Close Menu
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
Facebook X (Twitter)
جمعہ, اگست 14, 2026
  • پالیسی
  • رابطہ
Facebook X (Twitter) YouTube
GirdopeshGirdopesh
تازہ خبریں:
  • یوم آزادی: حب الوطنی اور غداری کے بیچ خونیں لکیر : سید مجاہدعلی کا تجزیہ
  • نام ور ترقی پسند دانشور پروفیسر امین مغل لندن میں انتقال کر گئے
  • سنگین جرائم کی آماجگاہ بنا اسلام آباد : نصرت جاوید کا کالم
  • ملتان ایئرپورٹ سے ایک دن میں 37 پروازوں کا نیا ریکارڈ
  • عمران خان کی قیدِ تنہائی ختم کی جائے : سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • کتابوں کی آخری ہچکی :وسعت اللہ خان کا کالم
  • بلوچستان کے ضلع سوراب میں 15 اکست تک رات کا کرفیو : قلات اور خضدار میں پابندیاں
  • نئے صوبے کی باتیں :امر جلیل کا کالم
  • سہ ملکی دفاعی معاہدہ: توقعات اور حقائق : سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • وزیر داخلہ محسن نقوی کا بیان وقت کی ضرورت ہے؟ پروفیسر ڈاکٹر مزمل حسین کا کالم
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
GirdopeshGirdopesh
You are at:Home»لکھاری»میں، روزنامہ ’کالک‘ اور ’عدم جونئیر‘ : یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
لکھاری

میں، روزنامہ ’کالک‘ اور ’عدم جونئیر‘ : یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم

ایڈیٹراگست 3, 20269 Views
Facebook Twitter WhatsApp Email
new logo yasir
Share
Facebook Twitter WhatsApp Email

سچ پوچھیں تو میرا ارادہ تھا کہ آج میں آپ کو اپنی ذات کے اُن پہلوؤں سے آگاہ کروں جن سے صرف میرا تحت الشعور بلکہ لا شعور واقف ہے اور بتاؤں کہ میں کس قدر عجیب و غریب، محیر العقول اور دخل در معقول قسم کی خصوصیات کا حامل انسان ہوں، مجھ میں کیسے کیسے گُن ہیں، میں کتنا عظیم ہوں، میں نے کتنی دنیا دیکھی ہے، کتنی کتابیں پڑھی ہیں، کس قسم کے مشہور لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر گپیں ہانکی ہیں، میرا ہاضمہ کتنا اچھا ہے، میں رات کو قیلولہ کر سکتا ہوں، دن میں خرگوش سے لپٹ کر سو سکتا ہوں، میرے معمولات میں ڈسپلن ہے، یعنی میں روزانہ سات بج کر چوّن منٹ پر آئینے میں اپنی شکل دیکھتا ہوں، اللہ نے چونکہ حسن بہت دیا ہے اِس لیے آٹھ بج کر چھ منٹ پر اپنی نظر بھی اتارتا ہوں، اور سب سے بڑا ہنر جو میرے پاس ہے اور جس پر آج تک میں نے غرور نہیں کیا وہ یہ کہ میں تیس سیکنڈ سے بھی کم وقت میں اپنے جوتوں کے تسمے بند کر سکتا ہوں۔
یہ تکنیک مجھے روانڈا کے ایک قصبے مائی پھیرو کی ایک لڑکی نے سکھائی تھی، وہ اللہ لوک آج بھی وٹس ایپ پر مجھے اپنی تصویریں بھیجتی ہے، کچھ عرصہ اگر اُس کا میسج نہ آئے تو میں پریشان ہو کر اسے دو چار ہزار کا ایزی لوڈ کروا دیتا ہوں اور اپنے اکاؤنٹنٹ کو کہتا ہوں کہ یہ پیسے میری زکوٰة کے کھاتے میں ڈال دو ۔ اللہ کو جان دینی ہے میں تو اپنے مخیّر ہونے کی تشہیر بھی نہیں کرتا۔ میں اگر کسرِ نفسی سے کام لوں تو بھی اپنی شخصیت کے تمام پہلوؤں کو اجاگر کرنے کے لیے مجھے کم از کم دس صفحے کالے کرنے پڑیں گے۔ میرے ایک حاسد دوست نے، جو کہ میرے تحت الشعور سے واقف ہے، یہ بات سُن کر کہا کہ اتنا ’کشٹ‘ کرنے کی بجائے اگر تم ویسے ہی دس صفحوں پر سیاہی پھیر دو تو وقت بھی بچے گا اور لوگوں کو تمہیں جاننے میں آسانی ہوگی۔ یقیناً آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ دوست کو حاسد کب لکھا جاتا ہے۔
اِس قسم کے حاسدانہ جذبات کی وجہ سے میں اپنے بارے میں لکھنے سے پرہیز کرتا ہوں مگر پھر سوچتا ہوں کہ میری یہ عاجزی مستقبل کے محققین کے لیے مشکلات کا سبب بنے گی۔ آپ جیسے صاحبانِ علم تو جانتے ہیں کہ یہ دور پبلک ریلیشننگ کا ہے، حقیقی دانشوروں کو کون پوچھتا ہے، ابھی کل ہی میری نوم چومسکی سے بات ہو رہی تھی، وہ غریب بھی یہی رونا رو رہا تھا، پچھلے سال اسے بھلوال پریس کلب والوں نے مدعو کیا تھا، ٹکٹ کا وعدہ بھی کیا تھا مگر پھر بات آ گئی ہو گئی، چومسکی کی جگہ انہوں نے اللہ دتہ لونے والے کو بلا لیا، ڈیڑھ لاکھ کی ’ویلیں‘ ہوئیں۔ میں نے چومسکی سے کہا کہ انگریزی کا محاورہ ہے کہ تم میری کمر کھجاؤ میں تمہاری کمر کھجاتا ہوں۔ با محاورہ ترجمہ کرنا میری ایک اضافی صلاحیت ہے جس پر میں نے کبھی غرور نہیں کیا۔ میرؔ کا کیا بر محل مصرع یاد آ گیا: ’میں بھی کبھو کسو کا سر پر غرور تھا۔ ‘ ویسے اِس مصرع میں زبان کی غلطیاں ہیں مگر جانے دیجیے، اساتذہ کا لحاظ بھی کوئی چیز ہے۔
اب دیکھیے نہ نہ کرتے بھی ایک آدھ صفحہ اپنی ذات کے بارے میں لکھا گیا ہے حالانکہ میرا خدا جانتا ہے کہ آج میں نے بجلی کے بڑھتے ہوئے بِلوں کے بارے میں لکھنا تھا۔ مگر میں کیا کروں، لکھنے بیٹھتا ہوں تو قلم خود بخود چلنے لگتا ہے، نے ہاتھ قلم پہ ہے نہ پا ہے رکاب میں، قلم برداشتہ غالباً اسی کو کہتے ہیں، یہ ترکیب بھی ویسے غلط ہے، بھلا داشتہ کا قلم سے کیا رشتہ! اور رہی بات بجلی کے بِلوں کی تو مجھے سمجھ نہیں آتی کہ اِس قدر واویلا کس بات کاہے، لوگ رو رہے ہیں کہ ایک ائر کنڈیشنر کے ساتھ چالیس ہزار بِل کیسے آ گیا۔ بندہ پوچھے تم اے سی چلاتے ہی کیوں، کون سا غریب بندہ ہے جو اے سی کا متحمل ہو سکتا ہے، آج سے چالیس سال پہلے کتنے گھروں میں ائر کولر بھی تھا، پنکھا ہوتا تھا اور وہ بھی تب چلتا تھا جب بجلی آتی تھی اور ہم اللہ کا شکر ادا کرتے تھے، رات کو مکان کی چھت پر تارے گِن گِن کر سوتے تھے، آج اے سی کی عیاشی بھی چاہیے اور بِل بھی دس ہزار سے کم آوے، واہ!
لیجیے صاحب، میں پھر موضوع سے بھٹک گیا، میری انہی تلخ اور زہریلی باتوں کی وجہ سے لوگ مجھ سے حسد بھی کرتے ہیں اور میرے خلاف پروپیگنڈا بھی۔ گزشتہ دنوں روزنامہ کالک میں ایک صاحب نے میرے بارے میں مضمون لکھا کہ میں خود کو طرم خان سمجھتا ہوں، کسی سے سیدھے منہ بات نہیں کرتا اور میرے مضامین میں میں میں کی اِس قدر تکرار ہوتی ہے کہ بندہ عاجز آ جاتا ہے، انہوں نے ایک مضمون کا حوالہ دے کر الزام لگایا کہ اُس میں میں نے لفظ ’میں‘ چھتیس مرتبہ استعمال کیا۔ اب بندہ اِس قسم کے loosers کو کیا جواب دے۔
جن صاحب نے یہ مضمون لکھا اُن کی نیلا گنبد میں سیکنڈ ہینڈ ٹائروں کی دکان ہے اور ساتھ میں وہ خفیہ طور پر انگریزی کے باتصویر رسالے بھی فروخت کرتے ہیں جس کی آمدنی ٹائروں سے زیادہ ہے۔ میں نے ایک مرتبہ یونہی ادب کی سرپرستی کی غرض سے دو چار رسالے خرید لیے تاکہ دیکھ سکوں کہ عالمی ادب میں کیا نئے رجحانات چل رہے ہیں، دو چار ہفتے بعد واپس کرنے گیا تو موصوف پھیل گئے، کہنے لگے یہ قابل واپسی نہیں۔ بس اسی دن سے میرے خلاف زہریلے پروپیگنڈے میں مصروف ہیں۔
رہی بات اپنے مضامین میں ’میں‘ کی تکرار کی تو جس مضمون کا موصوف نے ذکر کیا ہے اُس میں لفظ ’میں‘ چھتیس بار نہیں فقط تیس مرتبہ استعمال ہوا ہے۔ میرؔ صاحب پھر یاد آئے : ’پتا پتا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے، جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے۔ ‘ اتفاق کی بات دیکھیے جن صاحب نے مضمون میں ہرزہ سرائی کی اُن کا نام بھی محمد بوٹا ہے لیکن عدم جونئیر تخلص کرتے ہیں۔ اطلاع ہے کہ انہوں نے اب یوٹیوب چینل بھی کھول لیا ہے، نام ’ادبی احتساب‘ رکھا ہے اور سبسکرائبر گیارہ ہیں، جن میں سے چار خود موصوف کے اکاؤنٹ ہیں، تین اُن کے ٹائروں کے پرانے گاہک اور باقی چار کے بارے میں تحقیق جاری ہے۔ پہلی ویڈیو کا عنوان ہے ’ایک کالم نگار کے ذخیرۂ الفاظ کا سائنسی تجزیہ‘ ، دورانیہ اکاون منٹ۔ میرؔ یاد آ گئے : ’ہم فقیروں سے بے ادائی کیا، آن بیٹھے جو تم نے پیار کیا‘ ۔ اِس شعر کا موقع محل سے کوئی تعلق نہیں، مگر تحریر میں میرؔ کا نام آ جائے تو وزن خود بخود پیدا ہو جاتا ہے، یہ نکتہ میں نے کسی استاد سے نہیں سیکھا، خود دریافت کیا ہے اور آج تک اِس پر بھی غرور نہیں کیا۔
اِس مضمون کو ختم کرنے کو دل تو نہیں چاہ رہا۔ جیسا کہ میں نے شروع میں کہا میں اپنی عاجزانہ، مخلصانہ، معاندانہ، سلطانہ اور دردانہ طبیعت پر کم ازکم دس صفحے مزید لکھ سکتا ہوں مگر فی الحال مدیر مَسئول کی الفاظ کی قید آڑے آ رہی ہے (یہ لفظ مدیر مَسئول نہ جانے کیوں مجھے ایسے لگتا ہے جیسے مدیر کسی اسٹول پر بیٹھا ہو) ۔ آخر میں ’پنچ لائن‘ کے طور پر میں صرف اتنا ہی کہوں گا کہ میں اور میری تنہائی اکثر یہ باتیں کرتے ہیں، میں ہوتا تو کیسا ہوتا، میں یہ کہتا، میں وہ کہتا، میں اس بات پر حیران ہوتا، میں اس بات پر کتنا ہنستا، میں ہوتا تو ایسا ہوتا، میں ہوتا تو ویسا ہوتا، میں اور میری تنہائی اکثر یہ باتیں کرتے ہیں!
کالم کی دُم: اِس مضمون میں لفظ ’میں‘ تیس سے کم مرتبہ استعمال ہوا ہے، روزنامہ کالک کے مدیر صاحب نوٹ فرما لیں۔
( بشکریہ : ہم سب ۔۔ لاہور )

  • 0
    Facebook

  • 0
    Twitter

  • 0
    Facebook-messenger

  • 0
    Whatsapp

  • 0
    Email

  • 0
    Reddit

#girdopesh کالم یاسر پیرزادہ
Share. Facebook Twitter WhatsApp Email
Previous Articleسوات : تھانے کے باہر خودکش دھماکا۔۔ امن مظاہرے میں شریک 14 افراد ہلاک ۔۔ 15 سے زیادہ زخمی
Next Article کیا ریفرنڈم نئے صوبوں کی راہ ہموار کر دے گا : نصرت جاوید کا کالم
ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

مہاراجہ کی گھوڑیاں اور نئی سیاست :سہیل وڑائچ کا کالم

اگست 10, 2026

ہوئی نجات سفر میں فریب صحرا سے : وجاہت مسعود کا کالم

اگست 5, 2026

انکل انکل اگلی لاٹھی کب مارو گے؟ وسعت اللہ خان کا کالم

اگست 2, 2026

Comments are closed.

حالیہ پوسٹس
  • یوم آزادی: حب الوطنی اور غداری کے بیچ خونیں لکیر : سید مجاہدعلی کا تجزیہ اگست 14, 2026
  • نام ور ترقی پسند دانشور پروفیسر امین مغل لندن میں انتقال کر گئے اگست 13, 2026
  • سنگین جرائم کی آماجگاہ بنا اسلام آباد : نصرت جاوید کا کالم اگست 13, 2026
  • ملتان ایئرپورٹ سے ایک دن میں 37 پروازوں کا نیا ریکارڈ اگست 13, 2026
  • عمران خان کی قیدِ تنہائی ختم کی جائے : سید مجاہد علی کا تجزیہ اگست 13, 2026
زمرے
  • جہان نسواں / فنون لطیفہ
  • اختصاریئے
  • ادب
  • کالم
  • کتب نما
  • کھیل
  • علاقائی رنگ
  • اہم خبریں
  • مزاح
  • صنعت / تجارت / زراعت

kutab books english urdu girdopesh.com



kutab books english urdu girdopesh.com
کم قیمت میں انگریزی اور اردو کتب خریدنے کے لیے کلک کریں
Girdopesh
Facebook X (Twitter) YouTube
© 2026 جملہ حقوق بحق گردوپیش محفوظ ہیں

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.