Close Menu
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
Facebook X (Twitter)
بدھ, جولائی 29, 2026
  • پالیسی
  • رابطہ
Facebook X (Twitter) YouTube
GirdopeshGirdopesh
تازہ خبریں:
  • ریاست، کشمیر اور پاکستانی عوام کا امتحان : ڈاکٹر علی شاذف کا کالم
  • راولا کوٹ میں سرکاری اہلکار سمیت 18 افراد لقمہ اجل بن گئے : عوامی ایکشن کمیٹی کی کال پر میرپور میں مکمل ہڑتال
  • بی اے جمال : ملتان کی ثقافتی دنیا کا شہزادہ جو اپنی ذات میں انجمن بھی تھا ، ادارہ بھی : محمود احمد چوہدری کی یاد نگاری
  • پاکستان کشمیر پر اپنا مقدمہ ہار رہا ہے۔۔ سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • پیٹرول ایک روپے لیٹر سستا کرنے کے بعد اگلے ہی روز ایک روپے 63 پیسے کا اضافہ
  • سابق وفاقی وزیر ، ذوالفقار علی بھٹو اور بی بی ساتھی ملک مختار احمد اعوان انتقال کر گئے
  • نام نہاد عرب بہار اور بھارتی سی جے پی کی کامیاب تحریک : نصرت جاوید کا کالم
  • رضا علی عابدی کے درِ دل پر دستک : شاکر حسین شاکر کا کالم
  • ظریف احسن نے عمر بھر خود کو شعر و ادب کی خدمت کے لیے وقف کیے رکھا
  • راولا کوٹ میں پانچ کارکنوں کی ہلاکت ہوئی : جوائنٹ ایکشن کمیٹی ۔۔ پولیس کا تصدیق سے گریز
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
GirdopeshGirdopesh
You are at:Home»لکھاری»ریاست، کشمیر اور پاکستانی عوام کا امتحان : ڈاکٹر علی شاذف کا کالم
لکھاری

ریاست، کشمیر اور پاکستانی عوام کا امتحان : ڈاکٹر علی شاذف کا کالم

ایڈیٹرجولائی 29, 20266 Views
Facebook Twitter WhatsApp Email
new logo shazif
Share
Facebook Twitter WhatsApp Email

یہ پاکستان کے حق پرست عوام کا امتحان ہے۔
یہ ان لوگوں کا امتحان ہے جو گزشتہ ستتر برس سے فلسطینی مظلوموں کے ساتھ کھڑے رہے ہیں، اگرچہ ان کی اکثریت کبھی مجبور بلوچوں، پشتونوں، سندھیوں اور سرائیکیوں کے لیے اسی طرح کھڑی نہیں ہوئی۔ اس کی ایک وجہ سمجھ میں آتی ہے۔ وہ ریاستِ پاکستان کے وفادار رہے ہیں۔
وہ اس ریاست کے وفادار رہے جس کی فوج نے بھارت کے ساتھ کم از کم چار جنگیں لڑیں، اور وہ ہر جنگ میں فوج کے ساتھ کھڑے ہوئے۔ وہ اس فوج کے ساتھ بھی کھڑے ہوئے جس نے بنگالیوں پر جبر کیا تاکہ انہیں اپنے بنیادی انسانی حقوق مانگنے اور اپنی الگ ریاست قائم کرنے سے روکا جا سکے۔ وہ مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنتے نہیں دیکھنا چاہتے تھے، کیونکہ ان کے نزدیک دو قومی نظریے پر قائم ہونے والی اسلامی ریاست کا برقرار رہنا سب سے بڑی قومی ضرورت تھی۔
اس مقصد کے لیے انہوں نے یہ بھی نظرانداز کر دیا کہ جنرل نیازی کی فوج نے کتنی مسلمان بنگالی ماؤں اور بیٹیوں کی عصمت دری کی۔ وہ جانتے تھے کہ وہ بھی انہی کی طرح ایک اللہ اور اس کے آخری رسول ﷺ پر ایمان رکھتی تھیں، مگر انہوں نے سوال نہیں کیا۔ انہوں نے مطالعۂ پاکستان پڑھا، اپنے بچوں کو پڑھایا، ریاستی بیانیے کو قبول کیا، اور برسوں تک اس پر کوئی سوال نہ اٹھایا۔
انہوں نے ایسا صرف خوف کی وجہ سے نہیں کیا بلکہ یقین کی وجہ سے بھی کیا۔ انہیں بتایا گیا کہ پاکستان ان کا ایمان ہے، مملکتِ خداداد ہے، اور اللہ کی عطا کردہ سب سے بڑی نعمت ہے۔ انہوں نے اس یقین کو اپنا عقیدہ بنا لیا۔
وہ اس نعمت پر شکر گزار رہے، اگرچہ انہیں روٹی، کپڑا، مکان، تعلیم اور صحت جیسی بنیادی ضروریات سے محروم رکھا گیا۔ وہ وفادار رہے، حالانکہ ان کے محبوب سیاسی رہنماؤں کو پھانسی دی گئی، قید و بند میں رکھا گیا، شاہی قلعے میں تشدد کیا گیا اور سرعام کوڑے برسائے گئے۔
انہوں نے بلوچ اور پشتون رہنماؤں سے نفرت بھی سیکھی، جبری گمشدگیوں پر خاموشی بھی اختیار کی، اور ہر اس آواز کو شک کی نگاہ سے دیکھا جسے ریاست نے دشمن قرار دیا۔ یہ سب انہوں نے کسی ذاتی فائدے کے لیے نہیں بلکہ ریاست سے اپنی غیر مشروط وفاداری کے تحت کیا۔
وہ معاشی تنگ دستیوں پر شکوہ کرتے رہے، مگر احتجاج کے لیے سڑکوں پر نہیں نکلے۔ وہ ریاست کو مشکل میں نہیں ڈالنا چاہتے تھے۔ انہیں یقین دلایا گیا تھا کہ ایک طرف بھارت اور دوسری طرف افغانستان ریاست کے درپے ہیں، اور اگر قوم کمزور پڑ گئی تو بلوچستان، خیبر پختونخوا اور سندھ بھی کہیں مشرقی پاکستان کی طرح الگ نہ ہو جائیں۔
وہ اپنا خواب بچانا چاہتے تھے؛ وہ خواب جو قائداعظم محمد علی جناح سے منسوب کیا جاتا ہے۔ انہوں نے قائداعظم کی تصویر درسی کتابوں میں دیکھی، کرنسی نوٹوں پر دیکھی، ان کے اقوال یاد کیے، اپنے بچوں کو یاد کروائے، اور ریاستی وفاداری کو قومی فرض سمجھا۔
وہ آپس میں لڑتے تھے مگر قومی مفاد کے نام پر متحد ہو جاتے تھے۔ وہ اپنے بچوں کے قتل پر بھی ریاست کے خلاف زبان نہیں کھولتے تھے۔ ہر بحران میں اپنی فوج کو دنیا کی بہترین فوج کہتے، آئی ایس پی آر کے ملی نغموں پر فخر کرتے، قومی ترانہ پڑھتے ہوئے سینہ تان لیتے، اور "سایۂ خدائے ذوالجلال” پر سر جھکا دیتے۔ وہ ریاستی بیانیے کو اپنا بیانیہ سمجھتے تھے اور اس کے مخالفین کو دشمن تصور کرتے تھے۔
اور انہی نعروں میں ایک نعرہ ہمیشہ سب سے بلند رہا:
*”کشمیر بنے گا پاکستان۔”*
ذرا اسی نعرے پر رک جائیے۔
گزشتہ ستتر برس سے پاکستانی عوام نے، خواہ ریاست کے کہنے پر ہی سہی، کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ سمجھا ہے۔ انہوں نے ہمیشہ بھارتی زیرِ انتظام کشمیر کو مقبوضہ کشمیر کہا، کشمیریوں پر بھارتی مظالم کی مذمت کی، پیلٹ گنوں سے زخمی ہونے والے نوجوان دیکھے، بھارتی فوج کو گولیاں چلاتے دیکھا، اور انہی مناظر کے ساتھ ان کی اجتماعی سیاسی تربیت ہوئی۔
یہ درست ہے کہ پاکستانی حکمرانوں نے کشمیریوں کا معاشی استحصال بھی کیا، مگر پاکستانی عوام نے اسے شاید اسی طرح برداشت کیا جیسے انہوں نے اپنے ساتھ ہونے والا استحصال برداشت کیا۔
فرق صرف اتنا ہے کہ آج سوشل میڈیا کا زمانہ ہے۔
آج حقیقت چھپانا پہلے جیسا آسان نہیں رہا۔ جہاں ظلم ہوگا، وہاں کسی نہ کسی کا کیمرہ بھی ہوگا۔ اب تصاویر، ویڈیوز اور عینی شہادتیں سرحدوں کی محتاج نہیں رہیں۔
اگر پاکستانی عوام کے سامنے واقعی یہ تاثر قائم ہو چکا ہے کہ نہتے کشمیریوں پر ظلم ہوا ہے، تو پھر یہ محض ایک سیاسی واقعہ نہیں رہے گا؛ یہ ان کے اس اجتماعی شعور کا امتحان ہوگا جو دہائیوں سے کشمیر کے مسئلے پر تشکیل پایا ہے۔
حکمران اسے جھٹلا سکتے ہیں، اسے پروپیگنڈا قرار دے سکتے ہیں، مختلف توجیہات پیش کر سکتے ہیں، مگر اگر عوام کا یقین متزلزل ہو گیا تو مسئلہ صرف ایک واقعے کا نہیں رہے گا بلکہ پورے ریاستی بیانیے کی ساکھ کا بن جائے گا۔
یہی وجہ ہے کہ آج بہت سے لوگ خاموش ہیں، مگر شاید خاموشی ہمیشہ بے حسی نہیں ہوتی۔ بعض اوقات خاموشی گہرے صدمے کی علامت بھی ہوتی ہے۔
ممکن ہے وہ پہلی مرتبہ اپنی ریاست سے وہی سوال پوچھنے لگیں جو وہ ہمیشہ دوسروں کی ریاستوں سے پوچھتے آئے ہیں۔
شاید وقت آ گیا ہے کہ پاکستانی عوام صرف کشمیریوں کے لیے نہیں بلکہ اپنے تمام ہم وطنوں کے لیے بھی یکساں اصول اختیار کریں۔ اگر ظلم، ظلم ہے تو اس کی مذمت مظلوم کی شناخت دیکھ کر نہیں ہونی چاہیے۔ اگر انسانی وقار کی حفاظت ضروری ہے تو وہ ہر انسان کے لیے ضروری ہونی چاہیے، خواہ وہ کشمیر میں ہو، بلوچستان میں، خیبر پختونخوا میں، سندھ میں، پنجاب میں یا پاکستان کے کسی بھی حصے میں۔
ریاستیں طاقت سے قائم رہ سکتی ہیں، مگر صرف طاقت کے بل پر دیرپا نہیں ہوتیں۔ ان کی اصل بنیاد انصاف، اعتماد اور اخلاقی جواز ہوتا ہے۔ جب یہ بنیادیں کمزور ہونے لگتی ہیں تو سب سے پہلے ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کا رشتہ ٹوٹتا ہے۔
شاید یہی وہ لمحہ ہے جب پاکستانی عوام کو صرف کشمیریوں کے لیے نہیں بلکہ اپنے لیے بھی آواز بلند کرنی ہوگی۔ کیونکہ جو قوم دوسروں کے حقوق کے لیے حساس ہو مگر اپنے معاشرے میں ہونے والے ظلم پر خاموش رہے، وہ بالآخر اپنی اخلاقی قوت بھی کھو دیتی ہے۔
ساحر لدھیانوی کے انقلابی شعر کے ساتھ اپنی بات ختم کرتا ہوں:
ظلم پھر ظلم ہے، بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے
خون پھر خون ہے، ٹپکے گا تو جم جائے گا

فیس بک کمینٹ

  • 0
    Facebook

  • 0
    Twitter

  • 0
    Facebook-messenger

  • 0
    Whatsapp

  • 0
    Email

  • 0
    Reddit

Share. Facebook Twitter WhatsApp Email
Previous Articleراولا کوٹ میں سرکاری اہلکار سمیت 18 افراد لقمہ اجل بن گئے : عوامی ایکشن کمیٹی کی کال پر میرپور میں مکمل ہڑتال
ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

راولا کوٹ میں سرکاری اہلکار سمیت 18 افراد لقمہ اجل بن گئے : عوامی ایکشن کمیٹی کی کال پر میرپور میں مکمل ہڑتال

جولائی 29, 2026

بی اے جمال : ملتان کی ثقافتی دنیا کا شہزادہ جو اپنی ذات میں انجمن بھی تھا ، ادارہ بھی : محمود احمد چوہدری کی یاد نگاری

جولائی 29, 2026

پاکستان کشمیر پر اپنا مقدمہ ہار رہا ہے۔۔ سید مجاہد علی کا تجزیہ

جولائی 29, 2026

Comments are closed.

حالیہ پوسٹس
  • ریاست، کشمیر اور پاکستانی عوام کا امتحان : ڈاکٹر علی شاذف کا کالم جولائی 29, 2026
  • راولا کوٹ میں سرکاری اہلکار سمیت 18 افراد لقمہ اجل بن گئے : عوامی ایکشن کمیٹی کی کال پر میرپور میں مکمل ہڑتال جولائی 29, 2026
  • بی اے جمال : ملتان کی ثقافتی دنیا کا شہزادہ جو اپنی ذات میں انجمن بھی تھا ، ادارہ بھی : محمود احمد چوہدری کی یاد نگاری جولائی 29, 2026
  • پاکستان کشمیر پر اپنا مقدمہ ہار رہا ہے۔۔ سید مجاہد علی کا تجزیہ جولائی 29, 2026
  • پیٹرول ایک روپے لیٹر سستا کرنے کے بعد اگلے ہی روز ایک روپے 63 پیسے کا اضافہ جولائی 29, 2026
زمرے
  • جہان نسواں / فنون لطیفہ
  • اختصاریئے
  • ادب
  • کالم
  • کتب نما
  • کھیل
  • علاقائی رنگ
  • اہم خبریں
  • مزاح
  • صنعت / تجارت / زراعت

kutab books english urdu girdopesh.com



kutab books english urdu girdopesh.com
کم قیمت میں انگریزی اور اردو کتب خریدنے کے لیے کلک کریں
Girdopesh
Facebook X (Twitter) YouTube
© 2026 جملہ حقوق بحق گردوپیش محفوظ ہیں

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.