فروری 2024ء کے انتخابی عمل پر سوالات اٹھانا شروع ہوگئی ہے۔ اس برس ہوئے انتخاب پر سوالات اٹھاتے ہوئے پیپلز پارٹی بھول گئی کہ مذکورہ انتخابات کے نتائج تسلیم کرنے کی بدولت ہی وہ آصف علی زرداری صاحب کو دوبارہ صدر مملکت بنواکر تاریخ بنانے کے قابل ہوئی ہے۔ پنجاب اور سندھ کے گورنر بھی اس کے حصہ میں آئے اور سابق وزیر عظم یوسف رضا گیلانی سینٹ کے چیئرمین منتخب ہوئے۔
Browsing: نصرت جاوید
ان کے ہاں وطن عزیز کو مثبت راہوں پر چلانے کا کوئی واضح ایجنڈا اور حکمت عملی موجود نہیں ہے۔ غالباََ اسی باعث ہمارے ہاں نوجوانوں میں ’’غیر معمولی حد تک مقبول‘‘ تصور ہوتی تحریک انصاف اپنے اہداف کے حصول میں مسلسل ناکام ہورہی ہے۔
متوسط طبقے کی بے پناہ اکثریت کو مسلسل اضطراب میں مبتلا رکھنے والی حکومت میں نے صحافت کو چار سے زیادہ دہائیاں دینے کے باوجود وطنِ عزیز میں کبھی نہیں دیکھی۔
بہتر تو یہی تھا کہ انتخابی شیڈول کا اعلان کرنے سے قبل احتجاجی تحریک کو مذا کرات کے ذریعے ٹھنڈا کیا جاتا۔ مذاکرات کے ذریعے حل ڈھونڈنے کے بعد ہی انتخابی شیڈول کا اعلان ہونا چاہیے تھا۔ احتجاجی تحریک کا مناسب حل ڈھونڈے بغیر انتخابی شیڈول کا اعلان ہوگیا تھا تو آزادکشمیر کی ہر نشست پر پولنگ ایک ہی روز کروائے جانا یقینی بنانا چاہیے تھا۔
کاش کوئی دیانتدار ماہر معیشت یہ پتہ بھی لگائے کہ پٹرول کی قیمت طے کرنے سے ’حکومت کو الگ کرنے والے‘ سرکاری افسران میں سے کتنے بڑے ناموں والی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے ممبر بھی ہیں اور انہیں ان کے اجلاس میں شرکت کے لئے کیا نذرانہ پیش کیا جاتا ہے۔
ہ آصف علی زراری کے قریب ترین دوستوں میں سے ایک ڈاکٹر ذوالفقار علی مرزا کو رحمن ملک مرحوم کے رویے کی وجہ سے ڈرامائی پریس کانفرنسوں کے بعد آصف علی زرداری سے دوری اختیار کرنا پڑگئی تھی۔ رحمن ملک مگر اپنے عہدے پر قائم رہے۔ وزارت داخلہ میں ’’کچھ تو ایسا ہے‘‘ کہ جو بھی شخص وہاں بیٹھا ہو ’’مستقل‘‘ ہوا محسوس ہوتا ہے۔
ان کے فرزند اور جانشین نے مذکورہ مطالبے کا ذکر کرتے ہوئے بدلہ لینے کا عہدہ باندھا۔ عوام کو یقین دلایا کہ خمینائی کے قاتلوں کو ان کے بستر میں فطری موت نصیب نہیں ہوگی۔ آیت اللہ مجتبیٰ خمینائی کی جانب سے جاری ہوئے تحریری بیان کوبغور پڑھنے کے بعد ناقابل علاج سادہ لوح افراد ہی ایران اور امریکہ کے مابین دائمی امن کے حصول کے لئے مذاکرات کی بحالی کی امید برقرار رکھ سکتے ہیں۔
غیر ملکی خواتین حال ہی میں گرفتار ہوئے پاکستانیوں کو ایک اور ملک میں ملی تھیں۔ انہوں نے طاقتور وزیر کے قریبی رشتے دار کو کرپٹو کرنسی کے دھندے میں سرمایہ کاری کو اکسایا۔ اس کا اعتماد جیتنے کے لئے اسے گرانقدر منافع کی رقم بھی ادا کی گئی۔ بعدازاں مگر یہ ہی خواتین سرمایہ ہڑپ کرتی نظر آئیں۔ سوال اٹھتا ے کہ ہزاروں ڈالر مبینہ طورپر ہڑپ کرلینے کے بعد وہ مزید سرمایہ کاری کے لالچ میں پاکستان آنے کو آمادہ کیوں ہوئیں؟
خاتون سمجھی کہ پاکستان سے واقعتا کوئی دیوانہ دہشت گرد اس کے کمرے میں گھس آیا ہے۔ مجھے کمرے میں چھوڑ کر باہر نکل گئی۔ میں سمجھا پولیس بلوانے گئی ہوگی۔ وہ مگر میرے پاسپورٹ کی فوٹو کاپیاں مختلف لوگوں کو بھجوانے کے بعد ریسیپشن سے فون پر ان سے باتیں کرتی نظر آئی۔ میں کرسی پر چپک کے بیٹھا رہا۔
گزشتہ ہفتے جو آخری کالم لکھا تھا اس میں تفصیل سے بیان کرچکا ہوں کہ میری سوئی ان دنوں بھارتی بنگال کے سیاسی واقعات پر اٹکی…
