1984ء میں میرے بھارت روانہ ہونے سے قبل اندراگاندھی اپنے سکھ محافظوں کے ہاتھ قتل کردی گئی تھیں۔ اس کے نتیجے میں دلی کے علاوہ شمالی بھارت کے کئی شہروں میں خوفناک سکھ دشمن خونی فسادات ہوئے۔ بھارتی میڈیا اپنی سرکار کے ایماء پر دہائی مچاتا رہا کہ سکھ علیحدگی پسند تحریک کو پاکستان بھڑکارہا ہے۔
Browsing: نصرت جاوید
پاکستان سے محاورے والی ’’بی فاختہ‘‘ جیسی مشقت کروالینے کے بعد امریکہ اور ایران ایک دوسرے کے ساتھ ’’ڈائریکٹ‘‘ ہوگئے ہیں اور ہمیں استعمال کرنے کے بعد بھلادیا گیا ہے۔
کم لوگوں کو یاد رہا ہوگا کہ ہمارے ہاں 8سال کے طویل مارشل لاء کے بعد 1985ء میں بھی عام انتخابات ہوئے تھے۔ تمام سیاسی جماعتیں…
اپریل 2022ء سے قائم حکومتی بندوبست کو مگر پیر ہی کی شام فیصل واوڈا صاحب نے ناکام ونکما ثابت کرنے کے لئے جارحانہ بیٹنگ کرتے ہوئے کشتوں کے پشتے لگادئے۔ ہمارے حکمرانوں کی خودستائشی کا سحر 24گھنٹے تک بھی برقرار نہ رہ پایا۔مکمل کالم کا لنک پہلے کمینٹ میں موجود ہے
ممکنہ ہنگاموں کے خوف سے ہزاروں کیمروں کی تنصیب سے ’سیف‘ بنائے اسلام آباد کی مرکزی شاہراہوں پر لگائے پولیس ناکے شہریوں کو تسلی دینے کے بجائے مزید خوفزدہ بنادیتے ہیں۔ سرکار مائی باپ کو مگر اس حقیقت کا ہرگز ادراک نہیں ہے۔
حکمران اشرافیہ خوش ہے کہ تمام تر اختلافات کے باوجود ان کے مابین ریاست کے مائیکرو ڈھانچے کو برقرار رکھنے کا فارمولا طے ہوگیا ہے ۔ خلق خدا کا مگر کیا ہوگا جس کی اکثریت خطِ غربت سے نیچے گرنے کے خوف سے کاملاََ مایوس و مفلوج محسوس کرنا شروع ہوگئی ہے ۔
آئی ایم ایف کو امریکہ کی جانب سے پاکستان کے ساتھ نرم رویہ اختیار کرنے کی کوئی ہدایت نہیں ملی ہے۔ ٹرمپ بہت تیزی سے امریکہ کے ریاستی اداروں پر اپنا کنٹرول کھورہا ہے۔
ٹی وی سکرینوں پر جناتی معاشی اصطلاحوں کے استعمال سے پاکستان کے ہر شہری کو ٹیکس چوری کا مجرم قرار دیتے ہوئے آئی ایم ایف کے سدھائے ’’ماہرین معیشت‘‘ مجھے ایک روز بھی اس حقیقت کا احساس کرتے سنائی نہیں دیتے کہ پاکستان میں نچلے متوسط طبقے سے آگے بڑھنے کی امید چھن چکی ہے۔
یہ طے نہیں کرپارہا کہ امریکہ اور ایران مک مکا کی جانب بڑھ رہے ہیں یا جنگ کے ایک رائونڈ کا آغاز ہوچکا ہے۔ ذہن میں موجود کنفیوڑن سے شرمندہ ہوں کر ہذیانی کیفیت میں مبتلا ہوا یہ کالم گھسیٹ مارا ہے۔ کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی۔
مارچ 2026ء سے قبل دنیا کی واحد سپرطاقت ہونے کا دعوے دار امریکہ خلیجی ممالک سے بھیجے تیل کی ترسیل کے نظام کا یک وتنہا ضامن تھا۔ اسی باعث بحرین وقطر میں امریکہ کو فوجی اڈے فراہم ہوئے تھے۔ خلیجی ممالک کے دفاع کو یقینی بنانے کے لئے امریکہ اور اس کے اتحادیوں سے گزشتہ کئی دہائیوں سے اربوں ڈالر کا جدید ترین اسلحہ بھی خریدا جارہا ہے جو اب کام آتا نظر نہیں آرہا۔
