کاش کوئی دیانتدار ماہر معیشت یہ پتہ بھی لگائے کہ پٹرول کی قیمت طے کرنے سے ’حکومت کو الگ کرنے والے‘ سرکاری افسران میں سے کتنے بڑے ناموں والی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے ممبر بھی ہیں اور انہیں ان کے اجلاس میں شرکت کے لئے کیا نذرانہ پیش کیا جاتا ہے۔
Browsing: کالم
اپنے رسالے ” اوراق“ کے ذریعے قریباً چالیس سال تک متعدد نئے لکھنے والوں کو اعتماد اور قوت اظہار عطا کیا۔یہی وجہ ہے کہ ان کی زندگی میں ہی ان کے ادبی کام پر ایم فل اور پی ایچ ڈی کے مقالات لکھے جا چکے تھے۔ صدر پاکستان نے انہیں ستارہ امتیاز سے نوازا۔
ماہرین کے مطابق اگر عالمی منڈی میں اچانک قیمتیں کم ہو جائیں تو پہلے سے مہنگے داموں درآمد کیا گیا لاکھوں ٹن اسٹاک کم قیمت پر فروخت کرنا پڑ سکتا ہے، جس سے درآمد کنندگان اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ اگر یہ صورتحال بار بار پیدا ہوئی تو کمپنیاں بڑے ذخائر رکھنے کے بجائے محدود درآمد کو ترجیح دے سکتی ہیں، جس کے نتیجے میں کسی ہنگامی صورتحال یا جہازوں کی آمد میں تاخیر کی صورت میں ملک کے بعض علاقوں میں پٹرول کی عارضی قلت پیدا ہونے کا خدشہ بھی موجود ہے۔
ہ آصف علی زراری کے قریب ترین دوستوں میں سے ایک ڈاکٹر ذوالفقار علی مرزا کو رحمن ملک مرحوم کے رویے کی وجہ سے ڈرامائی پریس کانفرنسوں کے بعد آصف علی زرداری سے دوری اختیار کرنا پڑگئی تھی۔ رحمن ملک مگر اپنے عہدے پر قائم رہے۔ وزارت داخلہ میں ’’کچھ تو ایسا ہے‘‘ کہ جو بھی شخص وہاں بیٹھا ہو ’’مستقل‘‘ ہوا محسوس ہوتا ہے۔
کسی ملک میں تخلیقی سرگرمی کا معیار ناگزیر طور پر اجتماعی بندوبست کی توانائی سے بندھا ہے۔ ہم نے جو اجتماعی ذہن مرتب کیا ہے وہ تخلیقی صلاحیت کھو بیٹھا ہے۔ سرد جنگ کے زمانے میں امریکا اور سوویت یونین میں فلم کے میدان میں کڑا مقابلہ رہا اور بازی امریکا کے ہاتھ رہی۔ وجہ یہ کہ سوویت یونین میں تخلیقی سرگرمی پر نظریاتی قبا اوڑھے ہوئے کم سواد ، خوشامدی اور جعل ساز اہلکاروں کا اجارہ تھا۔
مسئلہ یہ ہے کہ مولوی نے ہمیں یہ بتایا ہوا ہے کہ رزق کا وعدہ اللہ نے کر رکھا ہے لہذا آبادی کنٹرول کرنا یا بچے کم پیدا کرنا دینی احکامات کے خلاف ہے۔ اِس سوچ نے پاکستان کو بارود کے ڈھیر پر لا کھڑا کیا ہے۔
اسکولوں میں جگہ نہیں، ہسپتالوں میں بستر نہیں، پینے کو صاف پانی نہیں، لیکن غریب کی جھونپڑی میں آٹھواں بچہ جنم لے رہا ہوتا ہے۔
خدا نے ہر انسان کو باضمیر پیدا کیا ہے، لیکن انسان ضمیر کو مطمئن کرنے کے لیے اسے بہلاتا رہتا ہے۔ اسی لیے ہم سرکاری اور نجی کاروباری عمارتوں کے اندر وسیع و عریض رقبوں پر پھیلی عبادت گاہیں دیکھتے ہیں۔ انھیں بنانے والے اس عمل کو صدقۂ جاریہ سمجھتے ہیں۔ یعنی اس کے بعد ان کاروباری عمارتوں میں وہ کوئی بھی بددیانتی کریں، ان کا ضمیر مطمئن رہے گا کہ صدقۂ جاریہ کے چشمے سے ان کے لیے بخشش کے آبِ زم زم تو پہلے ہی رواں دواں ہو چکے ہیں۔
( گزشتہ سے پیوستہ ) "K” کے صفحے پر خلیل اللہ لابر سابق ایم پی اے جوچولستان میں بھٹک گئے اور پیاس کی وجہ سے جاں…
سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو ان خدشات کا اندازہ تھا اسی لئے کہتے ہیں کہ انہوں نےکسی تقریب یا جلسے میں اس وقت کے صوبائی وزیر بلدیات جام صادق علی کو مخاطب کرتے ہوئے ازراہِ مذاق ہی سہی کہا، ’’مجھے زمینوں کی بندر بانٹ کی بڑی خبریں مل رہی ہیں بس مزار قائد کو بخش دینا۔ ‘‘
یہ صرف ایک فون انڈیکس نہیں، بلکہ میری زندگی کی ایک مکمل تاریخ ہے۔ اس کے ہر صفحے پر ایک چہرہ آباد ہے، ہر نمبر کے پیچھے ایک آواز محفوظ ہے، اور ہر نام کے ساتھ زندگی کا ایک پورا عہد سانس لیتا ہے۔
