یہ سفاکیت کوئی مذہبی گروہ نہیں دکھا سکتا۔ ہاں، سرمایہ دار کے بارے میں ہم جانتے ہیں کہ وہ اپنے مفادات حاصل کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔ کہیں سرمایہ دار مذہب کو استعمال تو نہیں کر رہا؟ کہیں دنیا کے معصوم لوگ اسی طبقے کے ہاتھوں گمراہ تو نہیں ہو رہے؟
Author: ایڈیٹر
خامنہ ای کے جنازے پر آنسو بہانے والوں کا ایک سمندر موجود تھا لیکن اس سوگ کو پاسداران کی شدت پسندی کا تصدیق نامہ نہیں سمجھا جاسکتا۔ نہ ہی ان جلوسوں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ایرانی عوام بنیادی سہولتوں سے محروم ہوکر بھی موجودہ رجیم کا ساتھ دیتے رہیں گے۔
این سی سی آئی اے کی ٹیم سخت سیکیورٹی میں ریحان طارق کو جوڈیشل مجسٹریٹ نعیم وٹو کی عدالت میں لے کر پہنچی، جہاں گاڑی سے اترتے ہی ملزم کی جانب سے "پاکستان زندہ باد” کے نعرے لگائے گئے۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ حالیہ آپریشنز کے دوران مارے جانے والے شدت پسندوں میں سے زیادہ تر افغانستان کے شہری ہیں اور یہ سب ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت کیا جا رہا ہے۔
بی اے جمال روزنامہ خبریں کے سابق سینئر کارکن ندیم جمال اور نعیم جمال کے والد تھے ۔ ان کا گھر سمیجہ آباد بالمقابل ڈیرہ اللہ ہو واقع ہے نمازہ جنازہ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا رابطہ نمبر03462862633
حملوں سے پہلے، امریکی محکمہ خزانہ نے منگل کے روز اس استثنیٰ کو منسوخ کر دیا تھا جس کے تحت ایران پر عائد تیل فروخت کرنے کی پابندیوں میں عارضی نرمی کی گئی تھی۔
ذرائع کے مطابق شارجہ میں طیارے کی مرمت Northern techniques نامی کمپنی نے کی یہ کمپنی پاکستان کے ایک سابق مشیر ہوابازی کی بتائی جاتی ہے۔
غیر ملکی خواتین حال ہی میں گرفتار ہوئے پاکستانیوں کو ایک اور ملک میں ملی تھیں۔ انہوں نے طاقتور وزیر کے قریبی رشتے دار کو کرپٹو کرنسی کے دھندے میں سرمایہ کاری کو اکسایا۔ اس کا اعتماد جیتنے کے لئے اسے گرانقدر منافع کی رقم بھی ادا کی گئی۔ بعدازاں مگر یہ ہی خواتین سرمایہ ہڑپ کرتی نظر آئیں۔ سوال اٹھتا ے کہ ہزاروں ڈالر مبینہ طورپر ہڑپ کرلینے کے بعد وہ مزید سرمایہ کاری کے لالچ میں پاکستان آنے کو آمادہ کیوں ہوئیں؟
روہی ٹی وی نے جہاں وسیب کے محرومیوں اور مسائل کو حکامِ بالا تک پہنچایا، وہاں ملتان کے تاریخی و ثقافتی حسن اور سرائیکی شاعری و ادب کو بھی ڈیجیٹل اسکرینز کے ذریعے ایک نئی زندگی دی۔ملک بھر کے صحافیوں نے روہی ٹی وی کی بندش پر احتجاج کیا ہے اور اسے صحافیوں کا قتلِ عام قرار دیا ہے ۔
مانگی بلوچستان کے دار الحکومت کوئٹہ سے شمال مشرق کی جانب تقریباً 85 کلومیٹر کے فاصلے پر ضلع زیارت اور ضلع ہرنائی کے سرحدی علاقے میں واقع ہے۔
حکومتِ بلوچستان یہاں اربوں روپے کی لاگت سے مانگی ڈیم تعمیر کر رہی ہے، جس کا مقصد کوئٹہ کو درپیش پانی کی قلت پر قابو پانا ہے۔
مانگی کے علاقے میں ماضی میں بھی حملے ہوتے رہے ہیں۔
