Browsing: نصرت جاوید

ہ آصف علی زراری کے قریب ترین دوستوں میں سے ایک ڈاکٹر ذوالفقار علی مرزا کو رحمن ملک مرحوم کے رویے کی وجہ سے ڈرامائی پریس کانفرنسوں کے بعد آصف علی زرداری سے دوری اختیار کرنا پڑگئی تھی۔ رحمن ملک مگر اپنے عہدے پر قائم رہے۔ وزارت داخلہ میں ’’کچھ تو ایسا ہے‘‘ کہ جو بھی شخص وہاں بیٹھا ہو ’’مستقل‘‘ ہوا محسوس ہوتا ہے۔

غیر ملکی خواتین حال ہی میں گرفتار ہوئے پاکستانیوں کو ایک اور ملک میں ملی تھیں۔ انہوں نے طاقتور وزیر کے قریبی رشتے دار کو کرپٹو کرنسی کے دھندے میں سرمایہ کاری کو اکسایا۔ اس کا اعتماد جیتنے کے لئے اسے گرانقدر منافع کی رقم بھی ادا کی گئی۔ بعدازاں مگر یہ ہی خواتین سرمایہ ہڑپ کرتی نظر آئیں۔ سوال اٹھتا ے کہ ہزاروں ڈالر مبینہ طورپر ہڑپ کرلینے کے بعد وہ مزید سرمایہ کاری کے لالچ میں پاکستان آنے کو آمادہ کیوں ہوئیں؟

1984ء میں میرے بھارت روانہ ہونے سے قبل اندراگاندھی اپنے سکھ محافظوں کے ہاتھ قتل کردی گئی تھیں۔ اس کے نتیجے میں دلی کے علاوہ شمالی بھارت کے کئی شہروں میں خوفناک سکھ دشمن خونی فسادات ہوئے۔ بھارتی میڈیا اپنی سرکار کے ایماء￿ پر دہائی مچاتا رہا کہ سکھ علیحدگی پسند تحریک کو پاکستان بھڑکارہا ہے۔

اپریل 2022ء سے قائم حکومتی بندوبست کو مگر پیر ہی کی شام فیصل واوڈا صاحب نے ناکام ونکما ثابت کرنے کے لئے جارحانہ بیٹنگ کرتے ہوئے کشتوں کے پشتے لگادئے۔ ہمارے حکمرانوں کی خودستائشی کا سحر 24گھنٹے تک بھی برقرار نہ رہ پایا۔مکمل کالم کا لنک پہلے کمینٹ میں موجود ہے

ممکنہ ہنگاموں کے خوف سے ہزاروں کیمروں کی تنصیب سے ’سیف‘ بنائے اسلام آباد کی مرکزی شاہراہوں پر لگائے پولیس ناکے شہریوں کو تسلی دینے کے بجائے مزید خوفزدہ بنادیتے ہیں۔ سرکار مائی باپ کو مگر اس حقیقت کا ہرگز ادراک نہیں ہے۔

ٹی وی سکرینوں پر جناتی معاشی اصطلاحوں کے استعمال سے پاکستان کے ہر شہری کو ٹیکس چوری کا مجرم قرار دیتے ہوئے آئی ایم ایف کے سدھائے ’’ماہرین معیشت‘‘ مجھے ایک روز بھی اس حقیقت کا احساس کرتے سنائی نہیں دیتے کہ پاکستان میں نچلے متوسط طبقے سے آگے بڑھنے کی امید چھن چکی ہے۔

’’ترقی پسندی‘‘ کے سب سے بڑے نمائندے -فیض احمد فیض بھی اپنے قبیلے کے دباؤ میں آکر عدالت میں یہ بیان دینے کو مجبور ہوئے کہ منٹو کے افسانے میں چند سطریں فحش شمار کی جاسکتی ہیں۔

مسلم لیگ (نون) اور پیپلز پارٹی انتخابی حوالوں سے ہماری سب سے تجربہ کار جماعتیں ہیں۔ میں ان سے اس بچگانہ سوچ کی توقع نہیں رکھتا کہ ووٹر کی عمر 18سال سے بڑھانا ان کی انتخابی کامیابی یقینی بناسکتا ہے۔ 28ویں ترمیم کے ذریعے ووٹر کی عمر بڑھاتے ہوئے یہ جماعتیں بلکہ انتخابی میدان میں اترتے ہوئے شکست کے خوف سے مفلوج ہوئی نظر آئیں گی۔