اپریل 2022ء سے قائم حکومتی بندوبست کو مگر پیر ہی کی شام فیصل واوڈا صاحب نے ناکام ونکما ثابت کرنے کے لئے جارحانہ بیٹنگ کرتے ہوئے کشتوں کے پشتے لگادئے۔ ہمارے حکمرانوں کی خودستائشی کا سحر 24گھنٹے تک بھی برقرار نہ رہ پایا۔مکمل کالم کا لنک پہلے کمینٹ میں موجود ہے
Browsing: نصرت جاوید
ممکنہ ہنگاموں کے خوف سے ہزاروں کیمروں کی تنصیب سے ’سیف‘ بنائے اسلام آباد کی مرکزی شاہراہوں پر لگائے پولیس ناکے شہریوں کو تسلی دینے کے بجائے مزید خوفزدہ بنادیتے ہیں۔ سرکار مائی باپ کو مگر اس حقیقت کا ہرگز ادراک نہیں ہے۔
حکمران اشرافیہ خوش ہے کہ تمام تر اختلافات کے باوجود ان کے مابین ریاست کے مائیکرو ڈھانچے کو برقرار رکھنے کا فارمولا طے ہوگیا ہے ۔ خلق خدا کا مگر کیا ہوگا جس کی اکثریت خطِ غربت سے نیچے گرنے کے خوف سے کاملاََ مایوس و مفلوج محسوس کرنا شروع ہوگئی ہے ۔
آئی ایم ایف کو امریکہ کی جانب سے پاکستان کے ساتھ نرم رویہ اختیار کرنے کی کوئی ہدایت نہیں ملی ہے۔ ٹرمپ بہت تیزی سے امریکہ کے ریاستی اداروں پر اپنا کنٹرول کھورہا ہے۔
ٹی وی سکرینوں پر جناتی معاشی اصطلاحوں کے استعمال سے پاکستان کے ہر شہری کو ٹیکس چوری کا مجرم قرار دیتے ہوئے آئی ایم ایف کے سدھائے ’’ماہرین معیشت‘‘ مجھے ایک روز بھی اس حقیقت کا احساس کرتے سنائی نہیں دیتے کہ پاکستان میں نچلے متوسط طبقے سے آگے بڑھنے کی امید چھن چکی ہے۔
یہ طے نہیں کرپارہا کہ امریکہ اور ایران مک مکا کی جانب بڑھ رہے ہیں یا جنگ کے ایک رائونڈ کا آغاز ہوچکا ہے۔ ذہن میں موجود کنفیوڑن سے شرمندہ ہوں کر ہذیانی کیفیت میں مبتلا ہوا یہ کالم گھسیٹ مارا ہے۔ کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی۔
مارچ 2026ء سے قبل دنیا کی واحد سپرطاقت ہونے کا دعوے دار امریکہ خلیجی ممالک سے بھیجے تیل کی ترسیل کے نظام کا یک وتنہا ضامن تھا۔ اسی باعث بحرین وقطر میں امریکہ کو فوجی اڈے فراہم ہوئے تھے۔ خلیجی ممالک کے دفاع کو یقینی بنانے کے لئے امریکہ اور اس کے اتحادیوں سے گزشتہ کئی دہائیوں سے اربوں ڈالر کا جدید ترین اسلحہ بھی خریدا جارہا ہے جو اب کام آتا نظر نہیں آرہا۔
’’ترقی پسندی‘‘ کے سب سے بڑے نمائندے -فیض احمد فیض بھی اپنے قبیلے کے دباؤ میں آکر عدالت میں یہ بیان دینے کو مجبور ہوئے کہ منٹو کے افسانے میں چند سطریں فحش شمار کی جاسکتی ہیں۔
مسلم لیگ (نون) اور پیپلز پارٹی انتخابی حوالوں سے ہماری سب سے تجربہ کار جماعتیں ہیں۔ میں ان سے اس بچگانہ سوچ کی توقع نہیں رکھتا کہ ووٹر کی عمر 18سال سے بڑھانا ان کی انتخابی کامیابی یقینی بناسکتا ہے۔ 28ویں ترمیم کے ذریعے ووٹر کی عمر بڑھاتے ہوئے یہ جماعتیں بلکہ انتخابی میدان میں اترتے ہوئے شکست کے خوف سے مفلوج ہوئی نظر آئیں گی۔
پنکی آسمانی رنگ کی ٹی شرٹ اور پھولدار پاجامہ پہن کر اپنے ہاتھوں میں پانی کی بوتل سے کھیلتی عدالت میں کمال خوداعتمادی اور اطمینان سے یوں چل رہی تھی جیسے کوئی ملکہ اپنی راجدھانی میں گشت کررہی ہو۔
