گریئرس صاحب کا Linguistic Survey of India کل 11 جلدوں اور 19 حصوں پر مشتمل ہے، 9500 سے زیادہ صفحات ہیں ۔ اس کا خلاصہ درج ذیل ہے:
جلد I: تعارف – Introductory
-حصہ I: پورے سروے کا تعارف، طریقہ کار، برصغیر کے لسانی خاندانوں کی درجہ بندی، نقشے
-حصہ II ہندوستانی زبانوں کا تقابلی ذخیرہ الفاظ (Comparative Vocabulary) – ایک ہی چیز کے نام مختلف زبانوں میں
جلد II: مون-کھمیر اور تائی خاندان
– شمال مشرقی ہندوستان اور برما بارڈر کی زبانی- خاسی (Khasi)، تائی (Tai)، شان وغیرہ۔ یہ آسٹرو-ایشیائی خاندان کی زبانیں ہیں۔
جلد III: تبتی-برمی خاندان (Tibeto-Burman) – 3 حصوں میں
-حصہ I ہمالیائی بولیاں، تبتی، شمالی آسام گروپ
-حصہ II بوڈو، ناگا، اور کاچن گروپ
– حصہ III: کوکی-چن اور برما گروپ
– یہ پورے ہمالیہ اور شمال مشرق کی پہاڑی زبانیں ہیں۔
جلد IV: منڈا اور دراوڑی زبانیں
– منڈا سنتالی، منڈاری، ہو وغیرہ دراوڑی:تامل، تیلگو، ملیالم، کنڑ، براہوی، کروکھ وغیرہ
جلد V: ہند-آریائی، مشرقی گروپ – Eastern Group
حصہ I بنگالی اور آسامی
حصہ II: بہاری (بھوجپوری، مگہی، میتھلی) اور اڑیہ (Odia) مشرقی ہند-آریائی زبانوں کا پہلا سائنسی ریکارڈ۔
جلد VI: ہند-آریائی، درمیانی گروپ Mediate Group
– صرف ایک ہی زبان: مشرقی ہندی (Eastern Hindi)
– اس میں اودھی، باگھیلی، چھتیس گڑھی بولیاں شامل ہیں۔
جلد VII: ہند-آریائی، جنوبی گروپ – Southern Group صرف ایک زبان: مراٹھی- مراٹھی اور اس کی بولی کونکنی کا تفصیلی مطالعہ۔
جلد VIII: ہند-آریائی، شمال-مغربی گروپ North-Western Group
حصہ I سندھی اور لہندا (آج کی سرائیکی، پوٹھواری ہندکو)
-حصہ II دردی یا پیساچی زبانیں، بشمول کشمیری، شینا، کھوار
جلد IX ہند-آریائی، وسطی گروپ Central Group – 4 حصوں میں
حصہ I مغربی ہندی (ہندوستانی، اردو، برج، ہریانوی اور پنجابی)
حصہ II راجستھانی اور گجرات-
حصہ IIl بھیل زبانیں، بشمول کھانڈیسی، بنجاری
حصہ IV پہاڑی زبانیں (گڑھوالی، کمانوی، ڈوگری) اور گوجری(
جلد X ایرانی خاندان (بلوچی، پشتو)
-جلد XIخانہ بدوش (Gipsy) زبانیں اور ضمیمہ
گریئرس کا ہر جلد کا فارمولا ایک جیسا تھا,ہر زبان کا گرامر خاکہ، بنیادی الفاظ کی فہرست، اور ایک ہی کہانی "فضول خرچ بیٹے کی واپسی” (Return of the Prodigal Son) کا اس زبان میں ترجمہ تاکہ موازنہ آسان ہو۔
لنگوئسٹک سروے آف انڈیا کا ایک طائرانہ جائزہ اور لہندا پنجابی تنازعہ : زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
ایڈیٹر1 Views

