پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی صاحب نے پچھلے دنوں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ” یہ سسٹم فیل چکا ہے ” بس اس کے بعد پاکستان کے طول و عرض میں ایسی صورتحال پیدا ہوگئی جیسے کوئی انہونی ہو گئی ہو یا کسی کی تقدیس کی نفی ہو گئی ہو ۔۔
ایسا ملک جس میں مہنگائی عروج پر ، روز گار ناپید ، صنعتی ترقی کا پہیہ رک چکا ہو ، عام آدمی کے لئے بجلی کے میٹر پر 200 کا ہندسہ موت کا پیغام بن کر آئے ، اور وہ کچھ دیر کے لئے پنکھا بند رکھے کہ یونٹ کنٹرول میں رہیں ، ہر روز کسی شہر سے ماں اور بچوں کی غربت اور بھوک کے باعث خود کشی کی خبریں آئیں ، ایک کروڑ سے زائد بچے اسکول نہ جاتے ہوں ، ملک کی معیشت آئی ایم ایف کے ایک ارب کی مرہون منت ہو ،لا قانونیت اور اخلاقی و سماجی بے راہروی ایک رواج ہو عورتیں اور چھوٹے بچے تو کیا کبھی کبھار کچھ جانور بھی محفوظ نہ ہوں ، پٹرول کے نام پر روز چھوٹے چھوٹے بم گریں اور گورنمنٹ عوام کو ہاتھ کی صفائی دکھائے تو اس سب کی پیچھے کار فرما وہ عوامل ہیں جو اس نظام کی پیدوار ہیں ایسے نظام کو گولڈ میڈل نہیں پہنائے جاتے بلکہ سچ بولے جاتے ہیں اور اگر اس سچ بولنے والے کو یہ سزا دی جائے اور یہ کہا جائے کہ آ پ نے یہ سچ کیوں بولا ؟ اور آ پ تو خود اس نظام سے فائدہ اٹھا رہے ہیں تو یہ سراسر زیادتی ہے کیونکہ نظام کو وہی جانتا ہے جو اس نظام کا حصہ ہے ایسے ہی جیسے آ پ کسی ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں تو ڈاکٹر پیسے لیتا ہے اور علاج کرتا ہے لیکن مرض کو دیکھتے ہوئے ڈاکٹر کسی لمحے پہ یہ بھی کہہ دیتا ہے کہ مرض اب لا علاج ہے اور شاید اس مریض کے بچنے کی امید نہیں۔۔۔ تو کیا ہم یہ کہنا شروع کر دیں کہ ڈاکٹر صاحب آ پ پیسے بھی لیتے ہو اسی میڈیکل کے شعبے سے آ پ پیسے کماتے بھی ہو اب یہ کہہ رہے ہو کہ مریض لاعلاج ہے۔۔
جنابِ والا ایک نظام کئی اکائیوں سے مل کر بنتا ہے اور ہر اکائی کی انفرادی خرابی مکمل نظام کو گلا سڑا کر دیتی ہے ، آج صرف اس نظام کی اکائی عوامی نمائندگی کا موثر نہ ہونا ، پاکستان کے انتخابی نظام میں موجود خامیاں ، عام آ دمی کی عدم شرکت یا ایک عام آ دمی کا انتخابی عمل میں حصہ نہ لے سکنا میرا موضوع ہے اور اسی طرح سے میں اس کے مختلف حصوں کی خامیوں پر مختلف مضامین تحریر کروں گا۔۔۔
پاکستان کے سیاسی نظام میں اپر مڈل کلاس تک کے آدمی کی رسائی صرف اور صرف ووٹر کی حد تک ہے اور اس کے ووٹ کے ساتھ کیا ہوتا ہے ووٹ دیتے وقت بیچارے کو خود یقین ہی نہیں ہوتا کہ وہ جس جماعت کو ووٹ دے رہا ہے اس کے ووٹ کی وجہ سے وہ جیت پاتی ہے یا نہیں ؟ یا اسے جیتنے دیا جاتا بھی ہے یا نہیں کیونکہ پاکستان کے سیاسی نظام میں ایک مذاق کیا جاتا ہے کہ پاکستان میں اہم ووٹ دینے والا نہیں بلکہ ووٹ گننے والا ہے ۔۔
پاکستان میں پارلیمانی جمہوری نظام ہے جس کی واضح شکل 1973 کے دستور میں بنی یعنی بالغ رائے دہی کی بنیاد پر حکومت کا ڈھانچہ تخلیق پاتا ہے۔۔
2026 کی حالیہ مردم شماری کے مطابق پاکستان کی آ بادی 26 کروڑ ہے اور پاکستان کی قومی اسمبلی میں براہ راست منتخب ہونے والے اراکین کی تعداد 266 ہے اس اعتبار سے ایک رکن قومی اسمبلی 977434 افراد کی نمائندگی کرتا ہے اور اس پارلیمانی جمہوریت کی ماں برطانیہ میں کل آ بادی 69400000 ہے اور برطانوی پارلیمنٹ کے اراکین کی تعداد 650 ہے اور اس تناسب سے ایک رکن پارلیمنٹ صرف 106765 افراد کی نمائندگی کرتا ہے ۔۔
پاکستان کے تین صوبوں پنجاب ، سندھ اور کے پی میں ایک رکن کا حلقہ انتخاب 1956 مربع کلو میٹر ہے، جبکہ بلوچستان میں یہ حلقہ انتخاب 24799 مربع کلو میٹر ہے ایک نظر برطانیہ پر کریں تو وہاں حلقہ انتخاب 345 مربع کلو میٹر ہے ، موثر سیاسی نظام اور انتخابی نظام کی مضبوطی کے باعث ایک عام آ دمی وہاں پارلیمنٹ کا رکن اور وزیراعظم بن جاتا ہے مگر اس کے برعکس پاکستان میں اگر دیکھیں تو پاکستان کا نمائندگی کا نظام بالکل ہی غیر موثر ہے اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ عام آ دمی تو الیکشن لڑنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا کیونکہ اس طرح کے انتخابی نظام میں یہ کھیل اب کروڑوں کا بن چکا ہے گو کہ انتخابات سیاسی جماعتوں کے ٹکٹ اور منشور پر لڑے جاتے ہیں مگر بلدیاتی نظام کی عدم موجودگی نے سیاسی جماعتوں کی نچلی سطح تک نہ صرف تنظیم سازی کو متاثر کیا ہے بلکہ بلدیاتی الیکشن نہ ہونے کی وجہ سے یہ ممبران قومی اسمبلی جن کا اصل کام ملک کی اعلی پالیسیوں اور ملک کی قانون سازی کرنا ہے انتخابات میں درحقیقت بلدیاتی نمائندوں کی طرح چھوٹے چھوٹے مسائل اور علاقائی سطح کے مسائل میں الجھ رہے ہوتے ہیں اور اس کا حل یہ نکالتے ہیں کہ مقامی سطح کے لوگوں کو متاثر کرتے ہیں چھوٹے چھوٹے انتخابی دفاتر بناتے ہیں ان دفاتر میں خوب رونق لگاتے ہیں ہلہ گلہ ہوتا ہے اور اب انتخابات میں جو نئی چیز شامل ہوئی وہ ہے اپنے انتخابی دفاتر میں کھانے کا انتظام کرنا اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی شخص نے ایک حلقے میں اگر ہم فرض کریں کہ 500 انتخابی دفاتر بنائے ہیں اور وہاں پر تقریبا 20 سے 25 افراد بیٹھے ہوئے ہیں تو اب ان افراد کے لیے روزانہ کھانے کا انتظام اور وہاں پہ دیگر انتظامات کرنے کے لئے نقد رقم فراہم کرنا بھی اس کی ذمہ داریوں میں شامل ہے اس کے علاوہ اس حلقے میں موثر انتخابی مہم کے لیے بہت زیادہ گاڑیوں کی ضرورت پڑتی ہیں اور کارنر میٹنگز کے لیے بہت زیادہ اخراجات آ تے ہیں اگر ہم ان تمام تر چیزوں کو ملا لیا جائے تو آ خر میں پتا یہ چلتا ہے کہ ایک عام آ دمی تو شاید ایک کارنر میٹنگ بھی نہیں کروا سکتا وہ انتخاب کیا لڑے گا ؟
اب اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ چند خاندان ہی اس عمل میں حصہ لیتے ہیں اور اس کے بعد تو جب اتنا پیسہ لگا کر الیکشن لڑتے ہیں تو اگلے انتخاب کی تیاری میں ظاہر ہے ان کو اخراجات کی ضرورت ہے تو اسی اعتبار سے پھر اپنا حصہ وصول بھی کرتے ہیں اگر آ پ صرف انتخابات کے دن کے اخراجات لگا لیں جہاں پر ووٹروں کو نکالنا ووٹروں کو پہنچانا ویسے تو الیکشن کمیشن نے تمام سطح پر قانون سازی کر رکھی ہے اخراجات کو بھی محدود کر دیا گیا ہے امیدواروں کو منع کر دیا جاتا ہے کہ وہ ووٹروں کو اپنی گاڑیوں پر نہیں لا سکتے لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے ہاں لوگوں نے اس کے بہت سارے حل نکال لیے ہیں الیکشن کمیشن کسی قسم کا آ ڈٹ نہیں کرتا جس کے نتیجے میں یہ سارا سسٹم اپاہج ہو کے رہ گیا ہے اور ایک پیسے والا پیسے کے زور پر وہ الیکشن جیت جاتا ہے یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہماری عوام بھی اپنے ارد گرد موجود کسی متوسط طبقے کے آ دمی کی خود حمایت نہیں کرتی وہ بھی متاثر اسی سے ہوتے ہیں جس کے پاس بڑی لینڈ کروزر ہیں اور ا پس میں یہ کہتے ہوئے نظر آ تے ہیں کہ ان کے لیڈر نے بڑا پیسہ لگایا ہے اور ہم صرف انتخابات کے دن کے اخراجات مثلا جن کے متعلق مشہور ہے کہ قیمے والے نان یا بریانی کی دیگوں کا خرچہ ہی نکال لیں اور انتخابی عمل میں پولنگ ایجنٹس کو دیے جانے والے پیسوں کا عمومی تخمینہ لگا لیں تو کہا یہ جاتا ہے کہ ایک دن پولنگ ڈے کے انتظامات کرنے کے لیے پانچ سے سات کروڑ روپے کی ضرورت ہوتی ہے جو کہ ایک بہت بڑی رقم ہے۔۔
یہ انتخابی عمل اس پارلیمانی جمہوری نظام کی بنیادی اکائی ہے جس میں اتنی خرابیاں ہے اور پاکستان کا ایک مڈل کلاس نوجوان وہ کسی امیدوار کی لینڈ کروزر کے آگے رقص و دھمال تو ڈال سکتا ہے ایک پڑھا لکھا شخص سوشل میڈیا پر اپنے لیڈر کی حمایت میں دوسرے کے لیڈر کو گالیاں تو دے سکتا ہے لیکن وہ شاید اس قابل بھی نہیں ہیں کہ وہ بطور امیدوار کسی جماعت میں اپنی ٹکٹ کی درخواست دے سکیں جس نظام کا ابتدا ہی اتنی کھوکلی ہو عام آ دمی کی پہنچ سے دور ہو اگر اس نظام کے متعلق کوئی یہ کہہ دے یہ نظام حقیقتا ختم ہو چکا ہے اپاہج ہو چکا ہے یا اس نظام سب لوگوں کو امیدیں وابستہ نہیں ہیں یا یہ عام ادمی کو کوئی فائدہ نہیں دے رہا تو وہ جرم نہیں ہے بلکہ ایسے شخص کی بات سنی جانی چاہیے اور اس سے پہلے کہ یہ دھمال اشتعال میں بدلے ، اور عام آدمی اس نظام میں تشدد کے ذریعے تبدیل لانے پر مجبور ہو جائے ، ضرورت اس امر کی ہے کہ اس نظام کے مہلک اور جان لیوا کمزوریوں کو دور کیا جائے ، ایسا موثر نمائندگی کا نظام سامنے آئے کہ موروثی سیاست کا خاتمہ ہوں اور عام آدمی کی شکل میں نئی اور قابل قیادت سامنے آسکے ۔۔
Previous Articleمیں واپس آؤں گا : یاسر پیرزادہ کا کالم
Next Article مہاراجہ کی گھوڑیاں اور نئی سیاست :سہیل وڑائچ کا کالم

