Author: ایڈیٹر

وقت کا تقاضا ہے کہ عدلیہ اور عوام کے درمیان فاصلے کم ہوں۔ مکالمہ بڑھے، اعتماد بحال ہو اور انصاف کو صرف قانونی اصطلاح کے طور پر نہیں بلکہ ایک زندہ انسانی قدر کے طور پر دیکھا جائے۔ اگر ایسا ہو سکا تو نہ صرف عدلیہ کا وقار بلند ہوگا بلکہ پاکستان میں ایک زیادہ منصفانہ، متوازن اور انسان دوست معاشرے کی بنیاد بھی مضبوط ہو سکے گی۔

کشمیری عوام اور پاکستانی حکمران آپس میں الجھیں گے تو فائدہ بھارت اٹھائیگا۔ آج جس عوامی ایکشن کمیٹی کو بھارتی ایجنٹ کہا جا رہا ہے صرف آٹھ ماہ قبل ان بھارتی ایجنٹوں کے ساتھ معاہدے پر دستخط کرنیوالوں کے بارے میں ہم کیا کہیں ؟کل کو آپ اسی ایکشن کمیٹی کیساتھ پھر مذاکرات کرینگے جسے دہشت گرد قرار دیا گیا۔

مظفر آباد میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے جبکہ انٹرنیٹ سروس بھی معطل ہے۔
مظفر آباد اور دیگر شہروں میں پیرا ملٹری فورس اور پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے۔
سنیچر کو کریک ڈاؤن کے دوران راولا کوٹ میں سکیورٹی فورسز کے ساتھ مبینہ جھڑپ کے دوران عوامی ایکشن کمیٹی کے رُکن کی ہلاکت کے بعد حالات کشیدہ ہو گئے تھے۔

یہ اشارے بھی موجود ہیں کہ بعض سیاسی عناصر ایکشن کمیٹی کو اپنے گروہی سیاسی مفادات کے لیے آلہ کار بنائے ہوئے ہیں۔
آزاد کشمیر حکومت کو کسی بڑے تصادم سے بچنے کے لیے ایکشن کمیٹی کے لیڈروں کو رہا کرکے مفاہمت کا راستہ اختیار کرنا چاہئے۔ اور ایکشن کمیٹی بھی سپریم کورٹ کے فیصلہ کی روشنی میں یہ تسلیم کرلے کہ آئیندہ منتخب اسمبلی اس سوال پر حتمی آئینی فیصلہ کرے گی۔ اس وقت تک احتجاج ملتوی کرکے آزاد کشمیر کی سیاست کو کسی بڑے بحران سے بچایا جائے۔

ان قواعد و ضوابط میں یہ بھی شامل ہے کہ جو بھی تقاریر ہوں گی فی البدیہہ اور رٹی رٹائی ہوں گی۔ کوئی نیا یا تازہ نعرہ ایجاد نہیں ہو گا اور تمام وعدے تحریری منشور کی شکل میں نہیں بلکہ زبانی کلامی ہوں گے تاکہ ان کا کوئی دستاویزی ریکارڈ نہ ہو ورنہ اگلے الیکشن میں پھر کیا بیچیں گے؟

یاد رہے کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے ہوم ڈپارٹمنٹ کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا تھا کہ ڈھائی سو سے زیادہ ایسے افراد کی فہرست تیار کر لی گئی ہے جن کے بارے میں کہ بتایا جاتا ہے کہ وہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے سرکردہ رہنما ہیں۔

صاحبان ذی وقار کہتے ہیں کہ 2010 میں طے پانے والا قومی مالیاتی ایوارڈ نظرثانی کا محتاج ہے۔ یہ مالیاتی ایوارڈ اٹھارہویں آئینی ترمیم سے بندھا ہے جس میں ریاست نے 1973 میں کیا گیا صوبائی خود مختاری کا وعدہ 37 برس کی تاخیر سے پورا کیا تھا۔ ساتویں قومی فنانس ایوارڈ میں وفاق کا حصہ 43 فیصد اور صوبوں کا حصہ 57 فیصد کر دیا گیا۔

اگلی بار موبائل میں جب کوئی نام سیو کرنا تو ‘اللہ دتہ منجی والا’ یا ‘ خیر الدین بوٹ پالش’ ٹائپ کا مردانہ نام مت لکھنا ۔ کیونکہ بار بار کے تجربات سے بھابھی اب اتنی بھولی نہیں رہیں۔ اس لئے اب کی بار کسی نسوانی نام مثلاً شیداں تندور والی ۔ماسی خیراں دم بلکہ اک دم والی۔

دریں اثنا کشمیر کے مختلف شہروں سے لوگوں نے انٹرنیٹ سروس کی سست روی اور تعطل کی شکایات کی ہیں۔ کشمیر میں حکام کا کہنا ہے کہ مجموعی سکیورٹی صورتحال کا مسلسل جائزہ لیا جا رہا ہے اور کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے متعلقہ ادارے الرٹ ہیں۔