Browsing: نصرت جاوید

انہیں شبہ ہے کہ پاکستان دورمارمیزائلوں کے جدید ترین ورژن تیار کرنا چاہ رہا ہے ۔ جو متعددحساس معاملات پر ہمیں امریکہ کو انکار کے قابل بناسکیں۔
امریکہ کے جاسوسی کارندوں کی جانب سے پاکستان کے ایٹمی اور میزائل پروگرام پر شکوک وشبہات کا برسرعام اظہار عین ان دنوں دہرایا گیا ہے جب اسرائیل کے ساتھ مل کر امریکہ ایران ہی نہیں اس کے قدرتی وسائل سے مالا مال تمام خلیجی ہمسایوں کو کامل ابتری وانتشار کے سپرد کرنے میں مصروف ہے ۔

جدید تحقیق کی بدولت کسی فرد کی مخصوص جسمانی حرارت ریکارڈ کی جاسکتی ہے۔ ڈرون طیاروں یا دور مار میزائل میں نصب بارودی مواد فضا میں اچھالے جانے کے بعد اس حرارت کو تلاش کرتا ہے۔ گزرے جمعہ کو گویا علی لاریجانی کی جسمانی حرارت ریکارڈ کرلی گئی تھی۔ کیوں اور کیسے؟ اس سوال کا جواب فراہم کرنا میرے بس میں نہیں۔ ’’جسمانی حرارت‘‘ مگر ریکارڈ ہوسکتی ہے جو دشمن کے ہاتھوں کسی فرد کا دور مارہتھیاروں سے قتل ممکن بناسکتی ہے۔مکمل کالم پڑھنے کے لیے پہلے کمینٹ میں موجود لنک کھولیں

ایران اپنے جزیرے کا تحفظ یقینی بنانے کے لئے آبنائے ہرمز کھولنے کو رضامند ہوسکتا تھا۔ ممکنہ رضامندی مگر دنیا کو اس کے جھک جانے کا پیغام دیتی نظر آئی تو وہ ہمسایہ ملکوں کو میزائلوں کی برسات کی زد میں لے کر ‘‘ہم توڈوبے ہیں…’’ والا ہولناک جواب بھی دے سکتا ہے ۔

چند ہی دنوں میں پٹرول کی قیمت میں کم از کم 30سے 40روپے کا اضافہ درکار ہوگا۔ مذکورہ اضافے کے اثرات ہماری محدود سے محدود تر ہوتی آمدنی پر انحصار کرنے والے سینکڑوں گھرانوں پر عذاب کی صورت نازل ہو ں گے ۔ ریت میں سردئیے شترمرغ کی طرح مگر ہم اس جانب دیکھنے کو آمادہ ہی نہیں ہورہے ۔ اپنی ‘‘نظریاتی’’ سوچ کے مطابق بڑھکیں لگائے چلے جارہے ہیں۔