ملتان /لاہور : بھارت کی جانب سے آبی جارحیت کا سلسلہ جاری ہے، دریائے ستلج میں مزید پانی چھوڑ دیا گیا جبکہ دریائے چناب میں بھی پانی کا بہاؤ برار رہنے سے جنوبی پنجاب کے حالات تشویشناک ہیں۔
وزارت آبی وسائل نے متعلقہ تمام اداروں کو ہنگامی الرٹ جاری کر دیا۔
بھارتی ہائی کمیشن نے دریائے ستلج میں دو مقامات پر اونچے درجے کے سیلاب سے آگاہ کیا ہے، دریائے ستلج میں ہریکے اور فیروز پور کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا خطرہ ہے۔
ملتان ڈویژن کی صورحال
ملتان کے قریب بہنے والے دریائے چناب میں شیر شاہ بند پر پانی کا بہاؤ برقرار ہے تاہم آئندہ 24 گھنٹوں میں پانی اترنا شروع ہوگا، جس پر شیر شاہ بند کو توڑنے کا فیصلہ تاحال فیصلہ ملتوی کر دیا گیا اور ضرورت پڑنے پر ٹیکنیکل کمیٹی بریچ کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کرے گی۔
ملتان کی تحصیل جلالپور پیر والہ میں تاحال صورتحال خطرناک ہے اور ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ جلالپور پیر والا میں شہر کو بچانے والا عارضی بند پر بھی پانی کا بہاؤ بڑھ گیا جبکہ کئی لوگ تاحال پانی میں گھرے ہوئے ہیں جلال پور پیر والا کے سیلاب متاثرین ک خیمہ بستیاں بھی شہر میں ہی قائم کی گئی ہیں ۔
دوسرا بڑا سیلابی ریلہ ہیڈ محمد والا کے مقام سے گزر رہا ہے جبکہ ہیڈ محمد والا کے مقام پر گرے والا چوک پر نصب گیج پر پانی کی سطح گرنے لگی۔
پی ڈی ایم اے پنجاب
پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق مون سون بارشوں کی شدت میں کمی واقع، دریاؤں کے بہاؤ میں مزید اضافے کا امکان نہیں۔ دریاؤں کے بالائی علاقوں میں بھی مون سون بارشوں کا سلسلہ رک چکا ہے۔
ڈی جی عرفان علی کاٹھیا کا کہنا تھا کہ مون سون بارشوں کا 10 واں اسپیل ختم ہو چکا ہے، پنجاب میں آئندہ ہفتے بڑی بارش کا امکان نہیں ہے۔
دریائے ستلج گنڈا سنگھ والا کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب اور پانی کا بہاؤ 2 لاکھ 30 ہزار کیوسک ہے۔ سلیمانکی کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب اور پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 37 ہزار کیوسک ہے، مرالہ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 62 ہزار کیوسک ہے۔
دریائے چناب میں خانکی ہیڈ ورکس کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب اور پانی کا بہاؤ 98 ہزار کیوسک ہے۔ قادر آباد کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب اور پانی کا بہاؤ 98 ہزار کیوسک ہے۔ ہیڈ تریموں کے مقام پر پانی کا بہاؤ 2 لاکھ 50 ہزار کیوسک ہے۔
ہیڈ پنجند کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب اور پانی کا بہاؤ 4 لاکھ 75 ہزار کیوسک ہے۔
دریائے راوی جسڑ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 26 ہزار کیوسک اور شاہدرہ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 31 ہزار کیوسک ہے۔ بلوکی ہیڈ ورکس کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب اور پانی کا بہاؤ 80 ہزار کی کیوسک ہے جبکہ ہیڈ سدھنائی کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب اور پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 21 ہزار کیوسک ہے۔
وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایات کے پیش نظر محکمے الرٹ ہیں۔ شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کیلئے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔
( بشکریہ : ایکسپریس نیوز )
بدھ, اگست 26, 2026
تازہ خبریں:
- خاموش گھر : نبیلہ عصمت کا افسانہ
- سوشل میڈیا پرتضحیک اور کردار کشی : لائیکس کے لیے شخصیت داؤ پر نہ لگائیں ۔۔ پروفیسر صابر جروار کا کالم
- آمریت پہاڑ نہیں: محض ریت کی دیوار ہے : فہیم عامر کا تجزیہ
- عمران خان کی بیماری پر سیاست اور حکومت کی بدحواسی :سید مجاہد علی کا تجزیہ
- راولپنڈی میں خاتون کی باتھ روم سے لاش برآمد، شوہر اور ملازم گرفتار
- ہائبرڈ اور آمرانہ نظام مستقل نہیں چلتے : ارشد بٹ ایڈووکیٹ کا تجزیہ
- مجھے عمران خان کا حامی کس نے بنایا ؟ حکمرانوں سے ایک سوال :کمالیات / کمال ایوب صدیقی کا کالم
- معاشی خللِ تَوَجُّہ یا انحرافِ توجہ؟؟ : کیا ہم پر قرضوں کا بوجھ واقعی کم ہو گیا ہے ؟ فہیم عامر کا کالم
- انتہا پسندوں کے خلاف کارروائی کے بعدپاکستان میں گستاخی کے مقدمات میں دو تہائی کمی آئی : رائٹرز کی رپورٹ
- حکومت نے خان کی ہسپتال یاترا کرا دی : رات گئے چیک اپ علی الصبح سخت سیکیورٹی میں جیل واپس

