Browsing: لکھاری

اس ڈرامے نے جبر کے ماحول میں لوگوں کے زخموں پر مرہم رکھااورانہیں بتایا کہ چوہدری حشمتوں کی حشمت و ہیبت کاانجام کیاہوتاہے اور وقت کا بہاؤ ان کے جعلی رعب ودبدبے والی حویلیوں کو کس طرح خس وخاشاک کی طرح بہا کر لے جاتا ہے اور پھرہم نے آنے والے دنوں میں ایسی حویلیوں کو نیست ونابودہوتے بھی دیکھا۔

اگر عمران خان نو مئی میں کامیاب ہو جاتے تو ہم ایک ایسے پاکستان میں ہوتے جہاں میڈیا مکمل طور پر بکا ہوا ہوتا، ججز کی تعیناتی عمران خان کی مرضی سے ہوتی، مخالفین پر جھوٹے کیسز بنتے، فوج کو سرنڈر کرنے پر مجبور کر دیا جاتا، اور کوئی آواز اختلاف کی ہمت نہ کر سکتی۔ یوتھیے مخالفین کی کردار کشی کرتے، جیسے وہ آج بھی مریم نواز کے مصافحے کو لے کر انہیں "رنڈی” کہہ کر مخاطب کرتے ہیں۔یہ سب کچھ کیوں نہیں ہوا؟ کیونکہ پہلی بار، ایک ایسا شخص سامنے آیا جو نہ جھکا، نہ بکا، نہ ڈرا۔ ورنہ شاید آج کا پاکستان ایک یک طرفہ آمریت کی تصویر ہوتا ایک ایسا پاکستان جہاں صرف ایک ہی شخص "حق” ہوتا اور باقی سب "باطل”۔

کسی خطے کے لوگوں کو وہاں سے نکال کر اس جگہ کو رئیل اسٹیٹ بنادینے کی بات کرنا بجائے خود بدترین سفاکی اور گھٹیا انسانی رویہ ہے لیکن کسی اصول یا اخلاق کو نہ ماننے والے امریکی صدر سے کسی بھی بے اعتدالی اور لاقانونیت کی توقع کی جاسکتی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ غزہ کے لیے جس منصوبہ کا اعلان کررہے ہیں، اس کے تحت غزہ سے 25 لاکھ فلسطینی باشندوں کو ان کی آبائی سرزمین سے بے دخل کیا جائے گا۔

دنیا کی بہترین جمہوری ریاستوں میں بھی صحافت ایک نیم تاریک منطقہ ہے۔ خبر گھڑی جاتی ہے۔ خبر دبائی جاتی ہے۔ کہیں صحافی خبر بنتا ہے تو کہیں اخبار پہ دباؤ آتا ہے۔ اگلے روز برادر بزرگ نے کالم کی صنف پر خیال افزا نثر کا ایک ٹکڑا عطا کیا اور پھر اپنے مخصوص Understatement انداز میں بہت سی مثبت اور خوشگوار خبروں کی لین ڈوری باندھ دی۔

اسلام آباد کے علاوہ تین صوبوں میں قانون کی دفعات اور انتظامی طاقت استعمال کرکے خیبر پختون خوا کے علاوہ کسی حکومت نے تحریک انصاف کو کسی قسم کا اجتما ع کرنے کی اجازت نہیں دی۔ اس کے باوجود احتجاجی ریلیوں کی روک تھام کے لیے دفعہ 144 کے تحت پانچ یا اس سے زیادہ افراد کے اجتماع پر پابندی لگا دی گئی۔ متعدد شہروں میں اس عذر کی بنا پر تحریک انصاف کے متعدد لیڈروں کو گرفتار بھی کیا گیا۔ کوئٹہ کے سوا کہیں سے قانون کی ’خلاف ورزی‘ کی اطلاع نہیں ملی۔