وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے پاکستان اکنامک سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے ایک ایسی بات کہہ دی جس پر شاید ہر پاکستانی نے کبھی نہ کبھی ضرور غور کیا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا موجودہ نظامِ حکمران ی اپنی افادیت کھو چکا ہے اور اگر یہی ماڈل چلتا رہا تو دس برس بعد بھی ہم انہی مسائل پر بحث کر رہے ہوں گے جن کا سامنا آج ہے۔ بظاہر یہ ایک سیاسی بیان ہے، لیکن درحقیقت یہ اس ریاستی ڈھانچے پر ایک اعتراف بھی ہے جس کے سائے میں پاکستان گزشتہ کئی دہائیوں سے چل رہا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس بریفنگ میں بھی دہشت گردی، قومی سلامتی اور داخلی استحکام کے حوالے سے اداروں کے درمیان بہتر ہم آہنگی، مؤثر حکمرانی اور قومی اتحاد کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ یہ دونوں بیانات الگ الگ مواقع پر دیے گئے، مگر ان کا مرکزی نکتہ ایک ہی تھا کہ ریاست اس وقت مضبوط ہوتی ہے جب اس کا نظام مضبوط ہو۔ اگر ریاستی ادارے اپنی ذمہ داریاں پوری نہ کر سکیں، فیصلے بروقت نہ ہوں اور عوام کا اعتماد کمزور پڑ جائے تو اس کے اثرات یقینی طور پر صرف معیشت تک محدود نہیں رہتے بلکہ قومی سلامتی بھی متاثر ہوتی ہے۔
لیکن یہاں ایک بنیادی سوال اپنی جگہ موجود ہے۔ اگر نظام واقعی ناکام ہو چکا ہے تو آخر اسے اس مقام تک پہنچانے والا کون ہے؟ یہ نظام کسی ایک حکومت نے تو نہیں بنایا۔ گزشتہ سات دہائیوں میں منتخب حکومتیں بھی اقتدار میں رہیں، غیر منتخب ادوار بھی آئے، طاقتور اداروں نے بھی اہم فیصلوں میں کردار ادا کیا، بیوروکریسی بھی ریاستی مشینری کا حصہ رہی اور عدلیہ بھی مختلف مواقع پر قومی سیاست کا محور بنی۔ اگر آج یہ کہا جا رہا ہے کہ نظام اپنی افادیت کھو چکا ہے تو پھر دیانت داری کا تقاضا یہی ہے کہ اس کی ذمہ داری بھی اجتماعی طور پر قبول کی جائے۔
پاکستان میں شاید ہی کوئی حکومت ایسی گزری ہو جس نے اقتدار سنبھالتے ہی یہ نہ کہا ہو کہ اسے ایک تباہ حال نظام ملا ہے۔ ہر دور میں اصلاحات کے وعدے کیے گئے، نئے نعرے لگائے گئے، احتساب، گورننس، ای گورننس، ڈیجیٹلائزیشن اور ادارہ جاتی تبدیلیوں کی بات ہوئی، مگر نتیجہ وہی نکلا کہ چند سال بعد آنے والے حکمران بھی انہی شکایات کو دہرانے لگے۔ اس کا مطلب صاف ہے کہ مسئلہ صرف حکومتیں بدلنے سے حل نہیں ہوگا، کیونکہ خرابی صرف چہروں میں نہیں بلکہ نظام کے اندر سرایت کر چکی ہے۔
ایک عام شہری کے لیے ریاست کا مطلب نہ وفاقی کابینہ ہے، نہ اعلیٰ سطح کے اجلاس۔ اس کے لیے ریاست وہ سرکاری دفتر ہے جہاں وہ شناختی کارڈ بنوانے جاتا ہے، وہ تھانہ ہے جہاں انصاف کی امید لے کر پہنچتا ہے، وہ عدالت ہے جہاں برسوں مقدمہ چلتا رہتا ہے، وہ سرکاری ہسپتال ہے جہاں دوائی میسر نہیں آتی اور وہ سرکاری اسکول ہے جہاں اس کے بچوں کا مستقبل تشکیل پاتا ہے۔ اگر ان تمام جگہوں پر اسے مشکلات، تاخیر، سفارش، بدعنوانی اور غیر ضروری پیچیدگیوں کا سامنا ہو تو وہ یہی سمجھے گا کہ نظام ناکام ہے، چاہے حکومت کتنے ہی ترقیاتی منصوبوں کا اعلان کرتی رہے۔
محسن نقوی نے نئے انتظامی یونٹس بنانے کی بات بھی کی۔ بلاشبہ اس پر سنجیدہ گفتگو ہونی چاہیے۔ آبادی میں اضافہ، بڑے صوبوں کا انتظامی بوجھ اور دور دراز علاقوں کے مسائل اس امر کا تقاضا کرتے ہیں کہ انتظامی ڈھانچے پر نظرثانی کی جائے۔ جنوبی پنجاب صوبے کا مطالبہ بھی برسوں سے موجود ہے۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ صرف نقشہ بدلنے سے قسمت نہیں بدلتی۔ اگر وہی پرانا طرزِ حکمرانی، وہی سیاسی مداخلت، وہی اقربا پروری اور وہی ناقص احتساب برقرار رہے تو نئے صوبے بھی پرانے مسائل ہی ورثے میں لے لیں گے۔
دنیا کی کامیاب ریاستوں نے ترقی صرف اس لیے نہیں کی کہ انہوں نے نئے صوبے بنائے یا نئے ادارے قائم کیے۔ ان کی کامیابی کی بنیاد مضبوط قانون، شفاف نظام، پالیسیوں کے تسلسل اور اداروں کی خودمختاری ہے۔ وہاں حکومتیں بدلتی ہیں لیکن ریاستی پالیسیوں کا رخ نہیں بدلتا۔ ہمارے ہاں بدقسمتی سے اکثر اداروں سے زیادہ شخصیات پر انحصار کیا جاتا ہے۔ ہر نئی تقرری کے ساتھ امیدوں کا ایک نیا باب کھلتا ہے، مگر چند ہی ماہ بعد وہ امیدیں مایوسی میں بدل جاتی ہیں۔
اصل اصلاحات وہ ہوتی ہیں جن کا اثر عام آدمی کی زندگی پر نظر آئے۔ اگر اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرنے ہیں تو مقامی حکومتوں کو حقیقی خودمختاری دینا ہوگی۔ اگر بیوروکریسی کو مؤثر بنانا ہے تو اسے سیاسی دباؤ سے آزاد کرنا ہوگا۔ اگر احتساب کرنا ہے تو اس کی کسوٹی سب کے لیے ایک جیسی ہونی چاہیے۔ اگر سرمایہ کاری لانی ہے تو سرمایہ کار کو یہ یقین ہونا چاہیے کہ حکومت بدلے گی مگر پالیسی نہیں بدلے گی۔
بدقسمتی سے پاکستان میں ہر نئی حکومت اپنے پیش رو کے منصوبوں کو روکنے یا ان کا نام بدلنے میں زیادہ دلچسپی لیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تعلیم، صحت، بلدیاتی نظام، معیشت اور انتظامی اصلاحات کبھی تسلسل حاصل نہیں کر سکیں۔ ریاستیں اسی وقت مضبوط بنتی ہیں جب قومی مفاد کو سیاسی مفاد پر ترجیح دی جائے۔
محسن نقوی نے ایک حقیقت کا اعتراف کیا ہے اور ڈی جی آئی ایس پی آر کی بریفنگ نے بھی اس حقیقت کو ایک دوسرے زاویے سے واضح کیا ہے کہ مضبوط ریاست کے لیے مؤثر حکمرانی ناگزیر ہے۔ مگر اب عوام صرف اعترافات نہیں سننا چاہتے۔ وہ نتائج دیکھنا چاہتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ عدالت میں انصاف جلد ملے، سرکاری ہسپتال میں علاج عزت کے ساتھ ہو، نوجوان کو روزگار سفارش کے بغیر ملے، پولیس عوام کی محافظ بنے اور سرکاری ادارے عوام کے خادم دکھائی دیں، حاکم نہیں۔
پاکستان کو نئے نعروں کی ضرورت نہیں، نئے رویوں کی ضرورت ہے۔ قانون سب کے لیے برابر ہو، ادارے اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام کریں، فیصلے میرٹ پر ہوں، مقامی حکومتیں بااختیار ہوں اور عوام ریاست پر اعتماد کر سکیں، یہی وہ تبدیلی ہے جس کی اس ملک کو ضرورت ہے۔ اگر اس بار بھی صرف تقریریں ہوئیں اور عملی اقدامات نہ ہوئے تو تاریخ میں ایک اور اعتراف تو ضرور درج ہو جائے گا، لیکن عوام کی زندگی میں کوئی فرق نہیں آئے گا۔ اور اگر واقعی نیت، پالیسی اور طرزِ حکمرانی بدل گیا تو شاید آنے والی نسلیں پہلی بار یہ محسوس کریں گی کہ پاکستان میں صرف حکومتیں نہیں، نظام بھی بدلا تھا۔
فیس بک کمینٹ

