ایموجی کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ زبانوں کی دیوار توڑ دیتا ہے۔ ایک پاکستانی، ایک عرب، ایک چینی اور ایک یورپی شخص شاید ایک دوسرے کی زبان نہ سمجھ سکیں، مگر سب سمجھتے ہیں، سب جانتے ہیں، ہر جگہ محبت کی علامت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے بعض ماہرین جدید دور کی عالمی زبان بھی کہتے ہیں۔
Browsing: کالم
جب بھی لاہور ہمیں بلاتا ہم اشرف صاحب سے ضرور ملتے تھے ۔۔گوال منڈی میں محفل سجتی ۔ اشرف جاوید بعد ازاں انجمن ترقی ادب سے منسلک ہو گئے ۔۔ اب تک ان کے چھے شعری مجموعوں سمیت مختلف سیاسی و ادبی موضوعات پر جو کتب شائع ہوئیں ان میں عالمی سیاست کے فرمانروا ، پاکستان میں انتخابات کی تاریخ ، امنِ عالم خدشات و خطرات ، آفتابِ داغ ( داغ دہلوی کے کلام کی تدوین حواشی کے ساتھ شامل ہیں ۔۔
میانوالی کا ’یوسف ثانی‘ تو خطہ پوٹھوہار کا دست کاشتہ پودا ہے۔ عمران خان اور اس کے حامیوں کا بیانیہ تو کسی بوناپارٹ کی شجاعت، کسی ظہیر الاسلام اور فیض حمید کی انگلیوں سے بندھے دھاگوں کا ناٹک ہے۔
ہمارے ہمسائے میں لہٰذا دونوعیت کی ناکہ بندی برقرار ہے۔ خلیج سے آئے تیل اور گیس بردار جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لئے ا یرانی حکومت کی اجازت اور تعاون درکار ہوں گے۔ آبنائے ہرمز سے گزرکر بحرہند میں داخل ہوئے ایرانی جہازوں کو مگر امریکی بحریہ کے دستے چیک کرتے رہیں گے۔ آبنائے ہرمز کی ایران کی جانب سے بندش اور بحرہند میں ایران سے آئے جہازوں کی نقل وحرکت پر کڑی نگاہ کا برقرار رہنا جنگ بندی میں توسیع کے با وجود میرے وہمی دل کو دیرپاامن کی امید دلانے میں ناکام ہورہا ہے۔ گولی چلائے بغیر برقرار رکھی بے یقینی دل ودماغ کو حقیقی جنگ سے کہیں زیادہ ذہنی خلجان میں مبتلا رکھے گی۔
دسمبر 1965ء میں پاکستان کے صدر فیلڈ مارشل ایوب خان امریکہ گئے اور بشیر ساربان کے دوست سے پاک-بھارت جنگ کے دوران امریکہ کی جانب سے برتی سردمہری پر دُکھ اور شکوے کا اظہار کیا۔ بشیر ساربان کا دوست مگر ٹس سے مس نہ ہوا۔ بھارت ہی کو کمیونزم کا اصل دشمن تصور کرتا رہا۔ امریکہ سے لوٹتے ہی لہٰذا صدر ایوب خان کمیونسٹ کیمپ کے قائد سوویت یونین سے رجوع کرنے کو مجبور ہوئے ۔
بقول اداکار عرفان خان’’ جب ہم جیسوں کے دن آتے ہیں موت بیچ میں ٹپک پڑتی ہے‘‘ اظہار عباسی صاحب 17 اپریل 2026 کو راہی ملک عدم ہوئے ۔ملتان کے سب ایڈیٹرز کی توانا آواز ہمیشہ کے لئے خاموش ہو گئی۔
رئیس فروغ نے کیا خوب کہا تھا :
لوگ اچھے ہیں بہت دل میں اتر جاتے ہیں
اک برائی ہے تو بس یہ ہے کہ مر جاتے ہیں۔
مختار ریڈیو سے ٹیلی ویژن پر چلے آئے تھے مگر دل کی پرانی لگن بے طرح لاگو ہو رہی تھی۔ ٹیلی ویژن کے بابو لوگ از قسم ضیا جالندھری، مسعود نبی نور ریڈیائی تکنیک کے استاد مختار صدیقی کا ہنر کیسے سمجھتے۔
کیٹلن ڈورنبوس مگر کوئی عام صحافی نہیں۔ NY Postکی رپورٹر ہونے سے قبل وہ امریکی فوج کے ترجمان رسالے سے وابستہ تھی۔ امریکی فوج کی مدد سے وہ کئی جنگوں کی برسرِ میدان حرب جاکر رپورٹنگ کرتی رہی ہیں۔ پاکستان میں قیام کے دوران موصوفہ نے میرے دو ہنر مند ساتھیوں -طلعت حسین اور فہد حسین- کے ٹی وی پروگراموں میں بھی حصہ لیا۔
انٹرویو میں عارفہ صاحبہ اسلام آباد مذاکرات کی ناکامی کی وجوہات پوچھ رہی تھیں اور میں اصرار کر رہا تھا کہ مذاکرات دوبارہ ہوں گے۔ انکے لئے مجھ پر یقین کرنا مشکل ہو رہا تھا۔ 13 اپریل کو پیر کی شب جیونیوز پر کیپٹل ٹاک میں ایک دفعہ پھر جب اس خاکسار نے بڑے اعتماد سے کہا کہ امریکا اور ایران کے مذاکرات دوبارہ ہونے والے ہیں تو کچھ امریکی صحافیوں نے واشنگٹن میں اپنے ذرائع کو کریدنا شروع کیا۔
مسعود کہتے ہیں کہ تم اپنی ٹویٹ کی پوسٹ شیئر کرنے کے عادی ہو اور ہم ملٹری پوسٹوں پر اپنے لہو سے اپنی تاریخ لکھ رہے ہیں
