Browsing: کالم

آئیے اس محرم الحرام میں یہ عہد کریں کہ ہم ہر قسم کے ظلم و جبر کے خلاف مزاحمت کریں گے، مزاحمت کرنے والوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کریں گے، اور ظلم کرنے والوں کو پہچان کر ان کی مذمت کریں گے، خواہ انہوں نے اپنے بدنما چہروں پر حسینیت کا نقاب ہی کیوں نہ اوڑھ رکھا ہو۔

اس زمانے کے ککڑ برائلر کی طرح سست الوجود اور ساکت نہیں ہوتے تھے، وہ کبھی چھت پر چڑھ جاتے کبھی بستروں کے اوپر جاکر بیٹھ جاتے ،بڑی تگ ودو کے بعد ’’چوچا‘‘ گرفتار ہوتا تو ذبح کرنیوالے کی تلاش ہوتی یہ دیسی چوچے بڑی مشکل سے قابو آتے تھے انہیں پھڑ پھڑاتے اور زور لگاتے ہوئے پکڑ کر چھری پھیرنی پڑتی تھی

وہ بدحواس ہو چکا ہے۔ اُسے یقین نہیں آ رہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ ایران کےساتھ امن معاہدےپر راضی ہو چکا ہے۔ وہ بار بار اپنے قریبی ساتھیوں سے پوچھ رہا ہے کہ اس امن معاہدے پر عملدرآمد کو کیسے روکا جائے لیکن اُس کے ساتھیوں کے پاس بھی کوئی جواب نہیں ۔

اسلام آباد پنڈی میں قوی آس ہے کہ پاکستان کو اس کارخیر کا پھل اقتصادی منصوبوں میں بیرونی سرمایہ کاری کی شکل میں ملے گا۔ پاک ایران گیس پائپ لائن کی تکمیل سے ملک میں توانائی کے بحران کی شدت میں کسی حد تک کمی ہو سکے گی۔ افغانستان نہ بھی قابو میں آیا تب بھی براستہ ایران وسطی ایشیائی ممالک سے تجارت بڑھانے کے امکانات روشن ہیں۔

جناب عالیٰ سعودی عرب پہنچنے کے فوراََبعد آپ نے عرب امریکہ سربراہی کانفرنس میں جوبصیرت افروز اورتاریخی خطاب کیااس نے بھی ہم مسلمانوں کے دل موہ لئے ہیں۔اسلامی دنیا جس دہشت گردی کاشکار ہے اس پرآپ کادل جس طرح خون کے آنسورورہاہے اس کاکبھی ہم نے تصور بھی نہیں کیاتھا۔آپ نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بارے میں دوٹوک بات کی، کسی لگی لپٹی اورمنافقت کے بغیر،اس خطاب کے دوران آپ کانورانی چہرہ آپ کی سچائی کی گواہی دے رہاتھا۔یقین جانئے ہم خود بھی اس دہشت گردی سے تنگ ہیں اور اسی لئے اس کانفرنس میں ہمارے وزیراعظم نوازشریف بھی شریک ہوئے۔ اگرچہ وہ ایک روز قبل ہی چین کے دورے سے واپس آئے تھے اورابھی ان کی تھکاوٹ بھی نہیں اتری تھی کہ انہیں سعودی عرب جاناپڑگیا۔نوازشریف تو تمام راستے اپنی تقریرتیارکرتے رہے اوروہ امت مسلمہ کے مسائل آپ کے سامنے بیان کرنابھی چاہتے تھے لیکن آپ نے اچھاکیا کہ انہیں تقریر کاموقع نہیں دیا۔آپ سفرکی صعوبتوں کوبخوبی جانتے ہیں آپ کو معلوم تھاکہ ہمارے وزیراعظم کتناطویل سفرکرکے آپ کے پاس پہنچے تھے اورآپ کویہ بھی معلوم تھاکہ وہ تھکاوٹ کی وجہ سے ٹھیک طرح سے تقریربھی نہ کرسکیں گے لہذاآپ نے بہت اچھاکیاکہ انہیں تقریرکی زحمت ہی نہیں دی۔اس سے اندازہ ہوتاہے کہ حضور والا اپنی رعایاکاکس قدر خیال رکھتے ہیں۔اب اگربعض اسلام دشمن عناصر یہ تاثردیں کہ ہمارے وزیراعظم کواس کانفرنس میں خطاب کاموقع ہی نہیں دیاگیاتویہ بھی سراسرزیادتی ہے۔آپ نے دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑنے کیلئے ہمارے ہمسایہ ملک ایران کوبھی نشانہ بنایااوراس پرالزام عائد کیاکہ وہ فرقہ واریت اورانتہاپسندی کوفروغ دے رہاہے۔اگرچہ آپ کی اس رائے سے بہت سے لوگوں کو اتفا ق نہیں لیکن پھربھی ہم آپ کی تائید کرتے ہیں۔یقیناََانتہاپسندی کے فروغ میں سعودی عرب کاکوئی کردار نہیں اورآپ کی تقریرکے بعدتوہمیں شبہ ہوتاہے کہ اسامہ بن لادن کاتعلق بھی شاید ایران سے تھا۔

اپریل 2022ء سے قائم حکومتی بندوبست کو مگر پیر ہی کی شام فیصل واوڈا صاحب نے ناکام ونکما ثابت کرنے کے لئے جارحانہ بیٹنگ کرتے ہوئے کشتوں کے پشتے لگادئے۔ ہمارے حکمرانوں کی خودستائشی کا سحر 24گھنٹے تک بھی برقرار نہ رہ پایا۔مکمل کالم کا لنک پہلے کمینٹ میں موجود ہے

ممکنہ ہنگاموں کے خوف سے ہزاروں کیمروں کی تنصیب سے ’سیف‘ بنائے اسلام آباد کی مرکزی شاہراہوں پر لگائے پولیس ناکے شہریوں کو تسلی دینے کے بجائے مزید خوفزدہ بنادیتے ہیں۔ سرکار مائی باپ کو مگر اس حقیقت کا ہرگز ادراک نہیں ہے۔