کبھی آپ نے مختلف زبانوں میں رشتوں کے ناموں کی مشابہت پر غور کیا؟
انگریزی فادر، فارسی پدر، سنسکرت پتر ہندی میں پتا، لاطینی پیدرے (پادری اسی سے نکلا ہے)
فارسی مادر ، انگریزی مدر لاطینی ماترے ، سنسکرت ماتر جو ہندی میں ماتا اور اردو میں ماں ہو گیا ۔
انگریزی بردر فارسی برادر ، لاطینی فراتر سنسکرت بھراتر جو اردو میں بھائی اور سرائیکی میں بھرا ہے ۔
انگریزی ڈاٹر ، فارسی دختر ، سنسکرت دوہتر۔
خود لفظ نام پر ہی غور کریں جو فارسی میں نام انگریزی میں نیم ، لاطینی میں نومن اور سنسکرت میں نامن ہے۔
جب آپ عربی ، چینی ، سواحلی اور دیگر زبانوں میں دیکھیں گے تو یہ آپ کو بالکل مختلف لگیں گے ۔ وجہ یہ ہے کہ انڈین یورپی اور ایرانی زبانوں کا تعلق ایک ہی خاندان سے ہے ۔
یورپی زبانوں کا انڈین (ہند-آریایی) اور ایرانی زبانوں سے گہرا تاریخی اور لسانی رشتہ ہے جسے ہند-یورپی زبانیں (Indo-European Languages) کہا جاتا ہے۔
اس رشتے کی اہم اور بنیادی باتیں درج ذیل ہیں
1. ہند-یورپی لسانی خاندان (Indo-European Family)
انگریزی، فرانسیسی، جرمن، لاطینی اور یونانی جیسی یورپی زبانیں، اور اردو، ہندی، سنسکرت (ہند-آریائی) کے ساتھ ساتھ فارسی اور پشتو (ایرانی) سب ایک ہی مشترکہ ماں زبان سے نکلی ہیں، جسے ماہرین پروٹو ہند-یورپی (Proto-Indo-European) کہتے ہیں۔
تحقیقات کے مطابق، ہزاروں سال قبل (تقریباً 4000 تا 4500 قبل مسیح) ایک مشترکہ خطے سے مختلف قبائل (آریا) ہجرت کر کے یورپ، ایران اور برصغیر کی طرف پھیلے۔ ان کی زبانیں وقت کے ساتھ الگ الگ شاخوں میں تقسیم ہو گئیں۔
2. ہند-ایرانی شاخ (Indo-Iranian Branch)
ہند-یورپی خاندان ایک طویل عرصے بعد دو اہم حصوں میں بٹ گیا، جن میں سے ایک ہند-ایرانی شاخ ہے۔
اس شاخ کے لوگ (قدیم آریا) کچھ عرصہ ایران کے علاقوں میں مقیم رہے، جس سے ایرانی زبانوں (جیسے فارسی، اوستا) اور بعد میں ہندوستان آنے والی زبانوں (سنسکرت وغیرہ) میں گہری مماثلت پیدا ہوئی۔
3. الفاظ اور قواعد میں یکسانیت (Cognates)
ان تمام زبانوں کے بنیادی الفاظ (خصوصاً رشتوں، گنتی اور روزمرہ اشیاء) میں حیرت انگیز مشابہت پائی جاتی ہے۔
انڈو-یورپین سب سے بڑا خاندان ہے، انڈو-ایرانی اس کی ایک شاخ ہے، اور ہند-آریائی انڈو-ایرانی کی ہی ایک ذیلی شاخ ہے۔
1. انڈو-یورپین زبانیں (Indo-European Languages)
یہ دنیا کا سب سے بڑا لسانی خاندان ہے۔ اس میں تقریباً 445 زبانیں ہیں۔
جرمنی شاخ: انگریزی، جرمن، ڈچ
رومانی شاخ: فرانسیسی، ہسپانوی، اطالوی، پرتگالی
سلاوی شاخ: روسی، پولش، سربین
قدیم زبانیں: لاطینی، یونانی، سنسکرت
2. انڈو-ایرانی زبانیں (Indo-Iranian Languages)
یہ انڈو-یورپین کی ایک بڑی شاخ ہے۔ اس کی مزید 3 بڑی شاخیں ہیں
ایرانی زبانیں
فارسی – بولیوں کی مثالیں: تہرانی، اصفہانی، تاجکی، دری ۔
پشتو – بولیوں کی مثالیں: یوسفزئی، وزیرستانی، قندھاری
بلوچی – بولیوں کی مثالیں: مکرانی، رخشانی، سلیمانی • کردی، اوسیتیائی
ایک چھوٹی شاخ نورستانی زبانیں: افغانستان کے نورستان میں بولی جانے والی چھوٹی زبانیں۔
3. ہند-آریائی زبانیں (Indo-Aryan ہند-آریائی)
یہ انڈو-ایرانی کی سب سے بڑی ذیلی شاخ ہے اور برصغیر میں بولی جاتی ہے۔
مثالیں بولیوں سمیت
1. پنجابی
بولیوں کی مثالیں: ماجھی (لاہور، امرتسر کی معیاری پنجابی) مالوی، دوآبی ، ڈوگری جانگلی۔۔
2. سرائیکی
بولیوں کی مثالیں ملتانی، ڈیروی، ریاستی (بہاولپوری)، تھلی
3. سندھی
بولیوں کی مثالیں: وچولی (معیاری سندھی)، لاڑی، تھری، کچھی
4. اردو / ہندی:
بولیوں کی مثالیں: دکنی، ریختہ، کھڑی بولی، برج بھاشا، اودھی
5. دیگر اہم ہند-آریائی زبانیں
بنگالی، گجراتی، مراٹھی، راجستھانی، کشمیری، پہاڑی
زبانِ خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم : یورپین زبانیں اور انڈین اور ایرانی زبانوں سے رشتہ
ایڈیٹر1 Views

