رات کے کسی پہر ایک نوجوان موبائل کی سکرین پر جھکا بیٹھا تھا۔ گھر کے حالات کچھ ایسے تھے کہ چند ہزار روپے بھی اس کے لیے معمولی رقم نہیں تھے، مگر یوٹیوب پر چلنے والی ایک ویڈیو نے اچانک اس کے سامنے ایک نئی دنیا کھول دی۔ سامنے بیٹھا شخص بڑے اعتماد سے بتا رہا تھا کہ وہ ہر ماہ تین، چار پانچ ہزار ڈالر بلکہ اس سے بھی زیادہ تک کما رہا ہے۔ ساتھ ہی ڈالرز کے اعداد و شمار، آن لائن کام کی کامیابی کی کہانیاں اور خوشحال زندگی کی جھلکیاں دکھائی جارہی تھیں۔ نوجوان نے پاکستانی روپے میں حساب لگایا تو اسے اندازہ ہوا کہ یہ رقم دس، پندرہ، بیس لاکھ روپے ماہانہ تک جا سکتی ہے۔ اس نے شاید اسی لمحے سوچا ہوگا کہ اگر یہ شخص گھر بیٹھے اتنی بڑی رقم کما سکتا ہے تو میں کیوں نہیں؟ اور یہی وہ مقام ہے جہاں ایک خواب جنم لیتا ہے، جو چند ہی لمحوں بعد کسی فروخت ہونے والے ’’کورس‘‘ کا خریدار بن سکتا ہے۔
آن لائن دنیا نے بلاشبہ کمائی کے بے شمار راستے پیدا کیے ہیں۔ یوٹیوب، فیس بک، فری لانسنگ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، اے آئی اور دوسری ٹیکنالوجیز نے ایسے مواقع پیدا کیے ہیں جن کا تصور چند سال پہلے مشکل تھا۔ بہت سے لوگ واقعی ان ذرائع سے اچھی آمدنی حاصل کررہے ہیں اور ان کی محنت قابلِ تحسین ہے۔ لیکن سوال ان لوگوں سے ہے جو ہر روز اپنی ویڈیوز میں ہزاروں ڈالر کی کمائی کے خواب دکھاتے ہیں، خود کو اس شعبے کا ماہر قرار دیتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ ’’اصل راز‘‘ جاننے کے لیے ان کا کورس خریدنا ضروری ہے۔ سوال بہت سادہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے آپ کو اتنا نواز دیا ہے کہ آپ ہر ماہ تین، چار یا پانچ ہزار ڈالر کما رہے ہیں تو پھر آپ کی سب سے بڑی فکر اپنی کمائی بڑھانا ہونی چاہیے یا دوسروں کو اپنی کمائی کا راز بیچنا؟
تین ہزار ڈالر کوئی معمولی رقم نہیں۔ چار یا پانچ ہزار ڈالر تو پاکستان جیسے ملک میں ایک عام گھرانے کے لیے بہت بڑی ماہانہ آمدنی بن سکتی ہے۔ اگر واقعی کسی شخص کے پاس ایسا ہنر، ایسا طریقہ اور ایسی حکمتِ عملی موجود ہے جس سے وہ مسلسل اتنی رقم کما رہا ہے تو یہ یقیناً قابلِ مبارک باد بات ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے صلاحیت دی، مواقع دیے، رزق دیا۔ لیکن پھر دل میں ایک سوال ضرور اٹھتا ہے کہ اگر اس کے پاس واقعی ایسا علم ہے جو دوسرے لوگوں کو بھی حلال اور حقیقی طریقے سے آگے بڑھا سکتا ہے تو وہ اپنے ملک کے نوجوانوں، اپنے بھائیوں، دوستوں اور ضرورت مند لوگوں تک اس علم کو کس قدر منتقل کررہا ہے؟ کیا ہر بنیادی بات کے آگے فیس کی دیوار کھڑی کرنا ضروری ہے؟ کیا غریب نوجوان کو پہلے خواب دکھانا اور پھر اس خواب کی قیمت وصول کرنا ہی علم بانٹنے کا واحد طریقہ رہ گیا ہے؟
یہ سوال اس لیے اہم ہے کہ موبائل کی دوسری طرف بیٹھا ہر شخص ایک جیسی مالی حیثیت نہیں رکھتا۔ کسی کے لیے دس ہزار روپے ایک معمولی خرچ ہوسکتے ہیں، مگر کسی مزدور، بے روزگار نوجوان یا محدود آمدنی والے گھرانے کے فرد کے لیے یہی دس ہزار روپے مہینے کے راشن کا حصہ ہوسکتے ہیں۔ بہت سے لوگ ایسے یا اس سے بھی کہیں زیادہ مہنگے کورسز خریدنے کے لیے اپنی جمع پونجی خرچ کرتے ہیں، بعض ادھار لیتے ہیں اور بعض قرض تک لے لیتے ہیں، کیونکہ انہیں یقین دلایا جاتا ہے کہ یہ کورس ان کی زندگی بدل سکتا ہے۔ پھر جب کورس کے بعد وہ نتیجہ حاصل نہیں کرپاتے تو صرف پیسہ ضائع نہیں ہوتا، اعتماد بھی ٹوٹتا ہے، امید بھی ٹوٹتی ہے اور بعض اوقات انسان اپنے آپ کو بھی ناکام سمجھنے لگتا ہے۔
اصل مسئلہ کورس فروخت کرنے میں نہیں۔ اگر کوئی شخص واقعی محنت کرکے ایک جامع کورس تیار کرتا ہے، اپنا تجربہ سکھاتا ہے، وقت دیتا ہے اور مناسب معاوضہ لیتا ہے تو اس میں کوئی غیر معمولی بات نہیں۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب کورس کو علم کے بجائے کامیابی کی ضمانت بنا کر پیش کیا جائے۔
’’یہ کورس لے لیں، کمائی شروع ہوجائے گی‘‘
’’یہ راز سیکھ لیں، ڈالر آنا شروع ہوجائیں گے‘‘
’’ہم نے فلاں شخص کو کامیاب کردیا، آپ بھی ہوجائیں گے‘‘
ایسے دعوے اس نوجوان کے لیے بہت خطرناک ہوسکتے ہیں جو پہلے ہی مالی دباؤ میں ہے۔
یہ خدشہ محض ہمارے معاشرے کی سوچ نہیں۔ امریکہ کا فیڈرل ٹریڈ کمیشن، یعنی FTC، جو صارفین کو کاروباری دھوکے اور گمراہ کن دعووں سے بچانے کے لیے کام کرتا ہے، آن لائن بزنس اور کوچنگ پروگراموں کے بارے میں بارہا خبردار کرچکا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ ایسے پروگراموں سے محتاط رہنا چاہیے جو کم محنت میں بڑی آمدنی، یقینی کامیابی یا ’’ثابت شدہ نظام‘‘ کے ذریعے دولت بنانے کے دعوے کریں۔ FTC نے ایسے معاملات میں کارروائی بھی کی ہے جہاں لوگوں کو بڑی آمدنی کے خواب دکھا کر بزنس کوچنگ یا آن لائن پروگرام فروخت کیے گئے۔ ایک مثال میں لوگوں کو بڑی مالی کامیابی کے دعووں کے ذریعے ایک بزنس مواقع پروگرام کی طرف راغب کیا گیا، جبکہ FTC نے اس قسم کے آمدنی کے دعووں کے ثبوت اور ان کے عام نتائج ہونے کی اہمیت پر زور دیا ہے۔
سوال یہ نہیں کہ کوئی شخص کتنا جھوٹ بول رہا ہے یا کتنا سچ۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا وہ آپ کو ایک مکمل و حقیقی تصویر دکھا رہا ہے؟ اگر کسی کورس کے ذریعے ایک شخص نے پانچ ہزار ڈالر کمائے تو یہ بھی بتایا جانا چاہیے کہ اس کامیابی تک پہنچنے میں کتنے مہینے لگے، کتنی محنت ہوئی، کتنا سرمایہ خرچ ہوا اور اسی کورس کے کتنے خریدار اس نتیجے تک نہیں پہنچ سکے۔ ایک کامیاب طالب علم کی تصویر پورے بیچ کی کامیابی کا ثبوت نہیں ہوسکتی۔ اگر ایک ہزار لوگوں نے کورس خریدا اور صرف دس کامیاب ہوئے تو ان دس کی کہانی دکھا کر باقی نو سو نوے لوگوں کی حقیقت چھپا دینا قاری کو مکمل تصویر نہیں دیتا۔
اسلامی اخلاقیات کے تناظر میں بھی رزق اللہ تعالیٰ کی عطا ہے اور علم ایک امانت۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر علم مفت بانٹنا لازم ہے یا کسی ماہر کو اپنی محنت کا معاوضہ لینے کا حق نہیں۔ لیکن جب کسی کے سامنے اس کی مجبوری، اس کی غربت اور اس کے خواب موجود ہوں تو الفاظ کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے۔ کسی کو یہ یقین دلانا کہ کامیابی تقریباً یقینی ہے، جبکہ حقیقت میں راستہ مشکل، غیر یقینی اور مسابقت سے بھرپور ہو، محض مارکیٹنگ نہیں رہتی، یہ اخلاقی سوال بھی بن جاتا ہے۔
شاید ہمیں آن لائن کمائی کے اس پورے منظرنامے کو نئے انداز سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ہر وہ شخص جو کیمرے کے سامنے بیٹھ کر ڈالرز کے اعداد و شمار بتاتا ہے، ضروری نہیں کہ دھوکا دے رہا ہو، اور ہر کورس بیچنے والا بھی لازماً فراڈ نہیں۔ لیکن ہر دعوے کو آنکھیں بند کرکے مان لینا بھی دانش مندی نہیں۔ سوال کرنا چاہیے کہ کمائی کا ثبوت کیا ہے، دعویٰ کتنے عرصے کا ہے، اخراجات کیا ہیں، کامیابی کتنے لوگوں کو ملی اور ناکام ہونے والوں کی تعداد کتنی ہے؟
اور شاید سب سے دلچسپ سوال آخر میں یہی بچتا ہے کہ اگر کسی شخص نے واقعی آن لائن کمائی کا ایسا خزانہ دریافت کرلیا ہے جس سے وہ ہر ماہ تین، چار یا پانچ ہزار ڈالر کما رہا ہے، تو وہ اس خزانے سے سونا نکال رہا ہے یا لوگوں کو خزانے کا نقشہ بیچ کر زیادہ کما رہا ہے؟
یہ فرق معمولی نہیں۔ کیونکہ پہلی صورت میں ہمارے سامنے ایک کامیاب آن لائن کاروباری شخص ہے، جبکہ دوسری صورت میں ایک ایسا کاروباری ماڈل بھی ہوسکتا ہے جس میں اصل پراڈکٹ ’’آن لائن کمائی‘‘ نہیں بلکہ آن لائن کمائی کا خواب ہو۔
اور خواب، خاص طور پر غریب آدمی کا خواب، بہت قیمتی ہوتا ہے۔ اسے بیچنے سے پہلے صرف مارکیٹ کا نہیں، ضمیر کا حساب بھی کرنا چاہیے۔
جمعہ, اگست 28, 2026
تازہ خبریں:
- خواب بیچنے والے آن لائن فراڈیوں کی کہانی : کمالیات / کمال ایوب صدیقی کا کالم
- نواز شریف نے الیکشن ہارنے والے بیرسٹر افتخار گیلانی کو وزیر اعظم آزاد کشمیر نامزد کر دیا
- عہدِ حاضر ، جین زی کی بگڑتی عادات اور والدین کی ذمہ داریاں : پروفیسر صابر جروار کا کالم
- 14نومولود بچے جاں بحق ۔۔ ذمہ دار کوئی نہیں: سید مجاہد علی کا تجزیہ
- ایک اجنبی سے چند سوالات : یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
- نوزائیدہ ریاست، نوزائیدہ بچے اور کمزورطبقات : ڈاکٹر علی شاذف کا کالم
- مجھے میرا بچہ واپس کر دو…“ بین کرتی ماں اور ریاست کا ضمیر : شہزاد عمران خان کا کالم
- پمز ہسپتال اسلام آباد کی نرسری میں آتشزدگی ، 14 نومولود جاں بحق
- ایوان صدر میں پیران طریقت کا ملاکھڑا : وجاہت مسعود کا ناقابل اشاعت کالم
- خاموش گھر : نبیلہ عصمت کا افسانہ

