ذاتی پریشانیوں کے گرداب میں بھی ان کے ذکر سے گریز کرتا ہوں۔ بطور صحافی مگر روزمرہ زندگی میں چند تکلیف دہ مراحل سے گزرتے ہوئے احساس ہوتا ہے کہ جو مسئلہ مجھے در پیش آیا وہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے ذاتی نہیں ، اجتماعی بھی ہوسکتاہے۔ اس مسئلے کا ذکر قارئین کو خبردار کرنے کے علاوہ اس کے تدارک کی راہ ڈھونڈنے میں بھی مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔
میری بیوی کو ترکہ میں جو مکان ملا اس کو توڑ کر اس کے حصے میں جو زمین کا ٹکڑا آیا اس پر ہم دونوں نے عمر بھر کی محنت سے بچائی رقم کی بدولت نہایت چاؤ سے مکان تعمیر کروایا ہے۔ اس کی تعمیر کے دوران یہ امید باندھی کہ بیٹیوں کی شادی اور رخصت کے بعد یہ گھر ہمارے بڑھاپے کا دارالسکون ہوگا۔ عمر کے آخری حصوں میں داخل ہوتے ہی مگر شدت سے احساس ہونا شروع ہوگیا ہے کہ باہرسے خوب صورت اور بارْعب دِکھتے مکان میں تنہا رہنا روزانہ کی بنیاد پر نت نئی مشکلات کے منہ میں دھکیل دیتا ہے۔ اپنا ’’کوٹھی نما‘‘ مکان تعمیر کروانے کے بجائے لہٰذا بڑھاپے کی جانب بڑھتے ہوئے ہمیں کسی اپارٹمنٹ میں فلیٹ لے کر رہنا چاہیے تھا۔رہائشی مشکلات کے علاوہ دورِ حاضر میں ایسے جرائم بھی نمودار ہورہے ہیں جو ہمارے خواب وخیال میں بھی نہیں آئے تھے۔ ٹیلی فون پیغامات یا گفتگو کے ذریعے ا?پ کے بینک اکاؤنٹ تک رسائی ہماری سوچ کے مطابق ناممکن تھی۔ چند ماہ قبل مگر میری بیوی اس سے محض ربّ کے کرم سے بال بال بچی۔
متوسط طبقے کے اکثر دیہاڑی دار یا ماہوار آمدنی والے گھرانوں کی طرح گھر تعمیر کرواتے ہوئے ہم نے حکومت کی جانب سے نہایت اہتمام سے متعارف کروائی نیٹ میٹرنگ کی پیشکش سے استفادہ کی ٹھان لی تھی۔ وہ نصب ہوگیا تو چند مہینوں میں ایسے بل آئے جو حکومت کو بجلی خریدنے کے حوالے سے ہمارا مقروض بتاتے۔ نہایت فخر سے ہم اپنے دوستوں کو وہ بل دکھاتے ہوئے نیٹ میٹرنگ کی جانب راغب کرنے کی کوشش کرتے۔ نیٹ میٹر نصب ہوجائے تو تاروں کے ایک جال کے ذریعے شمسی توانائی سے پیدا ہوئی بجلی حکومتی سسٹم میں جاتی ہے۔ سورج غروب ہوجانے کے بعد مگر ان ہی تاروں سے بجلی کی تقسیم کار کمپنی کی بجلی آپ کے گھر فراہم ہوتی ہے۔ نیٹ میٹرنگ کے گرد لگی تاروں کا مجھے اس کے سوا اورکسی مصرف کا علم نہیں تھا۔
پیر کا دن بدقسمتی سے ہمارے لئے ایک مشکل دن تھا۔ صبح اٹھ کر کالم لکھ کر دفتر بھجوادینے کے بعد ہم دونوں کو طبی مسائل کی تشخیص کے لئے مختلف ٹیسٹ کروانا تھے۔ ان سے فراغت کے بعد آرام کی طلب تھی۔ ’’مچھندر‘‘ مگر روٹی کمانے کے لئے ٹی وی شو کی تیاری کے لئے روانہ ہوگیا۔ دفتر پہنچے گھنٹہ گزرا تو بیوی نے اطلاع دی کہ بجلی چلی گئی ہے۔ آئیسکو سے معلوم کرلوں کہ کب تک بحال ہوگی۔ آئیسکو والوں نے خوشگواررویے کے ساتھ مسئلہ اور اس کا حل ڈھونڈنے کے لئے کچھ وقت مانگا۔ میرے گھر کا پتہ بھی معلوم کیا۔ چند لمحوں بعد انہوں نے فون پر اطلاع دی کہ جس سیکٹر اور گلی میں رہتا ہوں وہاں سے کوئی اور شکایت نہیں آئی ہے۔ اس کے باوجود آئیسکو کی ٹیم دس منٹ بعد گھر پہنچ جائے گی اور معلوم کرنے کی کوشش کرے گی کہ صرف میرے ہاں ہی بجلی کیوں موجود نہیں۔ براہِ راست ٹی وی سکرین پر رونما ہونے سے 35منٹ قبل مجھے آئیسکو کے ایک شفیق افسر نے نہایت مہذب لہجے میں اطلاع دی کہ ہمارے گھر میں نصب نیٹ میٹر سے منسلک تاروں کو کوئی کاٹ کر چلایا گیا ہے۔ نشے کے عادی افراد ایسی وارداتیں کئی مہینوں سے کررہے ہیں۔ میرے ہاں بجلی کی ترسیل آئیسکو کے سسٹم کی وجہ سے نہیں رکی۔ اسے بحال کرنے کے لئے لہٰذا مجھے اپنے تئیں بازار سے بجلی کا کوئی کاریگر بلاکر معاملہ حل کرنا ہوگا۔ آبنائے ہرمز کی تاریخ اور اس کی بندش کی وجہ سے کھڑے ہوئے بحران کے بارے میں گزشتہ کئی ہفتوں سے پروفیسرانہ کالم لکھنے والے اس خاکسارکو سمجھ نہ آئی کہ نشے کی لت میں مبتلا چوری چکاری کے عادی افراد کو نیٹ میٹر کے گرد تاروں کے بنے جال سے کیا ملتا ہوگا۔ عام آدمی ویسے بھی گھروں کے باہر نصب میٹروں کے گرد لگی تاروں کو ہاتھ لگانے سے گھبراتا ہے۔ دفتر میں موجود نوجوان ساتھی میری حیرت سے حیران ہوئے۔ مطلع کیا کہ نیٹ میٹرنگ تودور کی بات ہے۔ اسلام آباد اور راولپنڈی کی پوش مارکیٹوں کو بجلی فراہم کرنے والی موٹی موٹی تاروں کو بھی اکثر کاٹا جارہا ہے۔ گھر کے باہر نصب تاروں کا جال توڑنے والے کو بازار میں 5سے 10ہزار روپے دلواسکتا ہے جو اس کی چند ’’خوراکوں‘‘ کے لئے کافی ہوتا ہے۔ ایک نوجوان ساتھی نے میری سادہ لوحی پر حیران ہونے کے بجائے فون پر الیکٹریشن کی تلاش شروع کردی۔ بالآخر ایک بندہ مل گیا۔ اسے میرے گھر کا ایڈریس دیا اور اس کا وہاں جلد از جلد پہنچنا یقینی بنایا۔ ٹی وی شو ختم کرکے گھر پہنچا تو پسینے میں شرابور مسئلہ حل کرنے میں مصروف تھا۔ اندھیرے میں اسے ہر تار کا مختلف فیزوں سے تعلق مگر سمجھ نہیں آرہا تھا۔ دو گھنٹوں کی مشقت کے بعد اس نے رات بارہ بجنے میں 5منٹ پر گھر میں بجلی کو جزوی طورپر بحال کیا اور صبح کی روشنی طلوع ہونے کے بعد باقی کام نمٹانے کا وعدہ کرکے چلا گیا۔ تاروں کی چوری کے بعد حبس کے موسم میں جس یو پی ایس پر انحصار تھا وہ بھی جواب دے چکا تھا۔ بجلی جزوی طورپر بحال ہوئی تو تھکن سے چور جسم کو بھی نیند نہ ا?ئی۔ صبح اٹھا تو جسم بخار سے تپ رہا تھا۔ یہ کالم لکھنے کی ہمت نہیں تھی۔ اسی باعث بدھ کی صبح دیرینہ قارئین سے معافی کی درخواست کرنا پڑی۔
جس اذیت سے گزراہوں اس کے ذکر سے گریز کا ارادہ تھا۔ بجلی کی ترسیل بحال کرنے والے کاریگر سے گفتگو کی بدولت مگر علم ہوا کہ اسلام آ باد کے ہر سیکٹر میں تقریباََ روزانہ کی بنیاد پر نیٹ میٹر کے گرد لپٹی تاریں کاٹی جارہی ہیں۔ میں شرمسار ہوں کہ برسوں سے اخبارات کا پلندہ نہایت توجہ سے ختم کرنے کے باوجود مجھے ’’جرم‘‘ کی اس قسم کا کبھی علم نہیں ہوا۔ ذاتی تجربہ نہ ہوتا تو شاید آج کے کالم میں اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کرتا کہ وزیر داخلہ محسن نقوی ایران کے اچانک دورے کے بعد آبنائے ہرمز کے حوالے سے خیر کی کوئی خبر لاسکتے ہیں یا نہیں۔
قارئین کے دلوں میں چھوٹے جرائم کی وجہ سے جمع ہوئی بھڑاس کو ذہن میں رکھتے ہوئے یہ کالم اسلام آباد پولیس کی ’’بھرپور مذمت‘‘ کے لئے بھی وقف کرسکتا تھا۔ اس کے نتیجے میں سوشل میڈیا پرہوس شہرت کو تسلی دیتے شیئرز اور لائیکس بھی مل جاتے۔ بجلی کی ترسیل بحال ہوئی تو گھر میں نصب کیمروں کی مدد سے مگر دریافت ہوا کہ جس شخص نے تاریں کاٹیں وہ اس ماہرانہ انداز میں نیٹ میٹر کی جانب بڑھاکہ اس کا چہرہ شناخت کرنے کے لئے جدید ترین فرانزک آنکھ درکار ہوگی۔ چہرہ شناخت ہو بھی گیا تو تاریں کاٹ کر پانچ سے دس ہزار روپے وصول کرکے نشے کی خوراک لینے والے کا پولیس سراغ کیوں لگائے۔ اسلام آباد میں گزشتہ چند برسوں سے سنگین ترین جرائم کی تعداد میں خوفناک حد تک اضافہ ہورہا ہے۔ ان کے ذمہ داروں کا سراغ لگانے پر توجہ کیوں نہ دے۔ تلخ حقیقت یہ ہے کہ خرگوشوں کی طرح اولاد پیدا کرنے کی وجہ سے ہم بالآخر اس مقام پر پہنچ چکے ہیں جہاں زندہ رہنے یا نشے کی لت پورا کرنے والے چھوٹے موٹے جرائم سے بچاؤ ممکن ہی نہیں۔ ورثے میں ملے رقبوں پر بڑھاپے کے لئے ’’دارالسکون‘‘ تعمیر کرنے والوں کو ایسے فلیٹوں میں رہنے پر اکتفا کرنا ہوگا جہاں حفاظت اور بجلی، گیس کی ترسیل کا نظام دوسروں کے ہاتھوں میں ہوتاہے۔
( بشکریہ : نوائے وقت )
جمعرات, اگست 13, 2026
تازہ خبریں:
- نام ور ترقی پسند دانشور پروفیسر امین مغل لندن میں انتقال کر گئے
- سنگین جرائم کی آماجگاہ بنا اسلام آباد : نصرت جاوید کا کالم
- ملتان ایئرپورٹ سے ایک دن میں 37 پروازوں کا نیا ریکارڈ
- عمران خان کی قیدِ تنہائی ختم کی جائے : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- کتابوں کی آخری ہچکی :وسعت اللہ خان کا کالم
- بلوچستان کے ضلع سوراب میں 15 اکست تک رات کا کرفیو : قلات اور خضدار میں پابندیاں
- نئے صوبے کی باتیں :امر جلیل کا کالم
- سہ ملکی دفاعی معاہدہ: توقعات اور حقائق : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- وزیر داخلہ محسن نقوی کا بیان وقت کی ضرورت ہے؟ پروفیسر ڈاکٹر مزمل حسین کا کالم
- ’ مجتبیٰ خامنہ ای جسمانی لحاظ سے مکمل صحت مند‘ ہیں: ایرانی صدر کا سات گھنٹے طویل ملاقات کے بعد دعویٰ

