ایک زمانہ تھا کہ جنگیں سرحدوں پر لڑی جاتی تھیں، توپیں گرجتی تھیں، ٹینک آگے بڑھتے تھے اور سپاہی مورچوں میں ڈٹے رہتے تھے۔ آج کے دور میں عام آدمی بھی ایک سپاہی ہے، فرق صرف اتنا ہے کہ اس کے پاس نہ بندوق ہے، نہ ڈھال، نہ ہی کوئی مورچہ۔ اس کی جنگ گھر کی چار دیواری کے اندر، دفتر جاتے ہوئے، بازار میں خریداری کرتے ہوئے اور مہینے کے آخر میں بلوں کی فائل کھولتے ہوئے لڑی جاتی ہے۔ یہ ایسی جنگ ہے جس کا نہ کوئی اعلان ہوتا ہے اور نہ ہی جنگ بندی۔
مہینے کی پہلی تاریخ آتے ہی بجلی کا بل کسی ایٹم بم کی طرح گھر پر گرتا ہے۔ پہلے لفافہ دیکھ کر خوشی ہوتی تھی کہ شاید کوئی دعوت نامہ ہو، اب لفافہ دیکھتے ہی چہرے کا رنگ اڑ جاتا ہے۔ بل کھولنے سے پہلے دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے، جیسے ڈاکٹر کسی مریض کو آپریشن کی رپورٹ سنانے والا ہو۔ یونٹ کتنے خرچ ہوئے، اصل رقم کتنی ہے اور ٹیکس کتنے ہیں، یہ ایک ایسا ریاضی کا سوال بن چکا ہے جسے بڑے بڑے ماہرین بھی سمجھانے سے گھبراتے ہیں۔
ابھی بجلی کے بل کا دھماکہ ختم نہیں ہوتا کہ گیس کا بل میزائل بن کر آن گرتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کئی گھروں میں گیس آتی کم ہے اور بل زیادہ آتا ہے۔ چولہے پر پانی گرم ہونے سے پہلے صارف کا خون ضرور گرم ہو جاتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ گیس نہیں، امید کا کنکشن چل رہا ہے، مگر بل پوری رفتار سے دوڑتا رہتا ہے۔
اگر کسی طرح بجلی اور گیس کے حملوں سے جان بچ جائے تو واسا کا بل ڈرون حملے کی طرح خاموشی سے گھر میں داخل ہو جاتا ہے۔ پانی کبھی وقت پر آئے یا نہ آئے، نکاسی آب کا نظام کام کرے یا نہ کرے، مگر بل اپنی ذمہ داری پوری دیانت داری سے ادا کرتا ہے۔ بعض علاقوں میں لوگ پانی ٹینکروں سے خریدتے ہیں، مگر واسا کا بل انہیں یہ احساس ضرور دلاتا رہتا ہے کہ سرکاری محبت ابھی زندہ ہے۔
لیکن ان سب کے مقابلے میں سب سے خطرناک ہتھیار ٹریفک چالان ہے۔ بجلی، گیس اور واسا کے بل تو مہینے میں ایک بار آتے ہیں، مگر ٹریفک چالان کسی خودکش بمبار کی طرح ہے، جو نہ وقت دیکھتا ہے، نہ مقام۔ جہاں چاہا، وہیں پھٹ پڑا۔ کبھی ہیلمٹ کا مسئلہ، کبھی لائن کراس کرنے کا، کبھی پارکنگ، کبھی کسی اور ضابطے کی خلاف ورزی۔ ایک لمحے میں جیب ہلکی اور موڈ خراب ہو جاتا ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے سڑک پر گاڑی نہیں بلکہ امتحان دے رہے ہوں، اور ہر موڑ پر کوئی نیا ممتحن کھڑا ہو۔
ادھر پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بھی کسی تربیت یافتہ شوٹر کی مانند عوام کو تاک تاک کر نشانہ بنا رہی ہیں۔ تنخواہ میں اضافہ سالوں بعد ہوتا ہے، مگر ایندھن کی قیمتیں چند دن بعد ہی نئی منزلیں طے کر لیتی ہیں۔ پٹرول مہنگا ہوتا ہے تو موٹر سائیکل بھی سوچنے لگتی ہے کہ آج واقعی باہر نکلنا ضروری ہے یا نہیں۔ لوگ اب سفر سے پہلے راستہ نہیں، بلکہ جیب کا وزن دیکھتے ہیں۔
بازار جائیں تو ایک اور محاذ کھل جاتا ہے۔ آٹے کی قیمت الگ پریشان کرتی ہے، گھی اپنی کہانی سناتا ہے، چینی اپنی مٹھاس بھول چکی ہے اور ایل پی جی کا سلنڈر دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے سونے کا کوئی نایاب خزانہ خریدنے جا رہے ہوں۔ سبزی فروش سے قیمت پوچھیں تو دل چاہتا ہے سبزی کی جگہ صرف دھنیا لے کر واپس آ جائیں۔ پھل اب وٹامن سے زیادہ اسٹیٹس سمبل بنتے جا رہے ہیں۔
اس پوری صورتحال میں عوام کی حالت اس طالب علم جیسی ہو گئی ہے جس کا ہر مضمون میں الگ الگ امتحان ہو، مگر پاس ہونے کی کوئی امید نہ ہو۔ صبح موبائل پر بینک بیلنس دیکھ کر پریشانی، دوپہر کو بازار جا کر مہنگائی کا صدمہ اور شام کو کوئی نیا بل یا چالان سامنے آ جائے تو دن مکمل ہو جاتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ عام آدمی کی زندگی کا مستقل نعرہ یہی رہ گیا ہے: "آج پھر کون سا حملہ ہونا باقی ہے؟”
مزاحیہ بات یہ ہے کہ ہر نئی مشکل کے ساتھ عوام کو صبر، برداشت اور قربانی کا سبق بھی یاد دلایا جاتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے صبر ہی واحد قدرتی وسیلہ رہ گیا ہے جس پر ابھی تک کوئی ٹیکس نہیں لگا۔ لوگ مذاق میں کہتے ہیں کہ اگر سانس لینے پر بھی بل آنا شروع ہو گیا تو شاید اس کی قسطیں بھی بن جائیں گی۔
حقیقت یہ ہے کہ قومیں صرف نعروں سے نہیں بلکہ اپنے شہریوں کو سہولتیں دے کر مضبوط بنتی ہیں۔ جب بنیادی ضروریات ہی روزانہ ایک نئی آزمائش بن جائیں تو عوام کی توانائی مسائل سے لڑنے میں ختم ہو جاتی ہے۔ ایک خوشحال معاشرے کی پہچان یہ نہیں کہ اس کے پاس کتنے قوانین ہیں، بلکہ یہ ہے کہ اس کے شہری کتنے اطمینان سے زندگی گزار رہے ہیں۔
عوام آج واقعی ایک ایسی جنگ لڑ رہی ہے جس میں دشمن کا چہرہ ہر روز بدل جاتا ہے۔ کبھی بجلی کا بل، کبھی گیس، کبھی واسا، کبھی ٹریفک چالان، کبھی پٹرول اور کبھی مہنگائی کا نیا حملہ۔ یہ جنگ شاید توپوں اور گولیوں والی جنگ سے زیادہ مشکل ہے، کیونکہ اس میں زخمی جسم نہیں بلکہ امیدیں ہوتی ہیں۔ عام آدمی پھر بھی ہر صبح اٹھتا ہے، کام پر جاتا ہے، بچوں کے لیے رزق کماتا ہے اور اگلے حملے کا انتظار بھی کرتا ہے۔ شاید اسی حوصلے کا نام زندگی ہے، اور اسی امید پر یہ جنگ اب تک جاری ہے۔
فیس بک کمینٹ

