یہ مبارکباد کا لمحہ تو ہے اوراس لیے بھی ہے کہ ہم نے زندہ نہ ہونے کے باوجود زندہ رہنے کا ڈھونگ رچایا۔ ہم مرنے کے باوجود دفنائے نہ جا سکے۔ ہم سچ بولنے کے باوجود جھوٹے کہلائے اور اس کے باوجود خود کو سچا سمجھتے رہے۔
مبارک باد تو بہت ضروری ہے اوراس لیے ضروری ہے کہ جس معاشرے میں روزانہ بہت سے لوگ خودکشی کرلیتے ہیں اس معاشرے میں ہم جیسے بزدل بہت بہادری یا ڈھٹائی کے ساتھ زندہ ہیں۔
Browsing: کالم
گزشتہ دنوں چارسدہ کے نامور عالم دین مولانا شیخ محمد ادریس کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا۔ شیخ محمد ادریس خیبر پختو نخوا اسمبلی کے سابق رکن تھے۔ وہ عسکریت کی بجائے سیاسی جدو جہد کے قائل تھے ۔ کچھ عرصہ سے انہیں دھمکیاں دی جا رہی تھیں کہ وہ جمہوریت اور آئین کی حمایت چھوڑ دیں ۔ اُن کے کچھ شاگرد بھی اُن سے پوچھتے تھے کہ جس جمہوریت میں انصاف نہ ہو اور جس آئین کو طاقتور لوگ اپنی مرضی کے مطابق استعمال کریں، اس جمہوری نظام کی حمائت کا کیا فائدہ ؟ شیخ محمد ادریس نے دھمکیوں کے باوجود سیاسی و جمہوری جدوجہد کی حمایت جاری رکھی اور آخر کار گولیوں کا نشانہ بن گئے۔
میڈیا بتا رہا ہے کہ 24 کروڑ رعایا معرکہِ حق جیتنے والی ریاست کی خوشیوں میں برابر کی شریک ہے۔ یہ خبر بھی تو کسی دن نشر ہو کہ اس بار ریاست بھی 24 کروڑ عوام کی خوشیوں میں برابر کی شریک ہے ۔
تمام امن و آشتی، ثالثی و خیر سگالی ایکسپورٹ نہ کریں کچھ اپنے لوگوں کے لیے بھی بچا کے رکھیں۔ یادگاریں ضرور بنائیے مگر یاد رہ جانے کا بھی کچھ سامان تیار کیجیئے۔
آخر میں حقیقت صرف اتنی ہے کہ مصنوعی ذہانت نہ دشمن ہے، نہ نجات دہندہ۔ یہ ایک طاقت ہے، اور طاقت ہمیشہ اپنے استعمال سے پہچانی جاتی ہے۔ اگر اسے انصاف، دیانت اور انسانیت کے ساتھ استعمال کیا گیا تو یہ دنیا بدل سکتی ہے۔ اگر اسے جھوٹ، لالچ، نفرت اور تباہی کے لیے استعمال کیا گیا تو نتائج خطرناک ہوں گے۔
یاد رکھنا چاہیے، مشین جواب دے سکتی ہے، مگر ضمیر، احساس، حکمت اور ذمہ داری آج بھی انسان کے پاس ہے۔
1982ء میں انھوں نے ملتان میں “فاران اکیڈمی” کے قیام میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اس ادبی پلیٹ فارم کا مقصد پاکستانی ادب اور قومی فکر کے تناظر میں ایک متبادل علمی آواز پیدا کرنا تھا۔ اس ادارے کے ذریعے کئی نوجوان ادیبوں اور شاعروں کی تربیت ہوئی، جنہوں نے بعد ازاں ملکی ادب میں اپنا مقام بنایا۔
ان کی تصانیف میں “خیال و نظر”، “تناظرات”، “پاکستانی ادب کا منظرنامہ”، “سرائیکی نقد و ادب”، “دل و نظر کا سفینہ” اور سفرنامۂ حج “سجدہ ہر ہر گام کیا” شامل ہیں۔
پگ میرے ویر دی ہمراہ 19 نومبر کو گرما گرم سائیڈ پروگرام انتخابی نشان پگڑی سنبھال جٹا ، تمنا کیسی کیوں نہ ہو ہم نے گلشن کے تحفظ کی قسم کھائی ہے اے کہوٹہ بیوٹی پارلر ہم تیری طرف بڑھنے والے ہاتھوں کو توڑ دیں گے تم نے ڈھاکہ دیا ہم نے لکس انٹرنیشنل سوپ لیا ۔ بالوں اور سیاسی نظام کی خوبصورت آ رائش کے لیے مسلم لیگ ہیئر کٹنگ سیلون آ پ کا مخلص چراغ دین انتخابی نشان ٹیبل ۔ پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا
مل کی یونین کا دعویٰ ہے کہ ایک سو تینتیس لاشیں تو انہوں نے اٹھائیں ان کے علاوہ بھی درجنوں سائیکل تھے جو کوئی لینے نہ آیا، یہ وہ دور تھا کہ ملتان میں امروز اخبار تھا جو ولی محمد واجد، سعید صدیقی احمر ، مظہرعارف اور حشمت وفا جیسے مزاحمت کاروں کے ذریعے اس قتلِ عام کی خبریں دے رہا تھا۔ تب جی ٹی ایس، کھاد فیکٹری اور دیگر اداروں میں فعال انجمنیں تھیں جس کی وجہ سے یوم مئی پر طالب علم ، استاد اور وکیل خطاب کرتے تو فیض اور جالب ہی نہیں استاد دامن بھی ان کے ترجمان ہو جاتے
پاکستان سے فلپائن تک پھیلے میرے اور آپ جیسے کروڑوں افراد ایران اور امریکہ کو تخت یا تختہ کی صورت حال میں دھکیلنے کے ذمہ دار نہیں۔ ان دونوں کے مابین کئی دہائیوں سے جاری مخاصمت مگر ہماری زندگیاں عذاب بنارہی ہیں اور ہم کسی بھی صورت ان دو ممالک کو لچک دکھانے کو مجبور نہیں کرسکتے۔ رواں ہفتے کا آخری کالم لکھتے ہوئے میرے دل ودماغ آپ کو خیر کی امید دلانے کا ایک فقرہ بھی سوچنے کے قابل نہیں۔
میرے بچپن میں پنجاب ٹیکسٹ بُک بورڈ سے منظور شدہ دوسری جماعت کے قاعدے میں حکمرانِ وقت کے بارے میں بھی یہ ڈیڑھ سطر شامل تھی۔ ‘فیلڈ مارشل محمد ایوب خان پاکستان کے ہر دل عزیز صدر ہیں۔ انہیں ہر دم ملک و قوم کی ترقی کا خیال رہتا ہے۔’
انیس سو ستر میں وقت بدلا تو اسی قاعدے میں صرف نام بدلا۔ ‘جنرل آغا محمد یحیی خان پاکستان کے ہر دل عزیز صدر ہیں، انہیں ہر دم ملک و قوم کی ترقی کا خیال رہتا ہے۔’ انیس سو بہتر میں شائع ہونے والے اسی قاعدے میں صدر ذوالفقار علی بھٹو کو ہر دم ملک و قوم کی ترقی کا خیال رہنے لگا۔ تب سے اب تک اس نصابی پل کے نیچے سے ویسا ہی پانی رنگ بدل بدل کے بہے چلا جا رہا ہے۔
ایلن جس طرح کے اداروں میں پڑھا ہے وہ ہمارے خیال یا خواب میں بھی مہذب ترین مُلک یعنی امریکہ کے وہ ادارے ہیں جن میں کوئی بچہ پڑھ رہا ہو تو باپ بے شک فخر کرتا ہے مگر وہ بچہ بیمار ہو جائے یا سیکورٹی والے اسے الٹا لِٹا کے مُشکیں کس لیں یا ہتھکڑیاں ڈال دیں تو مائوں کی آہیں عرش ہلا دیتی ہیں۔
