پشاور : انسدادِ دہشت گردی عدالت نے 9 مئی کے واقعات کے دوران ریڈیو پاکستان پشاور کی عمارت پر حملے اور آتش زدگی کے مقدمے میں غیر فعال وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی، سابق صوبائی وزیر تیمور سلیم جھگڑا، کامران بنگش اور پی ٹی آئی پشاور کے ضلعی صدر عرفان سلیم کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے ہیں۔
مقدمے کی سماعت انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج ولی محمد خان نے کی۔ سماعت کے دوران پبلک پراسیکیوٹر نے پولیس کی جانب سے تیار کردہ چالان عدالت میں جمع کرایا۔
پی ٹی آئی کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ دفاع کی تیاری کے لیے مزید وقت درکار ہے، تاہم عدالت نے ریمارکس دیے کہ مقدمے کا چالان جمع ہو چکا ہے اور ملزمان کو اس میں نامزد کیا گیا ہے، لہٰذا ان کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری کیے جائیں گے۔
یہ مقدمہ 10 مئی 2023 کو ریڈیو پاکستان پشاور کی عمارت پر حملے اور آتش زدگی کے واقعے کے بعد تھانہ ایسٹ کینٹ میں درج کیا گیا تھا۔ مقدمے میں ابتدائی طور پر 75 ملزمان نامزد کیے گئے تھے۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق دسمبر 2025 میں ویڈیو فوٹیج کی فرانزک جانچ اور ملزمان کی شناخت کی تصدیق کے لیے پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی اور نادرا سے رپورٹس طلب کی گئی تھیں، جبکہ مارچ 2026 میں فرانزک رپورٹ عدالت میں پیش کی گئی۔
بعد ازاں ضمنی چالان میں سہیل آفریدی، تیمور سلیم جھگڑا، کامران بنگش، عرفان سلیم اور عامر خان چمکنی کو مقدمے میں نامزد کیا گیا۔ پراسیکیوشن کے مطابق ملزمان کی شناخت اور تصدیق پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی اور نادرا کی رپورٹس کی بنیاد پر کی گئی ہے۔
( بشکریہ : بی بی سی )

