غیر ملکی خواتین حال ہی میں گرفتار ہوئے پاکستانیوں کو ایک اور ملک میں ملی تھیں۔ انہوں نے طاقتور وزیر کے قریبی رشتے دار کو کرپٹو کرنسی کے دھندے میں سرمایہ کاری کو اکسایا۔ اس کا اعتماد جیتنے کے لئے اسے گرانقدر منافع کی رقم بھی ادا کی گئی۔ بعدازاں مگر یہ ہی خواتین سرمایہ ہڑپ کرتی نظر آئیں۔ سوال اٹھتا ے کہ ہزاروں ڈالر مبینہ طورپر ہڑپ کرلینے کے بعد وہ مزید سرمایہ کاری کے لالچ میں پاکستان آنے کو آمادہ کیوں ہوئیں؟
Browsing: کالم
پہریدار اب تھک رہے ہیں۔ ان کی لوہے کی لاٹھیاں اب ہجوم کو پیچھے دھکیلنے میں ناکام ثابت ہو رہی ہیں۔ جب وہ ایک کو مارتے ہیں تو اس کی جگہ دس نئے سر ابھر آتے ہیں۔
ے شک خارجہ امور میں ہمیں قابل تعریف کامیابیاں ملی ہیں لیکن سمجھنا چاہیے کہ مطلق العنان ریاستیں خرابیوں سے توجہ بٹانے کے لیے خارجہ محاذ پر کامیابیوں کا ڈھول پیٹا کرتی ہیں۔
خاتون سمجھی کہ پاکستان سے واقعتا کوئی دیوانہ دہشت گرد اس کے کمرے میں گھس آیا ہے۔ مجھے کمرے میں چھوڑ کر باہر نکل گئی۔ میں سمجھا پولیس بلوانے گئی ہوگی۔ وہ مگر میرے پاسپورٹ کی فوٹو کاپیاں مختلف لوگوں کو بھجوانے کے بعد ریسیپشن سے فون پر ان سے باتیں کرتی نظر آئی۔ میں کرسی پر چپک کے بیٹھا رہا۔
شاید ہنی کو سب یاد ہے۔ شاید وہ نہیں بھولی کہ اس کی ماں سات بچوں کو جنم دینے کے بعد اس دنیا سے رخصت ہو گئی تھی، اور وہ اپنے بہن بھائیوں سمیت بے یار و مددگار رہ گئی تھی۔ پھر کسی مسیحا نے اس کی قسمت بدل دی۔
اگر اس سرزمینِ وحی کے دفاع کا موقع آتا تو یقین مانیے، ہر مسلمان کو سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جانا تھا۔ اس لیے کہ یہ موقع اس کی ساری زیست کا ثمر ہوتا۔ اس کی زندگی کی معراج ہوتا۔ سرزمینِ توحید کا دفاع اس کا سب سے بڑا اعزاز ہوتا۔ یہی اسکا رستہ یہی اسکی منزل ہوتا ۔ یہی اس کی دنیا یہی اس کا دین ہوتا۔
گزشتہ ہفتے جو آخری کالم لکھا تھا اس میں تفصیل سے بیان کرچکا ہوں کہ میری سوئی ان دنوں بھارتی بنگال کے سیاسی واقعات پر اٹکی…
زندگی بھر اخلاقیات کی دھجیاں اڑائیں، لوگوں کے حقوق غصب کریں، ناپ تول میں کمی کریں، ملاوٹ کریں، جھوٹ بولیں، اور آخر میں کوئی ایسا نسخہ مل جائے کہ بس ایک چکر کاٹیں اور سیدھے جنت کے باغوں میں پہنچ جائیں۔ یہ مفت کی جنت کا وہ لولی پاپ ہے جو ہم نے خود کو دے رکھا ہے۔
کتاب کے نام میں حالیہ ایران امریکا جنگ کے تناظر میں ایک نئی معنویت پیدا ہوئی ہے ۔۔ ہمیں اس کے مطالعے کے دوران ایران ایک ابابیل کی طرح امریکی ہاتھیوں کے لشکر کو کنکریوں کے ذریعے بھس کے ڈھیر میں تبدیل کرتا نظر آتا ہے ۔۔
1984ء میں میرے بھارت روانہ ہونے سے قبل اندراگاندھی اپنے سکھ محافظوں کے ہاتھ قتل کردی گئی تھیں۔ اس کے نتیجے میں دلی کے علاوہ شمالی بھارت کے کئی شہروں میں خوفناک سکھ دشمن خونی فسادات ہوئے۔ بھارتی میڈیا اپنی سرکار کے ایماء پر دہائی مچاتا رہا کہ سکھ علیحدگی پسند تحریک کو پاکستان بھڑکارہا ہے۔
