یہ پاکستان کے حق پرست عوام کا امتحان ہے۔
یہ ان لوگوں کا امتحان ہے جو گزشتہ ستتر برس سے فلسطینی مظلوموں کے ساتھ کھڑے رہے ہیں، اگرچہ ان کی اکثریت کبھی مجبور بلوچوں، پشتونوں، سندھیوں اور سرائیکیوں کے لیے اسی طرح کھڑی نہیں ہوئی۔ اس کی ایک وجہ سمجھ میں آتی ہے۔ وہ ریاستِ پاکستان کے وفادار رہے ہیں۔
وہ اس ریاست کے وفادار رہے جس کی فوج نے بھارت کے ساتھ کم از کم چار جنگیں لڑیں، اور وہ ہر جنگ میں فوج کے ساتھ کھڑے ہوئے۔ وہ اس فوج کے ساتھ بھی کھڑے ہوئے جس نے بنگالیوں پر جبر کیا تاکہ انہیں اپنے بنیادی انسانی حقوق مانگنے اور اپنی الگ ریاست قائم کرنے سے روکا جا سکے۔ وہ مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنتے نہیں دیکھنا چاہتے تھے، کیونکہ ان کے نزدیک دو قومی نظریے پر قائم ہونے والی اسلامی ریاست کا برقرار رہنا سب سے بڑی قومی ضرورت تھی۔
اس مقصد کے لیے انہوں نے یہ بھی نظرانداز کر دیا کہ جنرل نیازی کی فوج نے کتنی مسلمان بنگالی ماؤں اور بیٹیوں کی عصمت دری کی۔ وہ جانتے تھے کہ وہ بھی انہی کی طرح ایک اللہ اور اس کے آخری رسول ﷺ پر ایمان رکھتی تھیں، مگر انہوں نے سوال نہیں کیا۔ انہوں نے مطالعۂ پاکستان پڑھا، اپنے بچوں کو پڑھایا، ریاستی بیانیے کو قبول کیا، اور برسوں تک اس پر کوئی سوال نہ اٹھایا۔
انہوں نے ایسا صرف خوف کی وجہ سے نہیں کیا بلکہ یقین کی وجہ سے بھی کیا۔ انہیں بتایا گیا کہ پاکستان ان کا ایمان ہے، مملکتِ خداداد ہے، اور اللہ کی عطا کردہ سب سے بڑی نعمت ہے۔ انہوں نے اس یقین کو اپنا عقیدہ بنا لیا۔
وہ اس نعمت پر شکر گزار رہے، اگرچہ انہیں روٹی، کپڑا، مکان، تعلیم اور صحت جیسی بنیادی ضروریات سے محروم رکھا گیا۔ وہ وفادار رہے، حالانکہ ان کے محبوب سیاسی رہنماؤں کو پھانسی دی گئی، قید و بند میں رکھا گیا، شاہی قلعے میں تشدد کیا گیا اور سرعام کوڑے برسائے گئے۔
انہوں نے بلوچ اور پشتون رہنماؤں سے نفرت بھی سیکھی، جبری گمشدگیوں پر خاموشی بھی اختیار کی، اور ہر اس آواز کو شک کی نگاہ سے دیکھا جسے ریاست نے دشمن قرار دیا۔ یہ سب انہوں نے کسی ذاتی فائدے کے لیے نہیں بلکہ ریاست سے اپنی غیر مشروط وفاداری کے تحت کیا۔
وہ معاشی تنگ دستیوں پر شکوہ کرتے رہے، مگر احتجاج کے لیے سڑکوں پر نہیں نکلے۔ وہ ریاست کو مشکل میں نہیں ڈالنا چاہتے تھے۔ انہیں یقین دلایا گیا تھا کہ ایک طرف بھارت اور دوسری طرف افغانستان ریاست کے درپے ہیں، اور اگر قوم کمزور پڑ گئی تو بلوچستان، خیبر پختونخوا اور سندھ بھی کہیں مشرقی پاکستان کی طرح الگ نہ ہو جائیں۔
وہ اپنا خواب بچانا چاہتے تھے؛ وہ خواب جو قائداعظم محمد علی جناح سے منسوب کیا جاتا ہے۔ انہوں نے قائداعظم کی تصویر درسی کتابوں میں دیکھی، کرنسی نوٹوں پر دیکھی، ان کے اقوال یاد کیے، اپنے بچوں کو یاد کروائے، اور ریاستی وفاداری کو قومی فرض سمجھا۔
وہ آپس میں لڑتے تھے مگر قومی مفاد کے نام پر متحد ہو جاتے تھے۔ وہ اپنے بچوں کے قتل پر بھی ریاست کے خلاف زبان نہیں کھولتے تھے۔ ہر بحران میں اپنی فوج کو دنیا کی بہترین فوج کہتے، آئی ایس پی آر کے ملی نغموں پر فخر کرتے، قومی ترانہ پڑھتے ہوئے سینہ تان لیتے، اور "سایۂ خدائے ذوالجلال” پر سر جھکا دیتے۔ وہ ریاستی بیانیے کو اپنا بیانیہ سمجھتے تھے اور اس کے مخالفین کو دشمن تصور کرتے تھے۔
اور انہی نعروں میں ایک نعرہ ہمیشہ سب سے بلند رہا:
*”کشمیر بنے گا پاکستان۔”*
ذرا اسی نعرے پر رک جائیے۔
گزشتہ ستتر برس سے پاکستانی عوام نے، خواہ ریاست کے کہنے پر ہی سہی، کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ سمجھا ہے۔ انہوں نے ہمیشہ بھارتی زیرِ انتظام کشمیر کو مقبوضہ کشمیر کہا، کشمیریوں پر بھارتی مظالم کی مذمت کی، پیلٹ گنوں سے زخمی ہونے والے نوجوان دیکھے، بھارتی فوج کو گولیاں چلاتے دیکھا، اور انہی مناظر کے ساتھ ان کی اجتماعی سیاسی تربیت ہوئی۔
یہ درست ہے کہ پاکستانی حکمرانوں نے کشمیریوں کا معاشی استحصال بھی کیا، مگر پاکستانی عوام نے اسے شاید اسی طرح برداشت کیا جیسے انہوں نے اپنے ساتھ ہونے والا استحصال برداشت کیا۔
فرق صرف اتنا ہے کہ آج سوشل میڈیا کا زمانہ ہے۔
آج حقیقت چھپانا پہلے جیسا آسان نہیں رہا۔ جہاں ظلم ہوگا، وہاں کسی نہ کسی کا کیمرہ بھی ہوگا۔ اب تصاویر، ویڈیوز اور عینی شہادتیں سرحدوں کی محتاج نہیں رہیں۔
اگر پاکستانی عوام کے سامنے واقعی یہ تاثر قائم ہو چکا ہے کہ نہتے کشمیریوں پر ظلم ہوا ہے، تو پھر یہ محض ایک سیاسی واقعہ نہیں رہے گا؛ یہ ان کے اس اجتماعی شعور کا امتحان ہوگا جو دہائیوں سے کشمیر کے مسئلے پر تشکیل پایا ہے۔
حکمران اسے جھٹلا سکتے ہیں، اسے پروپیگنڈا قرار دے سکتے ہیں، مختلف توجیہات پیش کر سکتے ہیں، مگر اگر عوام کا یقین متزلزل ہو گیا تو مسئلہ صرف ایک واقعے کا نہیں رہے گا بلکہ پورے ریاستی بیانیے کی ساکھ کا بن جائے گا۔
یہی وجہ ہے کہ آج بہت سے لوگ خاموش ہیں، مگر شاید خاموشی ہمیشہ بے حسی نہیں ہوتی۔ بعض اوقات خاموشی گہرے صدمے کی علامت بھی ہوتی ہے۔
ممکن ہے وہ پہلی مرتبہ اپنی ریاست سے وہی سوال پوچھنے لگیں جو وہ ہمیشہ دوسروں کی ریاستوں سے پوچھتے آئے ہیں۔
شاید وقت آ گیا ہے کہ پاکستانی عوام صرف کشمیریوں کے لیے نہیں بلکہ اپنے تمام ہم وطنوں کے لیے بھی یکساں اصول اختیار کریں۔ اگر ظلم، ظلم ہے تو اس کی مذمت مظلوم کی شناخت دیکھ کر نہیں ہونی چاہیے۔ اگر انسانی وقار کی حفاظت ضروری ہے تو وہ ہر انسان کے لیے ضروری ہونی چاہیے، خواہ وہ کشمیر میں ہو، بلوچستان میں، خیبر پختونخوا میں، سندھ میں، پنجاب میں یا پاکستان کے کسی بھی حصے میں۔
ریاستیں طاقت سے قائم رہ سکتی ہیں، مگر صرف طاقت کے بل پر دیرپا نہیں ہوتیں۔ ان کی اصل بنیاد انصاف، اعتماد اور اخلاقی جواز ہوتا ہے۔ جب یہ بنیادیں کمزور ہونے لگتی ہیں تو سب سے پہلے ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کا رشتہ ٹوٹتا ہے۔
شاید یہی وہ لمحہ ہے جب پاکستانی عوام کو صرف کشمیریوں کے لیے نہیں بلکہ اپنے لیے بھی آواز بلند کرنی ہوگی۔ کیونکہ جو قوم دوسروں کے حقوق کے لیے حساس ہو مگر اپنے معاشرے میں ہونے والے ظلم پر خاموش رہے، وہ بالآخر اپنی اخلاقی قوت بھی کھو دیتی ہے۔
ساحر لدھیانوی کے انقلابی شعر کے ساتھ اپنی بات ختم کرتا ہوں:
ظلم پھر ظلم ہے، بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے
خون پھر خون ہے، ٹپکے گا تو جم جائے گا
فیس بک کمینٹ

