زندگی کی جو سڑک ہمیں بظاہر خالی دکھائی دیتی ہے وہ بھی ایک ایسے ہجوم سے بھری ہوتی ہے جو ہماری ظاہری آنکھوں سے اوجھل ہوتا…
Browsing: لکھاری
عقل اور عشق کی کشمکش ہماری زندگی کے مقاصد کا تعین کرتی ہے۔ جب علامہ اقبال جیسے شاعر نے کہا کہ بے خطر کود پڑا آتش…
جب سے یہ ملک بنا ہے اس کے سیاسی، سماجی، مذہبی اورثقافتی حلقوں میں مکمل اتفاق ہے کہ اِسے ہونا چاہیے مگر آج تک کسی کو…
اگر آپ اپنی زندگی سے مطمئن ہیں اور اُس میں بدلاؤ نہیں چاہتے تو پھر دوسرے لوگوں کی رہنمائی کریں کہ وہ اِس قسم کی زندگی کیسے گزار سکتے ہیں، یہ صدقہ جاریہ ہو گا۔
ایسی کسی بنیاد کی عدم موجودگی میں وزارت خارجہ یا وزیر اعظم اگر روزانہ کی بنیاد پر بھی امریکہ کے فیصلوں کے بارے میں تشویش ظاہر کرتے رہیں تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ امریکہ یا دنیا اسی وقت اسلام آباد کو اہمیت دے گی جب پاکستان خوشحال اور پر امن ملک ہوگا۔ یہ مقصد حاصل کرنے کے لیے کوئی دوسرا نہیں آئے گا، ہمیں خود اپنی مدد کرنا ہوگی۔
اس کا 1977ء کے بعد کا بیانیہ اینٹی اسٹیبلشمنٹ اور بھٹو کی کرشمہ سازی پر مبنی تھا پھر یہ تبدیل ہو کر اینٹی نواز شریف ہو گیا۔ پیپلز پارٹی نے اسٹیبلشمنٹ سے مراسم بڑھائے تو ووٹر نے یہ جھٹکا برداشت کر لیا مگر جونہی نواز شریف اور بے نظیر نے میثاق جمہوریت کیا اینٹی نون لیگ ووٹر بیانیےکے تضاد کو برداشت نہ کر سکا اور اب سنٹرل پنجاب میں سوائے پرانے جیالوں کےعوامی ووٹ بینک غائب ہو چکا ہے۔
بالآخر انہوں نے مجھے ناروے میں پاکستان کا سفیرمقرر کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ میں اگر اس کے بعد کی اپنے انکار کی تفصیل بیان کرنے لگوں تو وقت ضائع کرنے کے مترادف ہے۔ اس حوالے سے میرے تین گواہ ہیں۔ مجید نظامی جو اللہ کو پیارے ہو چکے ہیں، مجیب الرحمان شامی اور تسنیم نورانی میرے گواہ ہیں۔ ان سے پوچھ لیں کہ میں انکار کے رستوں پر کتنی دیر تک چلتا رہا۔
چند سال پہلے انڈونیشیا کے قصبے بوگور میں کوئٹہ سے جان بچا کر بھاگنے والے ایک ہزارہ بھائی کے ساتھ شام گزاری۔ وہ کوئٹہ سے اپنی…
تحریک انصاف کی ناکامی کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ وہ نہ تو نظام کے ساتھ چل کر کوئی راستہ نکالنا چاہتی ہے اور نہ جمہوریت کو مضبوط کرنے اور ملکی سیاست سے عسکری قیادت کے اثر و رسوخ کو ختم کرنے کے لیے سیاسی اتفاق رائے پیدا کرنے میں دلچسپی رکھتی ہے۔ وہ کسی ضدی بچے کی طرح فوج کا وہ کاندھا مانگ رہی ہے جس پر سواری کرکے عمران خان 2018 میں وزیر اعظم بنے تھے۔
جب ہمیں عالمی طاقتوں کے ساتھ ساتھ مسلم امہ اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ مل کر چلنا ہو گا۔خارجہ اور داخلہ امور کو متوازن سمت دینا ہو گی ،مذہبی انتہا پسندی اور عقیدے کی غلط تشریح سے گریز کر کے امن کی راہیں اختیار کرنا ہوں گی ۔یہی ریاست پاکستان کی ترقی کا پہلا زینہ ثابت ہو گا
