پیر سپاہی بلاشبہ ملتان کا دلچسپ کردار تھا جس کے پاس میری نانی اماں بھی اپنے ہاتھ کے شوگر زدہ زخم پر دم کرانے کوٹ ادو سے ملتان آئی تھیں۔ ٹھیک تو خیر کیا ہونا تھا ان کی تشخیص بھی بعد میں ہوئی تھی۔ یہ تو بعد میں پتہ چلا کہ پیر سپاہی بھی ضیائی کرشمہ تھا۔رضی کا پیر سپاہی کی کہانی کو ‘توڑ’ (آخر) تک پہنچانا ، ان کا صحافیانہ انداز ہے۔
Browsing: کالم
غیر ابلاغی ہونا کوئی عیب نہیں بلکہ ایسی کیفیت ہے جو کسی پر بھی آ سکتی ہے۔ ایسے بھی مہربان ہیں جو کسی بھی نئی تحریر کے پیج پر نمودار ہونے کے صرف پانچ سیکنڈ کے اندر اندر لائک کا بٹن دبا کے نہ صرف اس تحریر کو پورا اور دھیان سے پڑھنے کے عذاب سے خود کو بچا لیتے ہیں بلکہ صرف ٹائیٹل یا نام دیکھ کے فی سبیل اللہ آگے بڑھا دیتے ہیں:
عبداللہ حسین نے ٹھیک کہا تھا، کہانیوں میں وہ باتیں بھی ہوتی ہیں جو بیان ہو سکتی ہیں اور ایسا بہت کچھ بھی ہوتا ہے، جو کہا نہیں جا سکتا۔
’’ترقی پسندی‘‘ کے سب سے بڑے نمائندے -فیض احمد فیض بھی اپنے قبیلے کے دباؤ میں آکر عدالت میں یہ بیان دینے کو مجبور ہوئے کہ منٹو کے افسانے میں چند سطریں فحش شمار کی جاسکتی ہیں۔
مسلم لیگ (نون) اور پیپلز پارٹی انتخابی حوالوں سے ہماری سب سے تجربہ کار جماعتیں ہیں۔ میں ان سے اس بچگانہ سوچ کی توقع نہیں رکھتا کہ ووٹر کی عمر 18سال سے بڑھانا ان کی انتخابی کامیابی یقینی بناسکتا ہے۔ 28ویں ترمیم کے ذریعے ووٹر کی عمر بڑھاتے ہوئے یہ جماعتیں بلکہ انتخابی میدان میں اترتے ہوئے شکست کے خوف سے مفلوج ہوئی نظر آئیں گی۔
یہ سب ادیب ایک ہی کہانی کے مختلف باب ہیں اور وہ انسان کی کہانی ہے۔ ان کے ہاں دکھ بھی ہے، سوال بھی، بغاوت بھی، اور ایک ایسی خاموش دعا بھی جو زمانے کے شور میں بھی سنائی دیتی ہے۔
روس کی سرد راتوں میں جلتے ہوئے چراغ آج بھی ان کے لفظوں سے روشنی لیتے ہیں۔ اور ہم، دور بیٹھے قاری، ان روشنیوں میں اپنے ہی چہرے پہچاننے لگتے ہیں۔
پنکی آسمانی رنگ کی ٹی شرٹ اور پھولدار پاجامہ پہن کر اپنے ہاتھوں میں پانی کی بوتل سے کھیلتی عدالت میں کمال خوداعتمادی اور اطمینان سے یوں چل رہی تھی جیسے کوئی ملکہ اپنی راجدھانی میں گشت کررہی ہو۔
انکی ایک بیٹی نے شاید بزنس ایڈ منسٹریشن میں ماسٹرز کیا تھا وہ چاہتے تھے زکریا یونیورسٹی میں اسے ملازمت مل جائے میں کہتا تھا کہ اس بچی سے کہوکہ وہ ہمت کرکے موزوں دریچہ کھٹکھٹائے میری اس بات پر وہ ٹھنڈی سانس لے کے کہتے کہ کاش آپ بھی چھوٹے موٹے مخدوم ہوتے یا پھر مخدوم سجاد حسین قریشی زندہ ہوتے تو وہ کبھی مخدوم شاہ محمود قریشی کو اپوزیشن لیڈر بننے کی چاہت میں جیل نہ جانے دیتے۔
براک او باما واحد امریکی صدر ہیں جن سے براہ راست پوچھا گیا کہ آیا اسرائیل کے پاس جوہری ہتھیار ہیں یا نہیں۔ براک او باما نے اس سوال کے جواب میں بس اتنا کہا کہ ’ میں قیاس آرائیوں پر تبصرہ نہیں کرتا۔ (اسٹاک ہوم پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے پاس سو سے پونے دو سو تک جوہری ہتھیار ہیں)۔
اس دوران بہت سی قیاص آرائیوں نے جنم لیا سید یوسف رضا گیلانی پر ایک بڑا دباؤ یہ تھا کہ اس اغواء کا مقدمہ سیاسی مخالفین کے خلاف درج کرایا جائے مگر انہوں نے صبر و تحمل سے کام لیا اور نا معلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کرایا جس کے بعد سے سید علی حیدر گیلانی کی بازیابی کی بھر پور مہم چلانے کے ساتھ دعاؤں کا سلسلہ بھی جاری رکھا ۔
