1980ء میں جب ہم خونی برج ملتان سے چاہ بوہڑ والہ منتقل ہوئے تو چاہ بوہڑ والہ کی قریبی کالونی جلیل آباد تھی۔ یعنی چاہ بوہڑ والہ کی ایک سڑک کی نکڑ پر رئیس شبیر احمد (مسجد بھونگ والے) کا عالی شان بنگلہ اس کے بعد رانا تاج احمد نون کا گھر۔پھر شہوار ماڈل سکول اور ایک مقتول زمیندار ملک امیر بخش کھوکھر کی رہائش تھی۔ سکول کے سامنے جسٹس فخرالنساءکھوکھر کا گھر اور کچھ خالی پلاٹ ہوا کرتے تھے۔ چاہ بوہڑ والہ کے علاقے میں اس وقت میڈم شہوار کے سکول کا بہت شہرہ تھا اسی لیے ہمارے گھر کے تمام سکول جانے والے بچوں کو اُسی سکول میں داخل کرایا گیا۔ گھر کے بچوں کی وجہ سے اکثر شہوار سکول جانے کا موقعہ ملتا رہتا۔ ایک مرتبہ جب کسی کام سے سکول گیا تو دیکھا میڈم شہوار اپنے سکول کی پہلی منزل پر تعمیرات کا کام کروا رہی ہیں۔ تقریباً ایک ماہ بعد دوبارہ سکول جانا ہوا تو معلوم ہوا، سکول کی تعمیر کا کام رکا ہوا ہے۔ مَیں نے میڈم شہوار سے دریافت کیا آج کل تعمیر کیوں روکی ہوئی ہے؟
بڑے غصے سے کہنے لگیں میرے ہمسائے میں ملک کے نامور سیاستدان رانا تاج احمد نون رہتے ہیں۔ انہوں نے یہ کہہ کر سٹے لے لیا ہے کہ سکول کی پہلی منزل بننے سے میرے گھر میں ہوا اور روشنی کا گزر کم ہو جائے گا وغیرہ وغیرہ۔
پھر وہ کہنے لگیں مَیں نے رانا صاحب سے یہ بھی عرض کیا ہے کہ ﷲ تعالیٰ نے آپ کو اولاد کی نعمت سے سرفراز نہیں کیا ہے سکول کی پہلی منزل بننے سے آپ کے گھر میں صبح سے لے کر دوپہر تک پڑھنے والے بچوں کی آوازیں آتی رہیں گی۔ آپ کو تو میری حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔ مَیں نے جب یہ پورا واقعہ سنا تو اس اختلاف کو ختم کرانے رانا تاج احمد نون کے گھر چلا گیا۔ اپنا تعارف کرایا تو کہنے لگے شاکر صاحب آپ کے کالم پڑھتا رہتا ہوں بڑا لطف آتا ہے۔ آپ میرے ہمسائے میں رہتے ہیں کبھی کبھار وقت نکال کر آ جایا کریں۔ مَیں نے ان کی محبت کا شکریہ ادا کیا۔ سکول کا مسئلہ ڈسکس کیا اور انہوں نے کمال مہربانی سے نہ صرف تعمیر کی اجازت دے دی بلکہ انہوں نے کہا اگر تعمیر سے پہلے محترمہ شہوار صاحبہ مجھے اعتماد میں لے لیتیں تو مَیں اتنا آگے تک نہ جاتا۔
اس کے بعد رانا تاج احمد نون گاہے گاہے فون کر کے یاد کراتے کہ مَیں آپ کے علاقے میں رہتا ہوں۔
وہ ایک ایسے سیاسی و عوامی رہنما تھے۔جنہوں نے جنوبی پنجاب، خصوصاً شجاع آباد، کی سیاست کا ایک باوقار انداز سے عوام کے لیے کام کیا۔
وہ پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی کارکنوں اور سابق وزیراعظم و بانی پیپلز پارٹی ذوالفقار علی بھٹو کے قریبی ساتھیوں میں شمار ہوتے تھے۔ اپنی سادگی، دیانت داری، عوامی خدمت اور اصولی سیاست کی وجہ سے انہیں علاقے میں بے حد عزت و احترام حاصل تھا۔رانا تاج احمد نون شجاع آباد کے نواحی علاقے بستی مٹھو میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم کے بعد انہوں نے زمینداری کے ساتھ ساتھ عوامی خدمت کا آغاز کیا۔ 1950ء میں وہ مارکیٹ کمیٹی شجاع آباد کے صدر منتخب ہوئے، جبکہ بعد ازاں کونسلر منتخب ہوئے۔ 1964ء کے صدارتی انتخابات میں انہوں نے مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کی حمایت کی، اور بعد میں پاکستان پیپلز پارٹی میں شامل ہو کر اپنی سیاسی زندگی عوامی خدمت کے لیے وقف کر دی۔
وہ تین مرتبہ رکنِ قومی اسمبلی منتخب ہوئے اور قومی اسمبلی میں شجاع آباد کے عوام کی بھرپور نمائندگی کی۔ ان کے دور میں شجاع آباد تا جلالپور پیر والا روڈ کی تعمیرِ نو، ٹی وی بوسٹر کی تنصیب، ٹیلی فون ایکسچینج کی منظوری اور دیگر متعدد ترقیاتی منصوبے مکمل ہوئے جن سے علاقے کی ترقی میں اہم کردار ادا ہوا۔
رانا تاج احمد نون مرحوم نے ساری زندگی جمہوریت، اصول پسندی اور عوامی خدمت کو مقدم رکھا۔ سیاسی اختلافات کے باوجود وہ شائستگی، برداشت اور اخلاص کی مثال سمجھے جاتے تھے۔ ان کی وفات ستمبر 2017ء میں 103 برس کی عمر میں ہوئی۔

مشرف کے زمانے میں جب ضلعی حکومتوں کا نیا نظام متعارف کرایا گیا تو ملتان کے پہلے ضلع ناظم شاہ محمود قریشی منتخب ہوئے جبکہ ضلع نائب ناظم ملک محمد عامر ڈوگر اور تحصیل ناظمین احمد مجتبیٰ گیلانی، رانا سہیل نون شامل تھے۔ ابھی شاہ محمود قریشی کو ضلع ناظم بنے کچھ عرصہ ہی ہوا تھا کہ محترمہ بینظیر بھٹو نے پی پی سے تعلق رکھنے والے تمام ضلعی ناظمین سے مستعفی ہونے کو کہا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ جنرل پرویز مشرف صدارتی ریفرنڈم میں تمام ناظمین کی حمایت چاہتے تھے۔ جس کے بعد شاہ محمود قریشی اپنی پارٹی پالیسی کے تحت ضلعی نظامت سے مستعفی ہوئے۔ اس دوران عوام دوست گروپ ملتان کے مرکزی رہنما پیر ریاض حسین قریشی نے ضلع ناظم کے طور پر خود کو پیش کر دیا۔ حالانکہ ان کا بیٹا معین الدین ریاض قریشی پی پی کے ٹکٹ پر ایم پی اے منتخب ہو چکا تھا۔ پنجاب میں چوہدری پرویز الٰہی وزیر اعلیٰ تھے اور وہ کسی بھی صورت نہیں چاہتے تھے کہ ملتان کے ضلع ناظم کا تعلق پی پی سے ہو۔ دوسری جانب پیر ریاض حسین قریشی کے چھوٹے بھائی بریگیڈیئر مقصود قریشی نے اپنے فوج میں تعلقات کے ذریعے بڑے بھائی کے لیے راہ ہموار کی۔ ان دنوں پنجاب کے چیف سیکرٹری بھی ریاض حسین قریشی کے کلاس فیلو اور دوست تھے۔ انہوں نے چوہدری پرویز الٰہی کو اس بات پر آمادہ کیا کہ نہ صرف پیر ریاض حسین قریشی ق لیگ میں شامل ہو جائیں گے بلکہ ان کا ایم پی اے بیٹا بھی پی پی کو خیرباد کہہ دے گا۔
قصہ مختصر ریاض حسین قریشی جب ملتان کی نظامت کے لیے سرکار کی طرف سے اُمیدوار نامزد ہوئے تو پوری انتخابی مہم کا مَیں عینی شاہد تھا۔ صبح اگر ہم بستی بوسن ہوتے تو شام کو کھاد فیکٹری میں جلسہ کر رہے تھے۔ شجاع آباد میں جب پیر ریاض حسین قریشی جلسہ کرنے گئے تو وہاں پر رانا تاج احمد نون ان کے میزبان تھے۔ رانا قاسم نون، رانا سہیل نون، اعجاز نون اور شوکت نون سب ہی اس جلسے میں موجود تھے۔ جلسہ کے بعد رانا تاج احمد نون اپنے گھر مٹوٹلی لے گئے۔ دو قسم کے عشائیے کا اہتمام تھا۔ ایک کھانا عوام الناس کے لیے جبکہ دوسرا کھانا ’’خواص‘‘ کے لیے تھا۔خواص کا مطلب سمجھانے کے لیے کسی تشریح کی ضرورت نہیں۔ پیر ریاض حسین قریشی بار بار رانا تاج احمد نون کا شکریہ ادا کر رہے تھے کہ انہوں نے شجاع آباد میں انتخابی مہم کا سب سے بڑا جلسہ کیا۔
رانا تاج احمد نون شجاع آباد کی سیاست کے بے تاج بادشاہ تھے۔ ان کے بارے میں یہ کہنا زیادہ بہتر ہو گا کہ وہ اپنے علاقے کے بادشاہ گر تھے۔ اگر کسی کو شجاع آباد میں کامیابی حاصل کرنا ہوتی وہ رانا تاج نون کی ا شیرباد لازمی حاصل کرتا۔شہید ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بینظیر بھٹو کا بے حد احترام کرتے تھے۔ انہوں نے کبھی بھی ایم این اے منتخب ہونے کے بعد وزارت کی فرمائش نہیں کی بلکہ یہ کہتے تھے کہ پی پی کا مجھ پر احسان ہے کہ اس کے پلیٹ فارم سے مَیں ایم این اے منتخب ہو جاتا ہوں۔ زندگی کے آخری چند سال وہ پیرانہ سالی کی وجہ سے سیاست میں اتنے سرگرم نہ رہے۔ لیکن اس کے باوجود وہ نون خاندان کی کامیابی کے لیے ہر وقت کوشاں رہتے۔
بھرپور سیاسی زندگی گزارنے کے بعد رانا تاج احمد نون 9 ستمبر 2017ء کی صبح ملتان میں انتقال کر گئے۔ ان کو آبائی گاؤں میں جب سپردِ خاک کیا گیا تو ہزاروں لوگ ان کی معنوی اولاد بن کر نم آنکھوں سے انہیں رخصت کر رہے تھے کہ شجاع آباد کی سیاست کا تاج اب منوں مٹی کے تلے جا سویا ۔ رانا تاج احمد نون کی شخصیت کی سب سے اہم خوبی یہ تھی کہ وہ کرپشن کیے بغیر دنیا سے چلے گئے۔ ایسے بے داغ اور اُجلے سیاست دان اب ہمارے بچوں کے نصیب میں کہاں ہیں؟

