دو ہزار چھبیس کی گلوبل پاور انڈیکس کے مطابق میثاقِ مکہ میں شامل تینوں ممالک کی مشترکہ فوج لگ بھگ چودہ لاکھ ہے۔ ان کے پاس مجموعی طور پر تین ہزار چار سو طیارے ، چھ ہزار ٹینک اور تین سو چالیس بحری اثاثے ہیں۔ ترکی کا دفاعی بجٹ اکیاون اعشاریہ چار بلین ڈالر ہے اور وہ ناٹو اتحاد میں امریکا کے بعد سب سے بڑی فوج رکھتا ہے۔ سعودی دفاعی بجٹ چونسٹھ ارب ڈالر اور پاکستان کا دفاعی بجٹ نو اعشاریہ ایک بلین ڈالر ہے۔
Browsing: کالم
محترمہ بے نظیر بھٹو عملی اعتبار سے مارچ 1990ء ہی میں فارغ ہوگئی تھیں۔ اس کا رسمی اعلان اگرچہ اگست 1990ء میں ہوا۔ اس جانب توجہ دلاتے ہوئے یہ خاکسار محض یہ جاننا چاہ رہا تھا کہ شہباز شریف صاحب کا ’’مارچ 1990‘‘ ہوچکا ہے یا نہیں۔
زندگی واقعی خوبصورت ہے، بس اسے خوبصورت بنانے کے لیے انسان کو کچھ غیر ضروری خوف، کچھ جھوٹی سماجی دیواریں اور کچھ طاقتور لوگوں کے بنائے ہوئے مفروضے توڑنے پڑتے ہیں۔
مرکز سے صوبے، صوبے سے ضلع، ضلع سے تحصیل، اور تحصیل سے یونین کونسل تک اختیار کی منتقلی ہی حقیقی معنوں میں عوامی حکمرانی کی بنیاد بن سکتی ہے۔
اہم سوال یہی ہے کہ کیا ہم نے ان لاکھوں قربانیوں کے اصل مقصد کو حاصل کر لیا ہے، یا اب بھی ہمیں اپنی معاشی پالیسیوں، حکمرانی کے نظام اور قومی ترجیحات پر ازسرِنو غور کرنے کی ضرورت ہے؟ اس سوال کا جواب مایوسی میں نہیں بلکہ حقیقت پسندانہ احتساب، بہتر پالیسی سازی، قومی وسائل کے دانشمندانہ استعمال اور قانون کی یکساں عملداری میں پوشیدہ ہے۔
اسلام آ باد کے ہر سیکٹر میں تقریباََ روزانہ کی بنیاد پر نیٹ میٹر کے گرد لپٹی تاریں کاٹی جارہی ہیں۔ میں شرمسار ہوں کہ برسوں سے اخبارات کا پلندہ نہایت توجہ سے ختم کرنے کے باوجود مجھے ’’جرم‘‘ کی اس قسم کا کبھی علم نہیں ہوا۔
اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ کتابیں بڑی بڑی اے آئی کمپنیاں خرید رہی ہیں۔ انہیں ہائی اسپیڈ سکینرز سے کاپی کر رہی ہے اور پھر ہائیڈرولک کٹرز سے کاٹ کے گودا بنا رہی ہیں۔ آخر ایسا کیوں ہے کہ یہ کمپنیاں کتابوں کو کاپی کرنے کے بعد ہارڈ کاپی محفوظ کرنے کے بجائے ضائع کر رہی ہیں۔
ہر صوبے میں تھانے ہوں گے۔ ایس ایچ او صاحبان ہوں گے اور وہ لوگ بےشمار ہوں گے۔ عدالتیں ہوں گی۔ ایک صوبائی بڑی عدالت ہوگی جس کا کوئی جج صوبائی عدالت کا چیف جسٹس ہوگا۔ وہ جج صاحب نئی صوبائی حکومت کی پسند کا ہوگا۔
اس بیان کو ایک تنبیہ، ایک اعتراف یا ایک اصلاحی دعوت جس زاویے سے بھی دیکھا جائے۔اس نے ریاستی نظام کی کارکردگی پر سنجیدہ سوالات ضرور اٹھائے ہیں۔
پنجاب کے مہاراجوں کو گھوڑوں کا شوق تھا، پاکستان کے حکمرانوں کو نئے نئے نظام لانے اور سب کچھ بدلنے کا شوق ہے۔ شوق تو شوق ہے اس کی جتنی بھی قیمت ادا کرنی پڑے ادا کی جاتی ہے۔
