تحریر بولی جانے والی زبان کے مقابلے میں بہت بعد میں وجود میں آئی، تقریباً پانچ ہزار سال پہلے میسوپوٹیمیا اور مصر میں اس کے واضح شواہد ملتے ہیں۔ لکھنے سے انسان کو حساب، قانون، کہانی اور عقیدہ محفوظ کرنے میں مدد ملی
Browsing: کالم
دنیا کا پہلا بڑا شہر ارک (Uruk) موجودہ عراق میں سمجھا جاتا ہے، تقریباً 4000 قبل مسیح۔ اس کے بعد مصر میں ممفس، بلوچستان میں مہرگڑھ ،وادی سندھ میں موہنجوداڑو اور ہڑپہ (2600 قبل مسیح) آباد ہوئے۔
یہ قیدی حکومت پاکستان کو سول آمریت کی طرف دھکیل چکی ہے۔ اس حکومت کو عمران خان فوبیا سے رہا ہونا ہے اور بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم حسینہ واجد کے انجام سے سبق سیکھنا چاہئے۔
تحریک انصاف کے سوشل میڈیا اور نجی محفلوں میں مرنے مارنے کو بے چین حامی فی الوقت گھروں سے نکل کر ریاستی قوت کو للکارنے کی ہمت سے محروم ہیں۔
’’ہمیں مگرمچھ کہنے سے پہلے سو بار سوچا کریں۔ کیونکہ ہم پانی میں رہتے ضرور ہیں مگر پانی میں پانی نہیں ملاتے۔‘‘ .
ایمرجنسی یا گورنر راج کا نفاذ وقتی طورپر فقط تحریک انصاف کو دھچکا لگاتا نظر آئے گا۔ سیاست کا دیرینہ شاہد ہوتے ہوئے مصر رہوں گا کہ بتدریج ہماری سب سیاسی جماعتیں اس کے منفی اثرات سے خود کو محفوظ نہیں رکھ پائیں گی۔مکمل کالم کا لنک پہلے کمینٹ میں موجود ہے ،
قرآن نے ایک بدوی معاشرے کی زبان کو اٹھا کر اسے دنیا کی جامع ترین، فصیح ترین اور علم و حکمت کی حامل زبان بنا دیا۔ اگر دنیا سے قرآن کے اثرات کو منہا کر دیا جائے تو عربی زبان کا 70 فیصد حصہ بے معانی اور بے روح ہو کر رہ جائے گا۔
سب سے زیادہ زیادتی فن کاروں، گلوکاروں اور شوبز میں ہوتی ہے۔ پسند ناپسند یا حسن وعشق کی کوئی کہانی، ایوارڈ کی بنیاد بنتی رہی ہے۔ اکثر مستحق رہ جاتے ہیں۔
کئی مرتبہ سوال حقیقت جاننے کے لیے نہیں کیا جاتا۔ انسان پہلے فیصلہ کر لیتا ہے، پھر کسی عالم، کتاب یا رائے کی تلاش شروع کرتا ہے جو اس کے طے شدہ مؤقف کو درست ثابت کر دے۔ ایک جگہ تسلی بخش بات نہ ملے تو دوسری طرف رخ، وہاں بھی اطمینان نہ ہو تو تیسرا دروازہ۔
لاہور کے معروف لکشمی چوک کے قریب ایک مصروف ترین سڑک کے کنارے سہیل آفریدی پولیس وین سے اتر کر گھنٹے سے زیادہ دیر تک بیٹھے رہے۔ مجھ جیسے بڈھے صحافی کو اس چوک کے کسی کونے میں دیکھ کر کم از کم 15سے 20افراد سیلفیاں کھنچوانے کو رک جاتے ہیں۔ سہیل آفریدی کے جانے پہچانے چہرے کو مگر ایسی ’’پذیرائی‘‘ بھی نصیب نہ ہوئی۔
