یادش بخیر روزنامہ جنگ کے ایڈیٹر سہیل وڑائچ نے جب موجودہ حکومت کے دن گنے جانے کی پیش گوئی پر مشتمل کالموں کی سیریز لکھی تھی تو اس وقت سہیل وڑائچ سے ذاتی دوستی کے باوجود محسن نقوی نے انہیں مشورہ دیا تھا کہ وہ اب ’ناکارہ‘ ہوچکے ہیں، اس لیے انہیں ریٹائر ہوجانا چاہئے۔ اس وقت یہ تاثر سامنے آیا تھا کہ محسن نقوی شاید مستقبل کا وزیر اعظم بننے کی خواہش میں موجودہ نظام کی ’حفاظت‘ کے لئے سینہ سپر ہورہے ہیں۔ البتہ اب انہوں نے خود اس نظام کے ’ڈھیر‘ ہونے کی خبر دی ہے۔
Browsing: لکھاری
ایسے بیانات پاکستانی عوام میں اعتماد اور حوصلہ پیدا کرنے کی بجائے بد اعتمادی اور ہر ریاستی ادارے کے بارے میں مایوسی کو جنم دیں گے۔ فوج کو ملک کا سب سے طاقت ور اور فیصلے کرنے والا ادارہ سمجھا جاتا ہے لیکن اگر اسی ادارے کی طرف سے لاقانونیت اور حکومت کی ناکامی کی بات کی جائے گی تو سوال پیدا ہو گا کہ پھر اصلاح احوال کے لیے کس طرف دیکھا جائے؟
مضبوط ریاست کے لیے مؤثر حکمرانی ناگزیر ہے۔ مگر اب عوام صرف اعترافات نہیں سننا چاہتے۔ وہ نتائج دیکھنا چاہتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ عدالت میں انصاف جلد ملے، سرکاری ہسپتال میں علاج عزت کے ساتھ ہو، نوجوان کو روزگار سفارش کے بغیر ملے، پولیس عوام کی محافظ بنے اور سرکاری ادارے عوام کے خادم دکھائی دیں، حاکم نہیں۔
آج کل کا شہزادہ چائے ختم ہوتے ہی شاہانہ انداز میں آئی فون نکالے گا۔ سکرین پر انگلیاں نچاتے ہوئے کہےگا۔کیش نہیں ہے بھائی، QR کوڈ دکھاؤ۔جیسے ہی چائے والا کوڈ آگے کرے گا۔یہ سوانگ رچاتے ہوئے صدمے سے کہے گا۔اوہ شٹ یار! جاز کیش ہینگ ہو گیا ہے۔ تم نمبر لکھو میں ، گھر جا کر پیسے بھیجتا ہوں۔ لیکن وہ پیسے قیامت تک نہیں آتے۔
ان کے مطابق ’’بلوچستان میں یہ جان بوجھ کر یہ تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ وہاں حالات انتہائی خراب ہیں اور صوبہ ہاتھ سے نکل رہا ہے۔‘
فروری 2024ء کے انتخابی عمل پر سوالات اٹھانا شروع ہوگئی ہے۔ اس برس ہوئے انتخاب پر سوالات اٹھاتے ہوئے پیپلز پارٹی بھول گئی کہ مذکورہ انتخابات کے نتائج تسلیم کرنے کی بدولت ہی وہ آصف علی زرداری صاحب کو دوبارہ صدر مملکت بنواکر تاریخ بنانے کے قابل ہوئی ہے۔ پنجاب اور سندھ کے گورنر بھی اس کے حصہ میں آئے اور سابق وزیر عظم یوسف رضا گیلانی سینٹ کے چیئرمین منتخب ہوئے۔
آئی ایم ایف کا چابک جب ہماری پیٹھ پر پڑتا ہے تو منہ سے گالی ہی نکلتی ہے۔ ہم پر حد باہر والے نے باندھی ہے، نگرانی باہر والا کر رہا ہے، اور خوف بھی باہر والے کا ہے۔
1953 میں متحدہ پاکستان کے عظیم سیاسی رہنما حسین شہید سہروردی پر گوجرانوالہ ریلوے سٹیشن پر پتھر برسائے گئے۔ 1965 کے صدارتی انتخاب کے دوران اس شہر میں ایک کتیا کے گلے میں فاطمہ جناح کا انتخابی نشان لالٹین لٹکا کر جلوس نکالا گیا ۔ جلوس کی قیادت امیر کالاباغ کا ایک دست کاشتہ لاڈلا کر رہا تھا ۔
فیڈرل اردو یونیورسٹی کا کیس ہمارے سامنے ہے ۔ ایسے میں طلبہ کیا70 ستر سال کے اُستاد اور ٹیچر بھی کاکروچ تحریک چلاتے ہیں البتہ وہ ہمارے میڈیا کی توجہ کا مرکز نہیں بن پاتے کیونکہ اس میں وہ ’کلر‘ نظر نہیں آتا۔طلبہ غلط ہو سکتے ہیں، جذباتی بھی ہوسکتے ہیں مگر’غدار‘ نہیں ہو سکتے۔ ’کاکروچ‘ تحریک سے سبق سیکھیں بیماری کا علاج دوا سے ہوتا ہے لاٹھی یا آنسو گیس سے نہیں۔
یہ درست ہے کہ پاکستانی حکمرانوں نے کشمیریوں کا معاشی استحصال بھی کیا، مگر پاکستانی عوام نے اسے شاید اسی طرح برداشت کیا جیسے انہوں نے اپنے ساتھ ہونے والا استحصال برداشت کیا۔
فرق صرف اتنا ہے کہ آج سوشل میڈیا کا زمانہ ہے۔
