پیپلز پارٹی کی حمایت سے خواتین کیلئے مخصوص نشستوں پر بٹھائی سیدہ عابدہ حسین نے جواں سال اور انقلابی خیالات کی حامل ہونے کی وجہ سے کسی عوامی مسئلے پر ایک تحریک التوا پیش کردی تھی۔ جاگیردارانہ تعلقات ہوتے ہوئے بھی کھر صاحب نے انہیں اپنے چیمبر میں بلواکر ایک سرزنشی لیکچر دیا۔ عابدہ بی بی اس کے بعد بتدریج اسمبلی کارروائی سے کنارہ کشی اختیار کرتے ہوئے بالآخر بھٹو مخالف قوتوں کے کیمپ کا حصہ بن گئیں۔
Browsing: نصرت جاوید
اس واقعہ کے بے شمار پہلو محض ایک کالم میں زیر بحث لائے نہیں جاسکتے۔ جو حقیقت خطِ کشیدہ کے ذریعے اجاگرکرنا لازمی سمجھتا ہوں وہ یہ ہے کہ چندحکومتی نمائندے اور سرکاری ادارے مذکورہ واقعے کے حوالے سے پرخلوص ندامت کے اظہار کے بجائے ڈھٹائی سے بدھ کی صبح ہوئے واقعہ کو محض ایک حادثہ قرار دیتے ہوئے خود کو بری الذمہ ثابت کرنے کی کاوشوں میں مصروف ہیں۔
محترمہ بے نظیر بھٹو عملی اعتبار سے مارچ 1990ء ہی میں فارغ ہوگئی تھیں۔ اس کا رسمی اعلان اگرچہ اگست 1990ء میں ہوا۔ اس جانب توجہ دلاتے ہوئے یہ خاکسار محض یہ جاننا چاہ رہا تھا کہ شہباز شریف صاحب کا ’’مارچ 1990‘‘ ہوچکا ہے یا نہیں۔
اسلام آ باد کے ہر سیکٹر میں تقریباََ روزانہ کی بنیاد پر نیٹ میٹر کے گرد لپٹی تاریں کاٹی جارہی ہیں۔ میں شرمسار ہوں کہ برسوں سے اخبارات کا پلندہ نہایت توجہ سے ختم کرنے کے باوجود مجھے ’’جرم‘‘ کی اس قسم کا کبھی علم نہیں ہوا۔
فروری 2024ء کے انتخابی عمل پر سوالات اٹھانا شروع ہوگئی ہے۔ اس برس ہوئے انتخاب پر سوالات اٹھاتے ہوئے پیپلز پارٹی بھول گئی کہ مذکورہ انتخابات کے نتائج تسلیم کرنے کی بدولت ہی وہ آصف علی زرداری صاحب کو دوبارہ صدر مملکت بنواکر تاریخ بنانے کے قابل ہوئی ہے۔ پنجاب اور سندھ کے گورنر بھی اس کے حصہ میں آئے اور سابق وزیر عظم یوسف رضا گیلانی سینٹ کے چیئرمین منتخب ہوئے۔
ان کے ہاں وطن عزیز کو مثبت راہوں پر چلانے کا کوئی واضح ایجنڈا اور حکمت عملی موجود نہیں ہے۔ غالباََ اسی باعث ہمارے ہاں نوجوانوں میں ’’غیر معمولی حد تک مقبول‘‘ تصور ہوتی تحریک انصاف اپنے اہداف کے حصول میں مسلسل ناکام ہورہی ہے۔
متوسط طبقے کی بے پناہ اکثریت کو مسلسل اضطراب میں مبتلا رکھنے والی حکومت میں نے صحافت کو چار سے زیادہ دہائیاں دینے کے باوجود وطنِ عزیز میں کبھی نہیں دیکھی۔
بہتر تو یہی تھا کہ انتخابی شیڈول کا اعلان کرنے سے قبل احتجاجی تحریک کو مذا کرات کے ذریعے ٹھنڈا کیا جاتا۔ مذاکرات کے ذریعے حل ڈھونڈنے کے بعد ہی انتخابی شیڈول کا اعلان ہونا چاہیے تھا۔ احتجاجی تحریک کا مناسب حل ڈھونڈے بغیر انتخابی شیڈول کا اعلان ہوگیا تھا تو آزادکشمیر کی ہر نشست پر پولنگ ایک ہی روز کروائے جانا یقینی بنانا چاہیے تھا۔
کاش کوئی دیانتدار ماہر معیشت یہ پتہ بھی لگائے کہ پٹرول کی قیمت طے کرنے سے ’حکومت کو الگ کرنے والے‘ سرکاری افسران میں سے کتنے بڑے ناموں والی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے ممبر بھی ہیں اور انہیں ان کے اجلاس میں شرکت کے لئے کیا نذرانہ پیش کیا جاتا ہے۔
ہ آصف علی زراری کے قریب ترین دوستوں میں سے ایک ڈاکٹر ذوالفقار علی مرزا کو رحمن ملک مرحوم کے رویے کی وجہ سے ڈرامائی پریس کانفرنسوں کے بعد آصف علی زرداری سے دوری اختیار کرنا پڑگئی تھی۔ رحمن ملک مگر اپنے عہدے پر قائم رہے۔ وزارت داخلہ میں ’’کچھ تو ایسا ہے‘‘ کہ جو بھی شخص وہاں بیٹھا ہو ’’مستقل‘‘ ہوا محسوس ہوتا ہے۔
