حال ہی میں بھارت میں چلی طلبہ تحریک انتہائی منظم اور پرامن رہتے ہوئے اپنے تمام مطالبات منوانے میں کامیاب ہوگئی۔ اس کے نتیجے میں مودی سرکار کا دھڑن تختہ بھی نہیں ہوا۔ جنتا کو فسطائی ہتھکنڈوں کے ذریعے غلام وفرمان بردار بنانے کے لئے مگر اسے اب سوبار سوچنا ہوگا۔ جو تحریک چلی اسے روایتی سوچ کے مطابق جین-زی تک محدود رکھنا بھی زیادتی ہوگی۔
مذکورہ تحریک کا علم ابلاغ کے مختلف پیمانوں سے جائزہ لینے والوں نے دریافت کیا ہے کہ 2011ء کی عرب تحریک کا کلیدی ہتھیار سوشل میڈیا کا وہ پلیٹ فارم رہا جو ان دنوں ٹویٹر اور آج ایکس(X)کہلاتا ہے۔ بھارتی تحریک کے دوران مگر سوشل میڈیا کا انسٹاگرام کلیدی ہتھیار کی صورت ابھرا۔ انسٹا کا ذکر آیا تو آج سے تقریباََ 3برس قبل میرے دانتوں کا پیچیدہ آپریشن کرنے والی ایک شفیق ڈاکٹر نے یہ بتاکر حیران کردیا تھا کہ ’’خبروں‘‘ کا علم انہیں انسٹا کی بدولت ہوتا ہے۔ میں جاہل اس وقت تک اس پلیٹ فارم سے آشنا ہی نہیں تھا۔ میری چھوٹی بیٹی نے یہ اطلاع دے کر مزید حیران کردیا کہ وہ اپنی ماں کو جانوروں کے معالجین اور گھریلو استعمال کی اشیاء خریدنے کے لئے اکثر اسی ایپ کی بدولت آگاہ کرتی ہے۔ بیٹی سے فرمائش کا حوصلہ نہ ہوا۔ ایک نوجوان صحافی دوست سے درخواست کی کہ وہ میرا انسٹاگرام اکاؤنٹ بنادے۔ اس نے بنادیا تو اس کے ایما پر بنائی چند ویڈیو اس پلیٹ فارم پر پوسٹ کرنے کے بعد سمجھ نہ آئی کہ انسٹاگرام کو کیا اور کونسے پیغامات دینے کے لئے استعمال کروں۔ بھارتی تحریک کے حوالے سے اس کا ذکر سن کر اپنا اکاؤنٹ کھولنا چاہا تو اس کا پاس ورڈ بھول چکا تھا۔ ’’انقلابی‘‘ پیغامات دینے کی سہولت سے گویا محروم ہوچکا ہوں۔
انسٹا گرام کا بھارتی طلبہ تحریک کے حوالے سے کلیدی کردار کا ذکر ہوا تو یاد آیا کہ بھارت کی مشہور صحافی شوبھاڈے کی مذکورہ تحریک کے دوران بنائی ریلز سوشل میڈیا پر بہت مقبول ہوئی تھیں۔ شو بھا میری نوجوانی کے دنوں میں ایک مشہور فلمی جریدے کے لئے ناموراداکاروں کے سکینڈل انتہائی چسکے دار انگریزی میں لکھا کرتی تھی۔ ان کے لکھے چند ناول اور دیگر تحریریں پاک باز افراد کو یقینا مخرب اخلاقی محسوس ہوں گی۔ عمر رسیدہ خاتون ہوجانے کے باوجود آج بھی بن ٹھن کر رہتی ہیں۔ زندگی کے ہر لمحے سے لطف اندوز ہونے کو بے چین۔ نظر بظاہر ’’عشرت کی دلدادہ‘‘ شوبھاڈے مگر طلبہ تحریک کے دوران احتجاجی طلبہ کی حمایت میں ڈٹ کر بولتی رہیں۔ وہ دہلی سے کوسوں دور ممبئی میں مقیم ہیں۔ اپنے گھر سے مگر روزانہ کی بنیاد پر انسٹا گرام کے ذریعے طلبہ کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتی رہیں۔ مودی سرکار نے سوشل میڈیا کمپنیوں کے بھارت میں موجود نمائندوں پر دباؤ ڈال کر ان کی ریلز کی اشاعت رکوانا شروع کردیں۔ ٹیک کمپنیوں کے نمائندوں سے لیکن وہ مسلسل جھگڑتی رہیں۔ بالآخر ان کی تیار کردہ ریلز انسٹاگرام اپنے پلیٹ فارم پر لگانے کو مجبور ہوگیا۔
بھارت ہی کی برکھادت تقریباََ روزانہ کی بنیاد پر جنتر منتر پہنچ کر مظاہرین سے اپنے یوٹیوب کے لئے گفتگو کرتی رہیں۔ ایک اور مشہور صحافی تولین سنگھ بھی اپنے کالموں کے ذریعے مودی حکومت کے سخت گیر رویے کی مذمت کرتی رہیں۔ شوبھاڈے، برکھا دت اور تولین سنگھ کسی بھی حوالے سے جین-زی کا حصہ نہیں ہیں۔ تقریباََ میری ہم عصر ہیں۔ طلبہ تحریک کے کلیدی پیغام کو مگر وسیع تر حلقوں تک پہنچانے میں انہوں نے اہم کردار ادا کیا ہے۔
طلبہ تحریک میں ان کا متحرک کردار اس حقیقت کو نمایاں کرتا ہے کہ ہمارے ہاں کے پنجابی محاورے کے اونترے منڈوں کی طرح ہمہ وقت ہر بڑی عمر کے شخص کو بکاؤ پکارکر ’’شودر‘‘ کا درجہ دینے والے جین زی کے خودساختہ نمائندے محض گفتار کے غازی ہیں۔ توجہ کے حصول کے لئے سوشل میڈیا پر واہی تباہی بکتے ہیں اور ان کے ہاں وطن عزیز کو مثبت راہوں پر چلانے کا کوئی واضح ایجنڈا اور حکمت عملی موجود نہیں ہے۔ غالباََ اسی باعث ہمارے ہاں نوجوانوں میں ’’غیر معمولی حد تک مقبول‘‘ تصور ہوتی تحریک انصاف اپنے اہداف کے حصول میں مسلسل ناکام ہورہی ہے۔
بھارتی طلبہ تحریک مودی سرکار کو جھکانے میں کامیاب ہوئی کیونکہ اس نے ایک ایسے مسئلے پر توجہ دی جو بھارت کے شہری متوسط کے تقریباََ ہر گھر کا مسئلہ تھا۔ سرکاری طورپر چلائے میڈیکل کالجوں میں داخلے کے لئے بھارت جیسے بڑے ملک میں فقط ایک لاکھ 39ہزار نشستیں میسر ہیں۔ ان نشستوں کے حصول کیلئے Neet(نیٹ) کے نام سے جو امتحان لیا جاتا ہے اس میں 20لاکھ سے زیادہ طلبہ نے حصہ لیا۔ امتحان میں شریک ہونے والے طلبہ کا تعلق بھارت کے ہر صوبے سے تھا۔ اسی باعث مذکورہ امتحان کے پیپر لیک ہونے کی خبریں منظر عام پر آئیں تو بھارت کا تقریباََ ہر شہری سیاسی، مذہبی، لسانی اور صوبائی تفریق بھلاکر پریشان ہوگیا۔ اس کے دْکھ کو زبان دینے امریکہ میں ذہن سازی کی تعلیم حاصل کرنے والے ایک طالبعلم نے ’’کاکروچ جنتا پارٹی‘‘ کے نام سے ایک جماعت بنالی اور نیٹ کے امتحان کے دوران ہوئی نوسربازی کے خلاف احتجاجی تحریک چلانے کے لئے سوشل میڈیا کے ہر پلیٹ فارم کو انتہائی تخلیقی انداز میں استعمال کرنا شروع ہوگیا۔ سوشل میڈیا پر راتوں رات مقبول ہوجانے کے باوجود احتجاج کے لئے مؤثر تعداد مگر جمع نہ ہوپائی۔ لوگ شاید کاکروچ جتنا پارٹی کو مذاق کی طرح لے کربھول جاتے۔
’’نیٹ‘‘ کے خلاف چلائی تحریک میں اصل جان مگر ایک سماجی کارکن نے ڈالی۔ وانگ چک اس کا نام ہے۔ تعلق اس کا لداخ سے ہے اور وہ پیشے کے اعتبار سے انجینئر ہے۔1988ء سے لداخ کے پسماندہ گھرانوں کے بچوں کو مقامی زبان اور روایات کو نگاہ میں رکھ کر بنائے نصاب کے ذریعے ’’اعلیٰ تعلیم یافتہ‘‘ منوارہا ہے۔ لداخ سے وہ دلی آکر تادم مرگ بھوک ہڑتال کو بیٹھ گیا۔ اس کیساتھ 6طالب علم بھی شامل ہوگئے۔ تادم مرگ بھوک ہڑتال پر بیٹھی ایک بچی-نیہا بورا- نے میڈیا پر اپنی گفتگو کے ذریعے دھاک بٹھادی۔ وہ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ۔لیننسٹ )سے منسلک آل انڈیا سٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کے مرکزی رہ نماؤں میں شامل ہے۔ فوجی گھرانے سے تعلق کے باوجود انقلابی نظریات کی حامل یہ بچی ان دنوں پی ایچ ڈی کی طالبہ ہے۔ ’’نیٹ‘‘ کے خلاف چلائی تحریک کا وہ اپنی قادر کلامی کے سبب مؤثر ترین ترجمان ثابت ہوئی۔ 23سے زیادہ دن تک پھیلی بھوک ہڑتال نے مودی سرکار کے ہاتھ پاؤں پھولا دئے اور اس کے خوف سے وہ جھکتی چلی گئی۔
بھارتی طلبہ تحریک کی چند تفصیلات کا اخباری کالم کے لئے مختصر الفاظ میں ذکر کرنے کا بنیادی مقصد یہ احساس دلانے کی کوشش کرنا ہے کہ جین زی کی اہمیت اپنی جگہ مسلمہ ہے۔ اس کی جانب سے چلائی تحریک کی کامیابی کیلئے مگر لازمی ہے کہ وہ اپنے سوا دیگر افراد کو ’’بکاؤ‘‘ اور نظام کہنہ کا نمائندہ ٹھہراتے ہوئے اپنی صفوں سے دور رکھنے کا رویہ اختیار نہ کرے۔ ان کے نام اور تجربات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اپنا حامی بناتے ہوئے حکومتوں کو معقول سمجھوتوں کے لئے مجبور کرے۔ لچک اور کشادہ دلی کے بغیر چلائی تحاریک بالآخر تخت یا تختہ کی جانب چل پڑی ہیں جس کے انجام پر ریاست نام نہاد عرب بہار کے انجام کی طرح مزید طاقتور اور سفاک ہوجاتی ہے۔
( بشکریہ : نوائے وقت )
فیس بک کمینٹ

