Browsing: کالم

مقبول بٹ چاہتے تو بھارتی حکومت سے سمجھوتہ کرکے اپنی جان بچا سکتے تھے۔ وہ چاہتے تو آزادکشمیر کے صدر یا وزیراعظم بھی بن سکتے تھے لیکن انہوں نے حکومتی عہدوں کی بجائے ہمیشہ کشمیر کی آزادی کو مقدم رکھا۔ اس جرم میں بھارتی حکومت سے مارکھائی اورپاکستان سے بھی مار کھائی۔

ماضی کے کئی صاحبان اقتدار کی گردن میں سریےپڑے اور پھر جب وہ روبہ زوال ہوئے تو نہ ان کی عزت رہی اور نہ مقام۔ موجودہ حکومت کو خبردار ہوشیار اور تیار کرنے کا مطلب اسے متنبہ کرنا ہے۔ اس سے درخواست کرنا ہے کہ اپنے زوال کو روک لے خود کو تبدیل کرے وگرنہ تقدیر کا پہیہ گھومے گا اور پھر’’ لاد چلے گا بنجارہ‘‘

حکمران اشرافیہ خوش ہے کہ تمام تر اختلافات کے باوجود ان کے مابین ریاست کے مائیکرو ڈھانچے کو برقرار رکھنے کا فارمولا طے ہوگیا ہے ۔ خلق خدا کا مگر کیا ہوگا جس کی اکثریت خطِ غربت سے نیچے گرنے کے خوف سے کاملاََ مایوس و مفلوج محسوس کرنا شروع ہوگئی ہے ۔

اصل مسئلہ فورسز کی تعداد نہیں بلکہ ان کے مقاصد اور کارکردگی ہیں۔ عوام کو تحفظ، انصاف اور سہولت چاہیے۔ اگر کسی ادارے کی تشکیل واقعی عوامی مسائل حل کرنے کے لیے ہو تو یقیناً قابلِ ستائش ہے، لیکن جب عام آدمی کو ہر طرف وردی ہی وردی نظر آنے لگے تو اس کے ذہن میں سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ کہیں اگلا نمبر ہمارا تو نہیں؟

کشمیری عوام اور پاکستانی حکمران آپس میں الجھیں گے تو فائدہ بھارت اٹھائیگا۔ آج جس عوامی ایکشن کمیٹی کو بھارتی ایجنٹ کہا جا رہا ہے صرف آٹھ ماہ قبل ان بھارتی ایجنٹوں کے ساتھ معاہدے پر دستخط کرنیوالوں کے بارے میں ہم کیا کہیں ؟کل کو آپ اسی ایکشن کمیٹی کیساتھ پھر مذاکرات کرینگے جسے دہشت گرد قرار دیا گیا۔

ان قواعد و ضوابط میں یہ بھی شامل ہے کہ جو بھی تقاریر ہوں گی فی البدیہہ اور رٹی رٹائی ہوں گی۔ کوئی نیا یا تازہ نعرہ ایجاد نہیں ہو گا اور تمام وعدے تحریری منشور کی شکل میں نہیں بلکہ زبانی کلامی ہوں گے تاکہ ان کا کوئی دستاویزی ریکارڈ نہ ہو ورنہ اگلے الیکشن میں پھر کیا بیچیں گے؟

صاحبان ذی وقار کہتے ہیں کہ 2010 میں طے پانے والا قومی مالیاتی ایوارڈ نظرثانی کا محتاج ہے۔ یہ مالیاتی ایوارڈ اٹھارہویں آئینی ترمیم سے بندھا ہے جس میں ریاست نے 1973 میں کیا گیا صوبائی خود مختاری کا وعدہ 37 برس کی تاخیر سے پورا کیا تھا۔ ساتویں قومی فنانس ایوارڈ میں وفاق کا حصہ 43 فیصد اور صوبوں کا حصہ 57 فیصد کر دیا گیا۔

اگلی بار موبائل میں جب کوئی نام سیو کرنا تو ‘اللہ دتہ منجی والا’ یا ‘ خیر الدین بوٹ پالش’ ٹائپ کا مردانہ نام مت لکھنا ۔ کیونکہ بار بار کے تجربات سے بھابھی اب اتنی بھولی نہیں رہیں۔ اس لئے اب کی بار کسی نسوانی نام مثلاً شیداں تندور والی ۔ماسی خیراں دم بلکہ اک دم والی۔