فقہی اصول کے مطابق انسانی اعضا اور بافتوں کی خرید و فروخت عام حالات میں جائز نہیں سمجھی جاتی۔ البتہ اگر جان بچانے یا شدید بیماری کے علاج کے لیے کوئی ناگزیر طبی ضرورت ہو اور اس کا متبادل موجود نہ ہو تو بعض فقہا نے ضرورت کے اصول کے تحت محدود گنجائش بیان کی ہے۔ اسی لیے انسانی پلیسینٹا کا معاملہ صرف طب کا نہیں بلکہ اخلاقیات، قانون اور شریعت کا بھی موضوع ہے۔
Browsing: کالم
اس دیس میں لکھنے والوں کیلئے یہ کچھ خوشگوار دن نہیں ہیں۔ کہنے کی باتیں قلمی احتساب کی زد میں آ جاتی ہیں۔ اگر کوئی کٹ پھٹا جملہ باقی بچتا ہے تو اسے پڑھنے والوں کی بے سمت تلخ کامی لے ڈوبتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ انگریزی لفظ cot کا ماخذ سرائیکی لفظ” کھٹ“ ہے اور دونوں کا مطلب چار پائی ہے۔ اس طرح سرائیکی میں ایک لفظ ” ونج“ استعمال کیا جا تا ہے جو انگریزی میں went بن جا تا ہے ۔ معنی ان دونوں کے بھی ایک ہی ہیں۔
لاہو ر اور ملک بھر میں متعدد شاہرائیں عابد مجید کے نام سے منسوب ہیں لیکن عابد مجید کے کارنامے کسی نصاب کا حصہ نہیں۔ اعزازی تلوار پانے والے عابد مجید کا المیہ یہ تھا کہ وہ جنگ کی افراتفری میں زندہ رہ کر اس منصب تک نہیں پہنچ سکا جہاں کمانڈر کے سینوں پر تمغوں کے لیے جگہ باقی نہیں بچتی اور اسے میدان جنگ سے دور کسی روشن کمرے میں ریا کار صحافیوں کے سامنے کم عمر سپاہیوں کی موت کے اعداد و شمار بیان کرنا ہوتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ قومیں صرف نعروں سے نہیں بلکہ اپنے شہریوں کو سہولتیں دے کر مضبوط بنتی ہیں۔ جب بنیادی ضروریات ہی روزانہ ایک نئی آزمائش بن جائیں تو عوام کی توانائی مسائل سے لڑنے میں ختم ہو جاتی ہے۔ ایک خوشحال معاشرے کی پہچان یہ نہیں کہ اس کے پاس کتنے قوانین ہیں، بلکہ یہ ہے کہ اس کے شہری کتنے اطمینان سے زندگی گزار رہے ہیں۔
بھرپور سیاسی زندگی گزارنے کے بعد رانا تاج احمد نون 9 ستمبر 2017ء کی صبح ملتان میں انتقال کر گئے۔ ان کو آبائی گاؤں میں جب سپردِ خاک کیا گیا تو ہزاروں لوگ ان کی معنوی اولاد بن کر نم آنکھوں سے انہیں رخصت کر رہے تھے کہ شجاع آباد کی سیاست کا تاج اب منوں مٹی کے تلے جا سویا ۔ رانا تاج احمد نون کی شخصیت کی سب سے اہم خوبی یہ تھی کہ وہ کرپشن کیے بغیر دنیا سے چلے گئے۔ ایسے بے داغ اور اُجلے سیاست دان اب ہمارے بچوں کے نصیب میں کہاں ہیں؟
ٹیلنٹ کوئی قومی خزانہ نہیں جو زمین کھودنے سے نکل آئے، وہ فصل ہے جسے بونا پڑتا ہے، سینچنا پڑتا ہے اور وقت پر کاٹنا پڑتا ہے۔ ہم فصل بوتے نہیں اور کٹائی کے موسم میں آسمان کی طرف منہ کر کے شکوہ کرتے ہیں کہ ہمارے کھیت تو سونا اگلنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔
بہتر تو یہی تھا کہ انتخابی شیڈول کا اعلان کرنے سے قبل احتجاجی تحریک کو مذا کرات کے ذریعے ٹھنڈا کیا جاتا۔ مذاکرات کے ذریعے حل ڈھونڈنے کے بعد ہی انتخابی شیڈول کا اعلان ہونا چاہیے تھا۔ احتجاجی تحریک کا مناسب حل ڈھونڈے بغیر انتخابی شیڈول کا اعلان ہوگیا تھا تو آزادکشمیر کی ہر نشست پر پولنگ ایک ہی روز کروائے جانا یقینی بنانا چاہیے تھا۔
جب اُن کا اپنا انتقال ہوا تو سینکڑوں لوگوں میں سے کوئی بھی ایک شخص ایسا نہ تھا کہ جس کو ہم پروفیسر شوکت مغل کا متبادل جان کر اُس سے افسوس کرتے! اس خطے میں اپنے تحقیقی اور تنقیدی کام کے حوالے سے ایک ہی نام پروفیسر شوکت مغل کا تھا جس نے کئی اداروں کا اکیلے بیٹھ کر کیا۔
دربار کے پہلو میں ایک بار پھر عظیم الشان مدرسہ اور جدید لائبریری قائم کی جائے تاکہ آنے والی نسلیں اپنے اسلاف کے علمی ورثے سے مستفید ہو سکیں۔ یہ صرف ایک عمارت کی تعمیر نہیں ہوگی بلکہ یہ ایک تحریک ہوگی جو وسیب کو جہالت کے اندھیروں سے نکال کر علم کی روشنی کی طرف لے جائے گی۔
