الف کا خیال تھا کہ اب اسے کچھ کرنا چاہیے۔ یوں ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہنے سے کچھ نہیں ہو گا۔ وہ شام کو دفتر سے لوٹتا تو اپنے ایک کمرے کے مکان میں چارپائی پر لیٹ کر چھت کے اُس پنکھے کو دیکھتا رہتا جو ہر چکر میں ایک مرتبہ کھٹکتا تھا اور سوچتا کہ اِس پنکھے اور شہر کے لوگوں میں کوئی فرق نہیں۔ دونوں گھومتے ہیں، کھٹکتے ہیں اور وہیں کے وہیں رہتے ہیں۔ اپنے ارد گرد کے انسانوں کو دیکھ کر وہ دل ہی دل میں کڑھتا تھا۔ اُس کا خیال تھا کہ اِن میں اور اُن کیڑے مکوڑوں میں کوئی فرق نہیں جنہیں کوئی بھی، جب چاہے، پیر سے مسل دے اور آگے بڑھ جائے۔ یہ لوگ اپنی چھوٹی چھوٹی زندگیوں میں اِس قدر الجھے ہوئے ہیں کہ اِن سے کسی بڑی سوچ یا جراتمندانہ فیصلے کی توقع رکھنا ہی حماقت ہے۔
جبکہ زندگی میں بعض اوقات مشکل فیصلے کرنے پڑتے ہیں، یہ الف کا ایمان تھا، اور مشکل فیصلوں کے لیے ہمت، حوصلہ اور ایک خاص قسم کی بے رحمی درکار ہوتی ہے۔ جو انسان اِن خصوصیات سے خالی ہو وہ الف کے نزدیک انسان کہلانے کا حق ہی نہیں رکھتا تھا۔ ویسے تو وہ مردانہ وجاہت، بلند قامتی اور جاہ و جلال کا بھی قائل تھا، اور اکثر سوچتا کہ تاریخ کے بڑے آدمی جب کمرے میں داخل ہوتے ہوں گے تو کیسے وہ اپنی شخصیت کے سحر سے لوگوں کو متاثر کر دیتے ہوں گے، مگر خود اُس کی شخصیت ایسی تھی کہ وہ کمرے میں داخل ہوتا تو کسی کو خبر بھی نہ ہوتی۔ قد چھوٹا، کندھے جھکے ہوئے، چہرے پر ایک مستقل کھنچاؤ جیسے کوئی تلخ چیز منہ میں رکھی ہو۔ دفتر میں اُس کی پست قامت پر فقرے کسے جاتے تھے مگر الف سنی ان سنی کر دیتا۔ اُس کے خیال میں یہ پست ذہنیت کے لوگ تھے جنہیں اندازہ ہی نہیں تھا کہ وہ ایسے شخص کا مذاق اڑا رہے ہیں جو اِس معاشرے کو اُس کی جڑوں سے ہلا دینے کے خواب دیکھتا ہے اور جس کے ذہن میں ایسے خیالات پلتے ہیں جن کی تاب یہ لوگ لا ہی نہیں سکتے۔ اسی لیے وہ سب سے الگ تھلگ رہتا تھا۔ یہ اور بات کہ اُس سے کوئی زیادہ بات بھی نہیں کرتا تھا کیونکہ الف کے پاس کہنے سننے کو ایسا کچھ تھا ہی نہیں جس میں کسی کو دلچسپی ہو۔ ”یہ لوگ اپنے بچوں اور اُن کی شادیوں سے آگے کچھ سوچ ہی نہیں سکتے۔“ یہ بات وہ دل ہی دل میں حقارت سے کہتا۔
ایک مرتبہ اُس کے کسی ساتھی نے اپنی شادی کا دعوت نامہ بھیجا اور آنے پر اصرار بھی کیا۔ الف نے وعدہ کر لیا، دو دن تک وہ کارڈ اُس کی میز پر پڑا رہا، اور عین وقت پر اُس نے ارادہ بدل دیا۔ ایسی تقریبات سے اسے الجھن ہوتی تھی۔ روشنیوں میں نہائے ہوئے پنڈال، بے وجہ ہنستے ہوئے لوگ، اور وہ بنی سنوری عورتیں جن کے چہروں پر غازے کی تہیں ہوتیں، آنکھوں میں کاجل اور ہونٹوں پر سرخی، جن سے عطر کی لپٹیں اٹھتی تھیں۔ اِن سے اسے گھن آتی تھی۔ یہ گھن کسی اخلاقی بلندی سے نہیں پھوٹتی تھی، وہ خود بھی اِس کی وجہ نہیں جانتا تھا۔ ایک مرتبہ اُس نے اپنے مکان پر ایک فاحشہ عورت کو بلایا۔ وہ آئی تو اُس کے چہرے پر میک اپ کی تہیں تھیں۔ الف نے اسے بیٹھنے کو کہا، پھر وہ باورچی خانے سے چولھے کے پیندے سے لگی کالک ہاتھ میں لے کر آیا اور اِس سے پہلے کہ وہ عورت کچھ سمجھ پاتی، اُس نے دونوں ہاتھوں سے وہ کالک اُس کے چہرے پر مل دی۔ عورت نے بدقت تمام خود کو چھڑوایا اور گالیاں بکتی ہوئی چلی گئی۔ الف دیر تک اپنی سیاہ ہتھیلیوں کو دیکھتا رہا۔ اسے اپنی اِن عادات اور ترجیحات پر کوئی شرمندگی نہیں تھی۔ اُس کا خیال تھا کہ یہ لوگ اسے آج سے سو سال بعد شاید سمجھ سکیں، اور شاید تب بھی نہ سمجھ سکیں۔
دفتر میں وہ لوگوں کو دیکھتا جو اپنے ساتھ ہونے والی زیادتیوں پر دبی دبی آواز میں بات کرتے تھے۔ کسی کی ترقی روک لی گئی، کسی کا تبادلہ کسی افسر کی ناراضی کی نذر ہو گیا، کسی کے بیٹے کو تھانے میں دو دن بٹھا کر پیسے لے کر چھوڑا گیا۔ یہ سب باتیں چائے کی پیالیوں پر ہوتیں، آواز نیچی ہوتی، نظر دروازے پر، اور ہر بات بغیر کسی نتیجے کے ختم ہو جاتی۔ الف کا خیال تھا کہ اِس بزدلی نے معاشرے کو اندر سے کھوکھلا کر دیا ہے۔ ظالم کا ہاتھ اسی لیے لمبا ہوتا ہے کہ مظلوم کا ہاتھ اٹھتا ہی نہیں۔ وہ دفتر میں بہت کم بولتا تھا مگر ایک دن ایسا ہوا کہ سب نے اسے بولتے سنا۔ کسی نے وہ خبر سنائی کہ شہر کے کسی علاقے میں ایک شخص نے راہ چلتی لڑکی کو روک کر ڈنڈوں سے مارا اور لوگ دیر تک تماشا دیکھتے رہے۔
یہ خبر سن کر الف کے چہرے کا رنگ یک دم بدل گیا۔ اُس کی آنکھوں میں خون اتر آیا، کنپٹی کی رگیں پھول گئیں اور میز پر رکھا ہاتھ مٹھی بن گیا۔ سب نے یہ تغیر نوٹ کیا۔ ”ایسے شخص کے ہاتھ پیر رسیوں سے باندھ کر چاروں سمت کھینچنے چاہئیں،“ وہ آہستہ آہستہ بولا، ”اور اُس وقت تک کھینچنے چاہئیں جب تک اُس کے جسم کی ایک ایک ہڈی ٹوٹ کر بکھر نہ جائے۔“ کمرے میں سناٹا چھا گیا، کسی کے جسم میں سنسنی دوڑ گئی، کسی نے چائے کا کپ آہستہ سے میز پر رکھ دیا۔ ”اور اُن سب کو بھی،“ الف نے کہا، ”جو وہاں کھڑے تماشا دیکھتے رہے اور جنہوں نے اُس لڑکی کی مدد کرنے میں دیر لگائی، اُن سب کو بھی گولیوں سے بھون دینا چاہیے۔“ اُس کے بعد وہ اٹھا اور اپنی میز پر جا بیٹھا۔
اِس بات کی گونج ابھی ختم نہیں ہوئی تھی کہ ایک صبح الف نے اخبار میں خبر پڑھی کہ لڑکی پر تشدد کرنے والا ملزم رات گئے پولیس مقابلے میں مارا گیا۔ خبر چھ سطروں کی تھی۔ خبر پڑھ کر اُس کے ہونٹوں پر ایک ایسی مسکراہٹ آئی جو اُس نے اپنے چہرے پر پہلے کبھی محسوس نہیں کی تھی، اسے ایسی تسکین ملی جیسے برسوں کی پیاس کے بعد ٹھنڈا پانی حلق سے اترے۔ دفتر میں اُس دن یہی خبر موضوع بنی رہی۔ ”اچھا ہوا،“ ایک نے کہا۔ ”ایسوں کا یہی علاج ہے،“ دوسرے نے کہا۔ ”عدالتوں سے تو یہ چھوٹ ہی جاتے ہیں،“ تیسرے نے کہا اور چائے کا گھونٹ لیا۔ الف نے یہ سب سنا اور خاموش رہا۔ مگر اُس کے اندر ایک بات نے جڑ پکڑ لی۔ یہی لوگ، جو اپنے بیٹے کے لیے تھانے میں آواز اونچی نہیں کر سکتے تھے، آج اِس خبر پر خوش تھے، اور یہی لوگ اُس دن اُس کی بات سن کر سہم گئے تھے۔ تو فرق کیا تھا؟
اُس دن کے بعد الف اخبار غور سے پڑھنے لگا۔ وہ اندر کے صفحوں پر ایسی خبریں ڈھونڈتا اور انہیں قینچی سے کاٹ کر ایک پرانی فائل میں لگا لیتا۔ چند ہفتوں میں فائل بھر گئی۔ اسے حیرت ہوئی کہ اِن خبروں میں سب کچھ کس قدر یکساں تھا۔ پستول اُس نے اندرون شہر کے ایک ایسے شخص سے لیا جس کا پتا دفتر کے چپڑاسی نے، بغیر کچھ پوچھے، ایک کاغذ پر لکھ کر دے دیا تھا۔ وہ شخص ایک تنگ دکان کے پچھلے کمرے میں بیٹھا تھا۔ اُس نے الف کے چھوٹے قد کو اوپر سے نیچے تک دیکھا، پھر پوچھا، ”کس کام کے لیے چاہیے؟“ الف نے کہا، ”حفاظت کے لیے۔“ وہ شخص ہنسا، ویسی ہی ہنسی جیسی الف نے دفتر میں بارہا سنی تھی، مگر اِس مرتبہ الف کو برا نہیں لگا۔ اسے لگا کہ وہ اِس ہنسی سے بڑا ہو چکا ہے۔
الف کے اپنے محلے سے دو گلیاں چھوڑ کر ایک شخص رہتا تھا جس نے تین سال پہلے اپنی بیوی کا قتل کیا تھا۔ مقدمہ بنا تھا مگر قتل عدالت میں ثابت نہ ہو سکا حالانکہ بچہ بچہ جانتا تھا کہ قاتل یہی ہے۔ وہ شخص اب بازار میں کپڑے کی دکان چلاتا تھا، پان کھاتا تھا، گلی کے بچوں کی پیٹھ پر شفقت سے ہاتھ پھیرتا تھا، جمعے کی نماز پہلی صف میں پڑھتا تھا۔ الف نے کئی مرتبہ اسے دکان کے تھڑے پر بیٹھے قہقہے لگاتے دیکھا تھا۔ وہ شام ایک عام سی شام تھی۔ بازار میں رونق تھی، دکانوں کی روشنیاں جل چکی تھیں، کسی لاؤڈ اسپیکر پر نعت چل رہی تھی۔ وہ شخص دکان بند کر کے گلی کی طرف مڑا تو الف اُس کے سامنے آ کھڑا ہوا۔ وہ شخص رک گیا۔ اُس نے الف کو اُسی نظر سے دیکھا جس سے سب اسے دیکھتے تھے، اوپر سے نیچے تک، اور پوچھا، ”کیا بات ہے بھائی؟“ الف کو یہ ”بھائی“ بہت عجیب لگا۔ اُس نے چاہا کہ کچھ کہے، کچھ ایسا جو اِس لمحے کے شایانِ شان ہو مگر منہ سے کچھ نہ نکلا۔ اُس نے پستول نکالا۔ وہ شخص ایک قدم پیچھے ہٹا اور اُس کے چہرے پر ایسی حیرت آئی جیسے کوئی چھوٹا سا کیڑا اچانک پیر پر چڑھ کر کاٹ لے۔ الف نے گولی چلائی، پھر ایک اور، پھر ایک اور۔ اُس کے ہاتھ کانپے نہیں۔ وہ شخص گرا اور بے حرکت ہو گیا۔
الف وہیں کھڑا رہا۔ اُس نے بھاگنے کی کوئی کوشش نہیں کی۔ لوگ دکانوں سے نکل کر گلی کے دہانے پر جمع ہونے لگے، ایک حلقہ سا بن گیا، مگر کوئی آگے نہیں بڑھا۔ کسی نے الف کو پکڑنے کی کوشش نہیں کی۔ الف نے اِن لوگوں کو دیکھا اور اسے وہ لڑکی یاد آئی جسے بیچ سڑک کے ڈنڈوں سے مارا گیا تھا اور لوگ ایسے ہی کھڑے تھے، ایسا ہی حلقہ بنائے۔ اسے ہنسی آئی۔ پہلی مرتبہ اسے لگا کہ وہ اِن سب سے لمبا ہے، اتنا لمبا کہ اُس کا سر گلی میں لٹکتے بجلی کے تاروں سے جا لگا ہے۔ اُس نے پستول زمین پر رکھا، دیوار سے ٹیک لگائی اور انتظار کرنے لگا۔ تھانے میں اسے ایک بینچ پر بٹھا دیا گیا۔ یہاں بھی چھت پر پنکھا تھا جو ہر چکر میں ایک مرتبہ کھٹکتا تھا۔ دیر بعد ایک انسپکٹر آیا، چائے کا کپ ہاتھ میں لیے، اور بغیر بیٹھے پوچھا، ”کیوں مارا؟“
الف نے سر اٹھایا۔ اسے سوال پر حیرت ہوئی۔ ”وہی تو کیا جو آپ لوگ کرتے ہیں۔“
انسپکٹر نے گھونٹ لیا۔ ”ہم؟“
”وہ، جس نے لڑکی کو ڈنڈوں سے مارا تھا۔ رات کو، تفتیش کے لیے لے جاتے ہوئے۔ اخبار میں تھا۔“
”وہ مقابلہ تھا۔“
”یہ بھی تھا۔“
انسپکٹر نے پہلی مرتبہ اسے غور سے دیکھا، اوپر سے نیچے تک، اور پھر پوچھا، ”تمہیں بھیجا کس نے تھا؟“
”کسی نے نہیں۔“
انسپکٹر نے کپ میز پر رکھا۔ ”تو پھر تم ہو کون؟“
الف کے پاس اِس کا کوئی جواب نہیں تھا۔ اُس نے سوچا تھا کہ یہ لوگ اسے پہچان لیں گے۔
انسپکٹر محرّر کی طرف مڑا۔ ”پرچہ کاٹو۔ رات کو اسے تفتیش کے لیے لے جانا ہے۔“
الف نے حیرت سے انسپکٹر کی طرف دیکھا جیسے اُسے اِس بات پہ یقین نہ ہو۔ پنکھا کھٹکتا رہا۔
( بشکریہ : ہم سب ۔۔ لاہور )
پیر, اکتوبر 26, 2026
تازہ خبریں:
- الف کا پولیس مقابلہ : یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
- کیا وزیر اعلیٰ کوتشدد کا پرچار زیب دیتا ہے؟ ۔۔ سید مجاہد علی کا تجزیہ
- صحافت ۔۔تاریخ کو شکست دینے والا لفظ : وجاہت مسعود کا کالم
- فرانس میں مہنگائی کے خلاف پھر مظاہرے، گرفتار افراد کی تعداد سیکڑوں سے تجاوز کر گئی
- انجینئر ممتاز احمد خان کا ’’ ممتاز نامہ ‘‘ زندگی کا سفر اور قومی شعور کی دستاویز : صائمہ نورین بخاری کا کتاب کالم
- لہندا زبان ہے یا بولی ؟ زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- فضول خرچ بیٹے کی تمثیل :زبانِ خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- خیبر پختونخوا۔۔ پی ٹی آئی ارکان کو ’’ونڈر بوائے‘‘ کی تلاش : نصرت جاوید کا کالم
- جوتے چومنے کی سزا جوتے چاٹ کر دینے کا حکم: مظفر گڑھ میں پنچایت کا فیصلہ ، چار افراد گرفتار
- مولانا اور خان ۔۔ قربتوں اور دوریوں کی داستان : حامد میر کا کالم

