پاکستان میں آئے روز نئے سے نئے سیاسی، معاشی اور سماجی ایشوز جنم لیتے ہیں۔ چند روز تک ان پر بھونچال نما بحثیں ہوتی ہیں، ٹیلی ویژن چینلز، اخبارات اور سوشل میڈیا ان سے بھر جاتے ہیں، پھر وقت کی گرد ان پر بیٹھ جاتی ہے اور کوئی نیا موضوع قومی مباحثے کا مرکز بن جاتا ہے۔ لیکن بعض بیانات ایسے ہوتے ہیں جو محض وقتی سیاسی بیان نہیں رہتے بلکہ ریاست، حکومت اور نظام کے بارے میں بنیادی سوالات کو جنم دیتے ہیں۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا یہ بیان کہ "پاکستان کا سیاسی اور معاشی نظام ناکام ہو گیا ہے” انھی بیانات میں شمار ہوتا ہے۔ زمینی حقائق کے تناظر میں اس رائے سے اختلاف یا اتفاق کیا جا سکتا ہے، لیکن جب ایسا جملہ کابینہ کے ایک طاقتور اور بااثر وزیر کی زبان سے ادا ہو تو اس کی سیاسی اہمیت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس بیان نے سیاسی حلقوں، میڈیا اور سوشل میڈیا میں غیر معمولی ارتعاش پیدا کیا ہے ۔
اس بیان سے قبل وزیر داخلہ کی صدر مملکت آصف علی زرداری سے ملاقات بھی ہوئی، جس نے سیاسی مبصرین کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی۔ اس ملاقات میں کیا گفتگو ہوئی، اس کی کوئی سرکاری تفصیل سامنے نہیں آئی، اس لیے اس بارے میں حتمی رائے قائم نہیں کی جا سکتی۔ تاہم سیاسی تجزیہ نگار مختلف امکانات پر گفتگو کرتے رہے، جن میں آئینی و انتظامی اصلاحات، نئے صوبوں کے قیام اور مستقبل کی سیاسی حکمت عملی جیسے موضوعات بھی شامل رہے۔
محسن نقوی کی شخصیت کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ ان کا بنیادی پس منظر روایتی سیاست کا نہیں بلکہ صحافت کا ہے۔ وہ ایک معروف صحافی رہے، بعد ازاں پنجاب کے نگران وزیر اعلیٰ مقرر ہوئے، پھر وفاقی کابینہ کا حصہ بنے اور سینیٹر منتخب ہوئے۔ ان مناصب نے انھیں ملکی سیاست کے اہم ترین کرداروں میں شامل کر دیا ہے۔ اسی لیے ان کے ہر بیان کو محض ذاتی رائے نہیں سمجھا جاتا بلکہ اسے ریاستی پالیسیوں کے تناظر میں بھی دیکھا جاتا ہے۔
اگر ان کا یہ بیان ان کی ذاتی رائے ہے تو اسے ایک تجربہ کار صحافی اور حالات کا گہرا مشاہدہ رکھنے والے شخص کا تجزیہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ لیکن اگر بعض حلقوں کے مطابق اسے مقتدر حلقوں کے نقطۂ نظر کی عکاسی سمجھا جائے تو پھر اس کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ البتہ اس مؤقف کی سرکاری طور پر کوئی تصدیق موجود نہیں، اس لیے اسے ایک سیاسی تاثر ہی سمجھا جانا چاہیے۔
یہ بیان بظاہر موجودہ حکومت کی کارکردگی پر بھی سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو عمومی طور پر طاقتور ریاستی اداروں کی حمایت یافتہ حکومت قرار دیا جاتا رہا ہے، اس لیے حکومت کے ایک اہم وزیر کی جانب سے نظام کی ناکامی کا اعتراف حکومت کی مجموعی کارکردگی پر بھی بحث کو جنم دیتا ہے۔
چند سیاسی تجزیہ نگار یہ رائے بھی رکھتے ہیں کہ پاکستان میں انتظامی اصلاحات کے تحت نئے صوبوں کے قیام پر مختلف سطحوں پر غور کیا جا سکتا ہے۔ بعض آراء میں یہ تصور بھی پیش کیا جاتا ہے کہ ملک کو زیادہ انتظامی اکائیوں (سینتیس اکائیاں انگریز حکومت کی طرز پر ) میں تقسیم کر کے حکمرانی کو مؤثر بنایا جائے، جبکہ ان اکائیوں کی بنیاد زبان یا نسل کے بجائے انتظامی سہولت ہو تاکہ لسانی اور نسلی تعصبات میں کمی آئے اور قومی یکجہتی کو فروغ ملے۔ تاہم اس حوالے سے کوئی سرکاری منصوبہ یا فیصلہ سامنے نہیں آیا۔
وزیر داخلہ کے بیان کے فوراً بعد پاک فوج کے ترجمان کی پریس کانفرنس میں بھی صوبوں سے متعلق گفتگو نے اس بحث کو مزید تقویت دی۔ دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے سامنے آنے والے ردعمل سے یہ تاثر ملا کہ وہ نئے صوبوں کے معاملے پر اپنے مخصوص آئینی اور سیاسی مؤقف پر قائم ہے، جبکہ مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے اس معاملے پر غیر ضروری عوامی ردعمل سے گریز کیا۔ سیاسی مبصرین کے نزدیک اس خاموشی کو بھی مختلف زاویوں سے دیکھا جا رہا ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ گزشتہ کچھ عرصے سے ملکی سیاست میں مختلف جماعتوں کے تعلقات اور سیاسی صف بندیاں تبدیل ہوتی دکھائی دے رہی ہیں۔ آزاد کشمیر کے انتخابات سے لے کر حالیہ سیاسی بیانات تک کئی ایسے اشارے ملتے ہیں جن پر سیاسی تجزیہ نگار مسلسل گفتگو کر رہے ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی، جمعیت علمائے اسلام (ف) اور دیگر جماعتوں کے بیانات بھی سیاسی منظرنامے میں نئی بحثوں کو جنم دے رہے ہیں۔
پاکستان اس وقت معاشی دباؤ، سیاسی بے یقینی، مہنگائی، گورننس کے مسائل اور عوامی بے چینی جیسے متعدد چیلنجز سے دوچار ہے۔ ایسے ماحول میں اگر وزیر داخلہ یہ کہتے ہیں کہ سیاسی اور معاشی نظام ناکام ہو چکا ہے تو ان کے اس بیان کو محض ایک سیاسی جملہ قرار دے کر نظر انداز کرنا مناسب نہیں ہوگا۔ اس بیان کو ایک تنبیہ، ایک اعتراف یا ایک اصلاحی دعوت جس زاویے سے بھی دیکھا جائے۔اس نے ریاستی نظام کی کارکردگی پر سنجیدہ سوالات ضرور اٹھائے ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاسی قیادت، ریاستی ادارے اور تمام قومی قوتیں باہمی محاذ آرائی کے بجائے اصلاحِ نظام، آئین کی بالادستی، بہتر حکمرانی، معاشی استحکام اور عوامی اعتماد کی بحالی کے لیے مشترکہ حکمت عملی اختیار کریں۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کو سیاسی استحکام اور معاشی ترقی کی منزل تک پہنچا سکتا ہے۔ اگر محسن نقوی کے بیان کا مقصد نظام کی اصلاح کی طرف توجہ دلانا ہے تو پھر یہ سوال اپنی جگہ برقرار رہتا ہے کہ کیا واقعی وزیر داخلہ محسن نقوی ٹھیک کہتے ہیں۔اگر اس بیان کے پیچھے روایتی حلقوں کے کچھ مذموم مقاصد ہیں تو سیاسی جماعتوں کو سر جوڑ کر بیٹھنا چاہئے کیونکہ ان حالات و واقعات میں اب ملک کسی نئے تجربے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
منگل, اگست 11, 2026
تازہ خبریں:
- سہ ملکی دفاعی معاہدہ: توقعات اور حقائق : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- وزیر داخلہ محسن نقوی کا بیان وقت کی ضرورت ہے؟ پروفیسر ڈاکٹر مزمل حسین کا کالم
- ’ مجتبیٰ خامنہ ای جسمانی لحاظ سے مکمل صحت مند‘ ہیں: ایرانی صدر کا سات گھنٹے طویل ملاقات کے بعد دعویٰ
- جشن آزادی پر سکیورٹی : کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف شہروں میں موبائل سروس بند
- مہاراجہ کی گھوڑیاں اور نئی سیاست :سہیل وڑائچ کا کالم
- وزیر داخلہ کا بیان اور ہمارا گلا سڑا نظام : مہتاب حیدر تھہیم کا تجزیہ
- میں واپس آؤں گا : یاسر پیرزادہ کا کالم
- آبنائے ہرمز کے سوال پر ایران کی عالمی تنہائی : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- بھارت میں طالب علم رہنما نیہا بورا کے چہرے پر سیاہی پھینک دی گئی
- سیدان بادشاہ گر کی مدح میں ۔۔۔ علمدار حسین بخاری کا کالم ( پہلا حصہ )

