پاکستان سے فلپائن تک پھیلے میرے اور آپ جیسے کروڑوں افراد ایران اور امریکہ کو تخت یا تختہ کی صورت حال میں دھکیلنے کے ذمہ دار نہیں۔ ان دونوں کے مابین کئی دہائیوں سے جاری مخاصمت مگر ہماری زندگیاں عذاب بنارہی ہیں اور ہم کسی بھی صورت ان دو ممالک کو لچک دکھانے کو مجبور نہیں کرسکتے۔ رواں ہفتے کا آخری کالم لکھتے ہوئے میرے دل ودماغ آپ کو خیر کی امید دلانے کا ایک فقرہ بھی سوچنے کے قابل نہیں۔
Browsing: نصرت جاوید
ہمارے ہمسائے میں لہٰذا دونوعیت کی ناکہ بندی برقرار ہے۔ خلیج سے آئے تیل اور گیس بردار جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لئے ا یرانی حکومت کی اجازت اور تعاون درکار ہوں گے۔ آبنائے ہرمز سے گزرکر بحرہند میں داخل ہوئے ایرانی جہازوں کو مگر امریکی بحریہ کے دستے چیک کرتے رہیں گے۔ آبنائے ہرمز کی ایران کی جانب سے بندش اور بحرہند میں ایران سے آئے جہازوں کی نقل وحرکت پر کڑی نگاہ کا برقرار رہنا جنگ بندی میں توسیع کے با وجود میرے وہمی دل کو دیرپاامن کی امید دلانے میں ناکام ہورہا ہے۔ گولی چلائے بغیر برقرار رکھی بے یقینی دل ودماغ کو حقیقی جنگ سے کہیں زیادہ ذہنی خلجان میں مبتلا رکھے گی۔
دسمبر 1965ء میں پاکستان کے صدر فیلڈ مارشل ایوب خان امریکہ گئے اور بشیر ساربان کے دوست سے پاک-بھارت جنگ کے دوران امریکہ کی جانب سے برتی سردمہری پر دُکھ اور شکوے کا اظہار کیا۔ بشیر ساربان کا دوست مگر ٹس سے مس نہ ہوا۔ بھارت ہی کو کمیونزم کا اصل دشمن تصور کرتا رہا۔ امریکہ سے لوٹتے ہی لہٰذا صدر ایوب خان کمیونسٹ کیمپ کے قائد سوویت یونین سے رجوع کرنے کو مجبور ہوئے ۔
کیٹلن ڈورنبوس مگر کوئی عام صحافی نہیں۔ NY Postکی رپورٹر ہونے سے قبل وہ امریکی فوج کے ترجمان رسالے سے وابستہ تھی۔ امریکی فوج کی مدد سے وہ کئی جنگوں کی برسرِ میدان حرب جاکر رپورٹنگ کرتی رہی ہیں۔ پاکستان میں قیام کے دوران موصوفہ نے میرے دو ہنر مند ساتھیوں -طلعت حسین اور فہد حسین- کے ٹی وی پروگراموں میں بھی حصہ لیا۔
اسرائیل کے علاوہ بھارت کوبھی پاکستان کا ایران اور امریکہ کے مابین مذاکرات کے حوالے سے مؤثر کردار ہضم نہیں ہورہا۔ اس کا وزیر خارجہ بھارت سے چند ممالک کا دورہ کرنے نکل پڑا ہے۔ جو ملک اس نے دورے کے لئے چنے ہیں وہ بھی ایران،امریکہ مذاکرات سے خوش نہیں۔ انہیں بھڑکانا مقصود ہے۔ تفصیلات میں جانے سے مگر گریز بہتر ہے۔
بھولا دِکھتا مگر حقیقتاً بہت کائیاں ٹرمپ آبنائے ہرمز کھلوانے میں نہیں بلکہ ا یران کو پتھر کے زمانے میں دھکیلنے کے لئے فضائی حملوں ہی پر انحصار کو ترجیح دے گا۔ اس کی تقاریر اور پیغامات تواتر سے اب ایران میں رجیم چینج نہیں بلکہ پوری ایرانی قوم کو بلااستثنا فروری 1979ءسے امریکہ کو مسلسل ذلت کا نشانہ بنانے کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے ان سے بدلہ لینے کا اظہار ہیں۔ ایران کی کامل تباہی وبربادی اس کا حتمی ہدف بن چکی ہے۔
ایران کی جانب سے دکھائی مزاحمت مگر مین لینڈ امریکا میں ویسی بے یقینی اور مایوسی نہیں پھیلارہی جو پاکستان کا ایران جنگ میں براہ راست ملوث نہ ہونے کے با وجود مقدر ہوئی نظر آرہی ہے۔ میں اس جانب توجہ مبذول رکھتا ہوں تو حارث خلیق جیسے مہربان دوست بھی ناامیدی کی یکسانیت کا ذکر کرتے ہوئے ذہن کو مزید مفلوج بنانا شروع ہوگئے ہیں۔
’’عالمی میڈیا‘‘ کی جانب سے پھیلائی ناامیدی کے باوجود میں یہ امید دلانے کو مجبور ہوں کہ یہ کالم چھپنے کے 24سے 72گھنٹوں کے دوران ایران اور امریکہ کے مابین مذاکرات کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔ ایسا نہ ہوا تو ہمیں آئندہ کئی برسوں تک خلیج وایران ہی نہیں بلکہ جنوبی اور مشرقی ایشیاء کے پاکستان سے فلپائن تک پھیلے ملکوں میں بھی کامل ابتری کا عذاب بھگتنا ہوگا۔
صحافی بارک راود نے خبر دی کہ ٹرمپ کے داماد اور دیرینہ دوست پاکستان کی وساطت سے ایران کے ساتھ رابطے میں تھے۔ ان رابطوں ہی نے پیر کی شام ٹرمپ کی جانب سے ہوئے اعلان کی راہ ہموار کی
امریکہ اور ایران کے مابین خفیہ،خاموش اور بالواسطہ روابط کی خبر ابھی تک کسی بھی مستند ذریعے سے منظر عام پر نہیں آئی ہے۔ اس کی عدم موجودگی میں یہ طے کرنا ممکن نہیں کہ منگل کی صبح تک ٹرمپ کے دئے 48گھنٹے گزرجانے کے بعد حالات کیا شکل اختیار کرچکے ہوں گے۔ کامل بے یقینی کی یہ کیفیت میں نے عمر تمام صحافت کی نذر کئے 40کے قریب برسوں میں ایک بار بھی محسوس نہیں کی ہے۔
