Browsing: کالم

پاکستان کے سیاسی نظام میں اپر مڈل کلاس تک کے آدمی کی رسائی صرف اور صرف ووٹر کی حد تک ہے اور اس کے ووٹ کے ساتھ کیا ہوتا ہے ووٹ دیتے وقت بیچارے کو خود یقین ہی نہیں ہوتا کہ جو جس جماعت کو ووٹ دے رہا ہے اس کے ووٹوں کی تعداد کی وجہ سے اگر وہ جیت پاتی بھی ہے یا نہیں یا اس سے جیتنے دیا جاتا بھی ہے یا نہیں کیونکہ پاکستان کے سیاسی نظام میں ایک مذاق کیا جاتا ہے کہ پاکستان میں اہم ووٹ دینے والا نہیں بلکہ ووٹ گننے والا ہے

اگر کسی ایشر سنگھ گریوال نے سرگودھا آنا ہے تو سو دفعہ آئے، ہم اُس کا راستہ روکنے کے بجائے خود اُسے وہاں تک لے جائیں گے جہاں کبھی ملکہ دلفریب رہا کرتی تھی۔ وہ فلم میں وعدہ کرتا ہے کہ ”میں واپس آؤں گا“۔ ہم اِس وعدے کے دوسرے سرے پر بانہیں کھولے کھڑے ہیں اور ہمارے پاس کہنے کو بس ایک ہی جملہ ہے: جی آیاں نوں!

نوحہ گری پر آنسو بہاتے حاضرین کی وڈیو کلپ کو غور سے دیکھا تو ان کو کنکھیوں سے باہم اشارہ بازی کرتے دیکھ کر یوں لگا کہ وہ تو ڈھئی ہوئی عمارت کا ملبہ خریدنے والوں کا مجمع ہے (جن میں ہر فرد خود اپنی بولی کے عوض اپنی مرضی کا ملبہ خریدنے کو تیار ہے

آج آزادی کے ۷۹ برس بعد سب سے اہم سوال یہی ہے کہ کیا ہم نے ان لاکھوں قربانیوں کے اصل مقصد کو حاصل کر لیا ہے، یا اب بھی ہمیں اپنی معاشی پالیسیوں، حکمرانی کے نظام اور قومی ترجیحات پر ازسرِنو غور کرنے کی ضرورت ہے

بلدیاتی حکومتوں کو آئینی روح کے مطابق سیاسی، انتظامی اور مالی اختیار دیا جائے گا۔ گلی کی نالی، پینے کا پانی، کچرا، ٹرانسپورٹ اور بنیادی صحت کا فیصلہ صوبائی یا وفاقی دارالحکومت میں نہیں بلکہ یونین کونسل میں ہو گا۔ جمہوریت صرف وزیراعظم اور وزیراعلیٰ منتخب کرنے کا نام نہیں، جمہوریت اس وقت شروع ہوتی ہے جب شہری اپنے محلے کا جواب دہ نمائندہ منتخب کر سکے۔

ہم نے متحدہ ہندوستان کے آخری دس برس میں جی توڑ کر مقدمہ لڑا، مقدمہ جیت گئے اور تاریخ ہار گئے۔ تاریخ کی اسی شکست کا تزلزل 1973 کے دستور کو روز اول سے مرتعش کیے ہوئے تھا۔ بظاہر ایک جمہوری حکومت دستور کے مطابق اپنی میعاد مکمل کرنے کی طرف بڑھ رہی تھی لیکن کہیں کوئی تھا جسے صدارتی نظام حکومت اور قومی وسائل پر فرمان شاہی کے ذریعے قدرت مطلق کی آرزو مچلتی تھی۔

’’صوبوں کی حدود‘‘ طے کرنے کے لئے متعلقہ صوبے کی اسمبلی سے بھی دو تہائی اکثریت کی منظوری درکار ہے۔ سندھ کو تقسیم کرنے کے لئے وہاں کی صوبائی اسمبلی سے دو تہائی اکثریت کی حمایت لازمی ہے اور اس کا حصول ناممکن نظر آرہا ہے۔ محض ’’نئے انتظامی یونٹوں‘‘ کے قیام کے لئے عوم سے بذریعہ ریفرنڈم حاصل کردہ ’’ہاں‘‘ اس تناظر میں کام نہیں آئے گی۔

اللہ نے چونکہ حسن بہت دیا ہے اِس لیے آٹھ بج کر چھ منٹ پر اپنی نظر بھی اتارتا ہوں، اور سب سے بڑا ہنر جو میرے پاس ہے اور جس پر آج تک میں نے غرور نہیں کیا وہ یہ کہ میں تیس سیکنڈ سے بھی کم وقت میں اپنے جوتوں کے تسمے بند کر سکتا ہوں۔
یہ تکنیک مجھے روانڈا کے ایک قصبے مائی پھیرو کی ایک لڑکی نے سکھائی تھی،

حکومت کے تصور میں ہی نہیں تھا کہ کوئی نسل ایسی بھی نمودار ہو سکتی ہے جو پولیس سے خود پوچھے انکل اگلا لاٹھی چارج کب کرو گے ، انکل آنسو گیس کا ایک گولا اور چلاؤ نا۔ انکل مزہ نہیں آ رہا دو چار لاٹھیاں اور مارو۔

مضبوط ریاست کے لیے مؤثر حکمرانی ناگزیر ہے۔ مگر اب عوام صرف اعترافات نہیں سننا چاہتے۔ وہ نتائج دیکھنا چاہتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ عدالت میں انصاف جلد ملے، سرکاری ہسپتال میں علاج عزت کے ساتھ ہو، نوجوان کو روزگار سفارش کے بغیر ملے، پولیس عوام کی محافظ بنے اور سرکاری ادارے عوام کے خادم دکھائی دیں، حاکم نہیں۔