تحریک انصاف کے سوشل میڈیا اور نجی محفلوں میں مرنے مارنے کو بے چین حامی فی الوقت گھروں سے نکل کر ریاستی قوت کو للکارنے کی ہمت سے محروم ہیں۔
Browsing: نصرت جاوید
ایمرجنسی یا گورنر راج کا نفاذ وقتی طورپر فقط تحریک انصاف کو دھچکا لگاتا نظر آئے گا۔ سیاست کا دیرینہ شاہد ہوتے ہوئے مصر رہوں گا کہ بتدریج ہماری سب سیاسی جماعتیں اس کے منفی اثرات سے خود کو محفوظ نہیں رکھ پائیں گی۔مکمل کالم کا لنک پہلے کمینٹ میں موجود ہے ،
لاہور کے معروف لکشمی چوک کے قریب ایک مصروف ترین سڑک کے کنارے سہیل آفریدی پولیس وین سے اتر کر گھنٹے سے زیادہ دیر تک بیٹھے رہے۔ مجھ جیسے بڈھے صحافی کو اس چوک کے کسی کونے میں دیکھ کر کم از کم 15سے 20افراد سیلفیاں کھنچوانے کو رک جاتے ہیں۔ سہیل آفریدی کے جانے پہچانے چہرے کو مگر ایسی ’’پذیرائی‘‘ بھی نصیب نہ ہوئی۔
حیرت کا اظہار کیا تھا کہ تحریک انصاف کے اسلام آباد پر دھاوے کو ہر صورت روکنے کو ڈٹی حکومت اس جماعت کے پٹرولیم لیوی کے خلاف دیے دھرنوں کی راہ میں حائل کیوں نہیں ہورہی۔
انتخابی اعتبار سے یہ جماعت 2002 کے علاوہ کبھی مؤثر ثابت نہیں ہوئی۔ 1970 کی دہائی میں قائم ہوئی پارلیمان میں البتہ حزب مخالف کی صفوں میں بیٹھے اس کے چند رہ نماؤں نے بھٹو حکومت کو پریشان رکھا۔
یہ دیکھ کر حیران ہوا کہ لوگوں کی اکثریت حکومت کو پیر کی رات ہوئے اضافے کا ذمہ دار ٹھہراکر برا بھلا کہنے کے بجائے جماعت اسلامی کے نسبتاًجواں سال امیر حافظ نعیم الرحمن کا تمسخراڑارہی تھی۔ گزشتہ کئی دنوں سے جماعت اسلامی کراچی اور لاہور جیسے بڑے شہروں میں پٹرول اور ڈیزل کی ناقابل برداشت قیمتوں کے خلاف دھرنے دے رہی ہے۔
پیپلز پارٹی کی حمایت سے خواتین کیلئے مخصوص نشستوں پر بٹھائی سیدہ عابدہ حسین نے جواں سال اور انقلابی خیالات کی حامل ہونے کی وجہ سے کسی عوامی مسئلے پر ایک تحریک التوا پیش کردی تھی۔ جاگیردارانہ تعلقات ہوتے ہوئے بھی کھر صاحب نے انہیں اپنے چیمبر میں بلواکر ایک سرزنشی لیکچر دیا۔ عابدہ بی بی اس کے بعد بتدریج اسمبلی کارروائی سے کنارہ کشی اختیار کرتے ہوئے بالآخر بھٹو مخالف قوتوں کے کیمپ کا حصہ بن گئیں۔
اس واقعہ کے بے شمار پہلو محض ایک کالم میں زیر بحث لائے نہیں جاسکتے۔ جو حقیقت خطِ کشیدہ کے ذریعے اجاگرکرنا لازمی سمجھتا ہوں وہ یہ ہے کہ چندحکومتی نمائندے اور سرکاری ادارے مذکورہ واقعے کے حوالے سے پرخلوص ندامت کے اظہار کے بجائے ڈھٹائی سے بدھ کی صبح ہوئے واقعہ کو محض ایک حادثہ قرار دیتے ہوئے خود کو بری الذمہ ثابت کرنے کی کاوشوں میں مصروف ہیں۔
محترمہ بے نظیر بھٹو عملی اعتبار سے مارچ 1990ء ہی میں فارغ ہوگئی تھیں۔ اس کا رسمی اعلان اگرچہ اگست 1990ء میں ہوا۔ اس جانب توجہ دلاتے ہوئے یہ خاکسار محض یہ جاننا چاہ رہا تھا کہ شہباز شریف صاحب کا ’’مارچ 1990‘‘ ہوچکا ہے یا نہیں۔
اسلام آ باد کے ہر سیکٹر میں تقریباََ روزانہ کی بنیاد پر نیٹ میٹر کے گرد لپٹی تاریں کاٹی جارہی ہیں۔ میں شرمسار ہوں کہ برسوں سے اخبارات کا پلندہ نہایت توجہ سے ختم کرنے کے باوجود مجھے ’’جرم‘‘ کی اس قسم کا کبھی علم نہیں ہوا۔
