تل ابیب : اسرائیل کے پارلیمانی انتخابات میں وزیر اعظم نیتن یاہو کی پارٹی اکثریت حاصل نہیں کر سکی جس کے بعد ان کی حکومت کے خاتمے کا امکان پیدا ہو گیا ہے ۔دوسری جانب ایگزٹ پولز کے مطابق آئزن کوٹ کی قیادت میں اپوزیشن اتحاد کو نیتن یاہو کے دائیں بازو کے بلاک پر معمولی برتری حاصل ہے، تاہم دونوں میں سے کوئی بھی فریق کنیسٹ میں حکومت بنانے کے لیے درکار 61 نشستوں کی واضح اکثریت حاصل کرتا دکھائی نہیں دے رہا۔
اسرائیلی اپوزیشن رہنما یائر لیپڈ نے انتخابات کے نتائج پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’اسرائیل کی ریاست نے آج خود کو بچا لیا‘ اور وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو اور ان کی حکومت کو ’واضح شکست‘ کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
یائر لیپڈ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ’اسرائیل کے عوام جیت گئے ہیں۔ ہم اکثریت میں ہیں۔ جمہوری نظام میں سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والی جماعت کو حکومت بنانے کا حق حاصل ہوتا ہے، اور اس پر ایسا کرنے کی ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے۔‘
انھوں نے زور دیا کہ اب ترجیح ایک نئی ’صیہونی حکومت‘ کی تشکیل ہونی چاہیے، چاہے وہ ابتدا میں مکمل یا وسیع اتحاد پر مشتمل نہ ہو۔ ان کے بقول بعد میں اس حکومت کو مزید مضبوط اور وسیع کیا جا سکتا ہے۔
یائر لیپڈ نے اپنی جماعت کے کارکنوں، رضاکاروں اور کنیسٹ اراکین کا شکریہ ادا کیا، جبکہ سابق وزیرِ اعظم نفتالی بینیٹ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ ایک بہادر ساتھی اور دوست ہیں، اور میں اس سے بہتر شراکت دار کا تصور نہیں کر سکتا تھا۔‘
انھوں نے کہا کہ اسرائیل کو قیامِ ریاست کے بعد کے شاید سب سے بڑے چیلنجز کا سامنا ہے، جن میں واقعات کی تحقیقات کے لیے سرکاری کمیشن کا قیام، فوجی بھرتی میں مساوات اور قومی ذمہ داریوں کی منصفانہ تقسیم شامل ہیں۔
اپنے بیان کے اختتام پر یائر لیپڈ نے کہا کہ ’ہمارا سفر آج ختم نہیں ہوا بلکہ ابھی شروع ہوا ہے۔ ہمارے پاس ایک ایسا ملک ہے جسے درست سمت میں لے جانا ہے اور ایک ایسا معاشرہ ہے جس کی بحالی ضروری ہے۔‘ انھوں نے قانون کی حکمرانی اور ریاستی اداروں پر عوامی اعتماد کی بحالی پر بھی زور دیا۔
اسرائیل میں انتخابات کے بعد اپوزیشن اتحاد کے رہنما گادی آئزن کوٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ ووٹرز نے وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کی طویل حکمرانی کے خلاف فیصلہ دیا ہے، اور وہ نئی حکومت تشکیل دینے کی کوشش کریں گے۔
اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے آئزن کوٹ نے کہا کہ ’عوام نے نیتن یاہو کی مسلسل حکمرانی کے خلاف اپنا فیصلہ سنا دیا ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ اتنے زیادہ ووٹر ٹرن آؤٹ کے بعد ملک کو ایک اور انتخابی عمل میں دھکیلنا مناسب نہیں ہوگا۔
انھوں نے نیتن یاہو کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کی قومی سلامتی کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ آئزن کوٹ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حالیہ دنوں میں نیتن یاہو نے ایران کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ایران کے ساتھ کسی بھی ممکنہ فوجی کشیدگی یا ہنگامی صورتحال سے حکومت سازی کا عمل متاثر ہو سکتا ہے اور سیاسی غیر یقینی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
( بشکریہ : بی بی سی )
نیتن یاہو اکثریت حاصل نہ کرسکے ’’ حکومت گر گئی، اب نئی حکومت بنانا ہوگی: اسرائیلی اپوزیشن رہنما یائر لیپڈ
ایڈیٹر1 Views

