکڑوں افراد نے سوشل میڈیا پر بی اے جمال کی اچانک وفات کو شعبہ ثقافت، ادب اور صحافت کیلئے نا قابل تلافی نقصان قرار دیا فنون لطیفہ کیلئے ان کی گرانقدر خدمات کو سراہا اور شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا ۔ خاتون صحافی رضوانہ شاہین اعوان، محمد حفیظ ، تاجر رہنما ملک محمد اقبال، چودھری مسعود، ناصر اقبال، محمد عمر اکبر، رانا سرور لطیف، بلال آصف، بلال ملک، شوکت ملک، دل محمد خان، سعید اللہ خان درانی ، پیر مختیار حسین سومرو، ایاز خان، ہدایت کار یوسف کامران، زویا خان، نین شہزادی، خلیل چوہان، میک اپ مین منیر راج، میاں وحید الرحمن، غفار چوہان ، جی آر گرمانی، سوشل میڈیا ایکٹوسٹ کامران خان مگسی، شہزاد اویسی، شکیل انجم، مظہر خان، شہزدا خان درانی ، محمد حامد ندیم، ےٰسین طاہر، خالد چودھری ، چودھری محمد ادریس، محمد شفیق شاہد، امین باقر، معروف گلوکار ملک ارشد عرف شبو ، قیصر عباس صدیقی، میاں محمد رزاق، ماہر سماجیات میاں محمد ارشد ارائیں ،حاجی خلیل راں نے بی اے جمال کی وفات پر گہرے دکھ و افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کے ایصال ثواب کیلئے فاتحہ خوانی اور دعائے مغفرت کی ۔بی اے جمال نہ صرف خطہ ملتان بلکہ یہاں کی صحافت ، ادب، ثقافت کی چلتی پھرتی تاریخ تھے ۔وہ فنون لطیفہ کے ہر شعبہ کے عروج و زوال سے مکمل آشنا تھے ۔بی اے جمال گوکہ ہمیں چھوڑ گیا مگر مختلف شعبوں میں لگائے ہوئے پودے آج بھی ان شعبوں کو سایہ دے رہے ہیں اس کے جلائے ہوئے چراغ آج بھی پوری آب و تاب کے ساتھ روشن ہیں اور ان شاء اللہ ہمیشہ روشن رہیں گے ۔اللہ تعالیٰ ہمارے اس پیارے، اچھے اور سچے دوست، مخلص ساتھی اور بھائی کو جوار رحمت میں جگہ دے اور لواحقین کو صبروجمیل عطا فرمائے ۔
فیس بک کمینٹ

