Browsing: کالم

آج کے پاکستان میں بھی وفاقی اکائیوں میں اعتماد کا بحران، وسائل کی تقسیم، فیصلہ سازی میں شمولیت اور نادیدہ حکمران قوتوں میں غیر متناسب نمائندگی سے تعلق رکھتا ہے۔ یہی صورت مشرقی پاکستان میں تھی۔ سات کروڑ بنگالیوں پر چون ہزار کی نفری کیسے قابو پا سکتی تھی جبکہ لڑنے والا سپاہی مقامی زبان جانتا تھا اور نہ جغرافیے سے آشنا تھا۔

مسلم لیگ ن کو اس کھلبلی میں کوئی کلیئر پوزیشن لینی ہوگی، ورنہ پریشانیاں بڑھیں گی۔ عمران خان کو ملنے والا ریلیف فی الحال صرف ایک عدالتی فیصلہ ہے لیکن مسلم لیگ (ن) کے ایک سینیٹر نے اس عدالتی فیصلے کے پیچھے کسی سازش کی تلاش شروع کردی ہے۔ سینیٹر صاحب سے گزارش ہے کہ ہر جج کو ارشد ملک نہ سمجھیں۔ ہر جج کی ویڈیو نہیں بن سکتی۔

ملا بک بک ایک بار پھر سے ٹانگ اڑاتے ہوئے بولے۔اور بیچاری عوام اس خوش فہمی میں مبتلا رہتی ہے کہ اس نے جمہوریت کا پورا ٹکٹ خریدا ہے۔لیکن کچھ عرصہ بعد یہ عقدہ کھلتا ہے کہ یہ تو ٹیکسوں کی تاحیات ممبر شب تھی ۔ یہاں تو نظام والے ہر سہولت کا الگ سے ضمنی ٹکٹ بیچ کر ہمارا ‘شغل میلہ’ بنا رہے ہیں۔

اگر ایک وزیر کو اعلیٰ سول اعزاز ملتا ہے تو عوام کو یہ جاننے کا حق کیوں نہ ہو کہ اس نے اپنے عہدے کے معمول کے فرائض سے بڑھ کر ایسا کون سا کام کیا جس کی بنیاد پر اسے اس درجے کا قومی اعزاز دیا گیا؟ اگر ایک اعلیٰ سرکاری افسر کو اعزاز دیا گیا تو اس کی ایسی کون سی کارکردگی تھی جو اسے اسی شعبے کے دوسرے افسران سے ممتاز کرتی ہے؟

یہ داستان ترک روایت میں "Üç Turunçlar” کے نام سے بھی جانی جاتی ہے اور اس کی کئی علاقائی صورتیں موجود ہیں؛ بعض روایات میں نارنجی کی جگہ لیموں، انار یا دوسری اشیا بھی آتی ہیں۔ ترک لوک کہانیوں کے معروف مجموعے میں Ignác Kúnos کی جمع کردہ "The Three Orange-Peris” بھی شامل ہے۔

ایک اور دلچسپ منظر دیکھیے۔ جنہیں اعزاز نہیں ملتا وہ کہتے ہیں، "ہم تو ایوارڈ کے لیے کام ہی نہیں کرتے۔”
اور اگر اگلے سال انہی کو اعزاز مل جائے تو فرماتے ہیں، "یہ دراصل میری عمر بھر کی خدمات کا اعتراف ہے۔”
یعنی ایوارڈ مل جائے تو تاریخی فیصلہ، نہ ملے تو رسمی کارروائی!

اس کی ارمغانی پگڑی کے نیچے ماتھے پر پسینہ چمکا۔ اس نے ایک نظر صدیقہ کو دیکھا، ایک نظر گوپال کے جتھے کو اور اس کی نگاہیں زمین میں گڑ گئیں۔ اس میں گوپال سے بھڑنے کی ہمت نہیں تھی۔ کبھی نہیں تھی۔ اس کے قدم آپ ہی آپ پیچھے ہٹنے لگے۔

چوہدری رحمت علی جنوبی ایشیا میں دس نئی مسلم ریاستوں کی کامن ویلتھ قائم کرکے اکھنڈ بھارت اور رام راج کے منصوبے کو ناکام بنانا چاہتے تھے۔ انکی سوچ کو آج کچھ لوگ غیر حقیقت پسندانہ ضرور کہیں گے لیکن وہ دراصل اکھنڈ بھارت کے منصوبے کیخلاف مزاحمت کر رہے تھے جسکا نقشہ آج بھارتی پارلیمنٹ میں آویزاں ہے۔