ملتان سے سیر و تفریح کے لیے مری جانے والا یہ خاندان نو اور دس جون کی درمیانی شب دو بجے کے قریب ملتان سے روانہ ہوا تھا اور اُن کی گاڑی کو حادثہ 10 جون کی دوپہر 12 بجے کے قریب پیش آیا۔
Author: ایڈیٹر
جب ہیلی کاپٹر گرنے کا واقعہ رونما ہوا تو اس کے بعد پولیس کنٹرول پر ایس ایس پی کی طرف سے وائر لیس پر یہ پیغام چلایا گیا کہ علاقے میں کسی کو بھی اس واقعے کی ویڈیو نہ بنانے دی جائے اور اگر لوگ اپنے گھروں کی چھتوں پر سے اس کی ویڈیو بنا رہے ہیں تو ان کو روکنے کے لیے جو ممکن ہو سکے اقدامات کریں۔
مقامی پولیس کے اہلکار کے مطابق پولیس اہلکار چند گھروں کی چھتوں پر بھی گئے جہاں پر کچھ نوجوان جلے ہوئے ہیلی کاپٹرز اور امدادی کاموں کی ویڈیوز بنا رہے تھے۔
ہزاروں مظاہرین راولا کوٹ کے قرب میں جمع ہیں لیکن حکومت انہیں دارالحکومت مظفر آباد پہنچنے سے روکنے کے انتظامات کررہی ہے۔ شہروں میں کرفیو کی صورت حال ہے اور مساجد سے اعلان کرایا جارہا ہے کہ لوگ گھروں میں رہیں۔ پورے خطے میں بداعتمادی اور تصادم کی تکلیف دہ صورت حال موجود ہے۔
ترجمان موٹروے پولیس کے مطابق حادثے کا شکار ہونے والے افراد کا تعلق ایک ہی خاندان سے تھا، بدقسمت خاندان ملتان سے مری کی جانب جا رہا تھا، وین میں زیادہ تعداد بچوں کی تھی، جن کی تعداد 10 تھی، وین اس جانب گری جہاں سے دروازے کھولنا ممکن نہ تھا۔
اسے عصرِ حاضر کے سماجی اور فکری ادب میں ایک قابلِ توجہ اضافہ قرار دیا جا سکتا ہے۔
یہ کتاب آپ رضی الدین رضی صاحب کے ادارے گردوپیش پبلی کیشنز ملتان سے منگوا سکتے ہیں۔
رابطہ نمبر
03186780423
ٹرمپ نے مزید کہا، ’یہ اس کا ردعمل ہے جو انھوں نے گزشتہ رات ہمارے ہیلی کاپٹر کے ساتھ کیا، اور میں سمجھتا ہوں کہ ردعمل بہت مضبوط ہونا چاہیے، اور موجودہ ردعمل اسی کی نمائندگی کرتا ہے۔‘
آصف خان کے بھائی ظریف خان نے بی بی سی کو بتایا کہ اُن کا بھائی گذشتہ ایک، ڈیڑھ ماہ سے بہت زیادہ پریشان تھا۔
متعلقہ تھانے کے ڈیوٹی افسر محمد ارشد نے بی بی سی کو بتایا کہ اس واقعے کی تفتیش سیریس کرائمز انویسٹیگیشن ونگ کے حوالے کی گئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آ رہی کہ محمد آصف کو مبینہ طور پر بعض لوگوں کی جانب سے ہراساں کیا جا رہا تھا،
اصل مسئلہ فورسز کی تعداد نہیں بلکہ ان کے مقاصد اور کارکردگی ہیں۔ عوام کو تحفظ، انصاف اور سہولت چاہیے۔ اگر کسی ادارے کی تشکیل واقعی عوامی مسائل حل کرنے کے لیے ہو تو یقیناً قابلِ ستائش ہے، لیکن جب عام آدمی کو ہر طرف وردی ہی وردی نظر آنے لگے تو اس کے ذہن میں سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ کہیں اگلا نمبر ہمارا تو نہیں؟
تاجروں کے ایک دھڑے کے صدر حاجی عبدالرزاق کا کہنا ہے کہ اس مرتبہ کے حالات ماضی کے مقابلے میں مختلف ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اب کوئی زبردستی دکان بند نہیں کروا سکتا۔
انھوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ نے انھیں یقین دہانی کروائی ہے کہ کوئی زبردستی ان کی دکانیں بند نہیں کروا سکتا۔ انھوں نے کہا کہ ہڑتال سے روزانہ ایک ارب روپے کا نقصان ہوتا ہے اور اس ہڑتال کی وجہ سے ہزاروں افراد جو مختلف ہوٹلوں میں یومیہ اجرت کی بنیاد پر کام کرتے ہیں، گھروں میں بیٹھ گئے ہیں۔
ایران نہ صرف اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا بلکہ اس کے وجود کو ناجائز قرار دے کر اسے ختم کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔ ایران کے نئے رہبر اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای نے بھی امریکہ کے ساتھ مذاکرات اور امن کی کوششوں کے درمیان اس دعوے کو دہرانا ضروری سمجھا ہے۔
