Browsing: کالم

آج کل کا شہزادہ چائے ختم ہوتے ہی شاہانہ انداز میں آئی فون نکالے گا۔ سکرین پر انگلیاں نچاتے ہوئے کہےگا۔کیش نہیں ہے بھائی، QR کوڈ دکھاؤ۔جیسے ہی چائے والا کوڈ آگے کرے گا۔یہ سوانگ رچاتے ہوئے صدمے سے کہے گا۔اوہ شٹ یار! جاز کیش ہینگ ہو گیا ہے۔ تم نمبر لکھو میں ، گھر جا کر پیسے بھیجتا ہوں۔ لیکن وہ پیسے قیامت تک نہیں آتے۔

فروری 2024ء کے انتخابی عمل پر سوالات اٹھانا شروع ہوگئی ہے۔ اس برس ہوئے انتخاب پر سوالات اٹھاتے ہوئے پیپلز پارٹی بھول گئی کہ مذکورہ انتخابات کے نتائج تسلیم کرنے کی بدولت ہی وہ آصف علی زرداری صاحب کو دوبارہ صدر مملکت بنواکر تاریخ بنانے کے قابل ہوئی ہے۔ پنجاب اور سندھ کے گورنر بھی اس کے حصہ میں آئے اور سابق وزیر عظم یوسف رضا گیلانی سینٹ کے چیئرمین منتخب ہوئے۔

1953 میں متحدہ پاکستان کے عظیم سیاسی رہنما حسین شہید سہروردی پر گوجرانوالہ ریلوے سٹیشن پر پتھر برسائے گئے۔ 1965 کے صدارتی انتخاب کے دوران اس شہر میں ایک کتیا کے گلے میں فاطمہ جناح کا انتخابی نشان لالٹین لٹکا کر جلوس نکالا گیا ۔ جلوس کی قیادت امیر کالاباغ کا ایک دست کاشتہ لاڈلا کر رہا تھا ۔

فیڈرل اردو یونیورسٹی کا کیس ہمارے سامنے ہے ۔ ایسے میں طلبہ کیا70 ستر سال کے اُستاد اور ٹیچر بھی کاکروچ تحریک چلاتے ہیں البتہ وہ ہمارے میڈیا کی توجہ کا مرکز نہیں بن پاتے کیونکہ اس میں وہ ’کلر‘ نظر نہیں آتا۔طلبہ غلط ہو سکتے ہیں، جذباتی بھی ہوسکتے ہیں مگر’غدار‘ نہیں ہو سکتے۔ ’کاکروچ‘ تحریک سے سبق سیکھیں بیماری کا علاج دوا سے ہوتا ہے لاٹھی یا آنسو گیس سے نہیں۔

یہ درست ہے کہ پاکستانی حکمرانوں نے کشمیریوں کا معاشی استحصال بھی کیا، مگر پاکستانی عوام نے اسے شاید اسی طرح برداشت کیا جیسے انہوں نے اپنے ساتھ ہونے والا استحصال برداشت کیا۔
فرق صرف اتنا ہے کہ آج سوشل میڈیا کا زمانہ ہے۔

ان کے ہاں وطن عزیز کو مثبت راہوں پر چلانے کا کوئی واضح ایجنڈا اور حکمت عملی موجود نہیں ہے۔ غالباََ اسی باعث ہمارے ہاں نوجوانوں میں ’’غیر معمولی حد تک مقبول‘‘ تصور ہوتی تحریک انصاف اپنے اہداف کے حصول میں مسلسل ناکام ہورہی ہے۔

ڈاکٹر صاحبزادہ جواد الفیضی کی یہ کاوش بلاشبہ ایک ایسا ادبی شاہکار ثابت ہو گی جو قارئین کے ذوق مطالعہ کی تسکین کے ساتھ ساتھ مستقبل کے مسافروں اور قلم کاروں کے لیے بھی تخلیقی رہنمائی کا ایک مستقل سرچشمہ بنی رہے گی۔